پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ وطن عزیز کے شمالی علاقہ جات، صوبہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو گزشتہ چند روز سے شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ، کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب جیسی آفات کا سامنا ہے۔ ان آفات سے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، سیکڑوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ لاکھوں عوام متاثر ہوئے ہیں۔ کلاؤڈ برسٹ کی اصطلاح پہلے بہت کم سننے میں آتی تھی لیکن گزشتہ تین چار برس سے کلاؤڈ برسٹ کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کلاؤڈ برسٹ ایک نایاب اور طاقتور موسمی واقعہ ہے جس میں ایک گھنٹے میں 200 ملی میٹر سے بھی زیادہ بارش ہوتی ہے۔ بادلوں کا پھٹنا کہلانے والی یہ صورت حال عموماً پہاڑی علاقوں میں شدید گرج چمک کے ساتھ ہوتی ہے جس سے سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ حالیہ مون سون کے سیزن میں کلاؤڈ برسٹ کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔
موسم میں آنیوالی یہ تبدیلیاں دراصل بنی نوع انسان کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی وجہ سے ہیں جنہوں نے زمین کے قدرتی ماحول پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی سرگرمیوں کے باعث گرین ہاؤس گیسز کے اخراج نے زمین کے درجہ حرارت میں بہت اضافہ کر دیا ہے اس کی وجہ سے دنیا کے تمام براعظموں میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلیاں (IPCC) کے مطابق پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں ہوتا ہے حالانکہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس لحاظ سے حکومت پاکستان کا عالمی برادری سے ماحولیاتی انصاف کی فراہمی کا مطالبہ بالکل بجا ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود افسوس اس بات پر ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار نہیں کر پا رہے۔ جنوری تا اگست 2025 ہمیں ملکی سطح پر کئی بڑے سانحات کا سامنا کرنا پڑا جن کا براہ راست تعلق موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ مئی کے دوران سندھ میں گرمی کی شدید لہر آئی۔ آغا خان یونیورسٹی کی مطالعاتی رپورٹ کے مطابق اس لہر کے نتیجہ میں لگ بھگ 1200 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس ریکارڈ گرمی میں جیکب آباد کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔ اس عرصے میں گلیشیئر کے پگھلنے سے وجود میں آنے والی جھیل کے پھٹنے سے وادی ہنزہ میں کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ اسی طرح کا واقعہ ماہ جون میں گلگت بلتستان میں بھی پیش آیا جس کے نتیجے میں تقریباً 25 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ گزشتہ چند روز سے صوبہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقے شدید بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں جس سے سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہمالیہ کے علاقے میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جو درجہ حرا رت میں اضافہ کے باعث دنیا کے دیگر خطوں میں پائے جانے والے گلیشیئرز کی نسبت زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے ایسی 33 جھیلوں کی نشاندہی کی ہے جن کے پھٹنے سے کسی بھی وقت تباہ کن سلاب آ سکتا ہے۔ وطن عزیز کے شمالی علاقوں میں ایسے سیلاب اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔
ہمیں جہاں اپنے جغرافیائی محلے وقوع کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید منفی اثرات کا سامنا ہے وہاں ہنگامی صورتحال میں ادارہ جاتی سطح پر فوری اقدامات نہ کرنے سے بھی نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں۔ دریائے سوات میں 22 جون کو آنے والے اچانک سیلاب کے نتیجہ میں 27 افراد کی ہلاکت کا سانحہ ہمارے سامنے ہے جنہیں بچانے کی خاطر بروقت اقدام نہ کیا جا سکا۔ یہ سانحہ حکومتی اداروں کی غفلت کے ساتھ ساتھ عوام کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا بھی عکاس ہے۔ سیاحت کا شوق مون سون میں ہی پورا کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ وطن عزیز کے قدرتی ماحول کی بربادی کے ضمن میں یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 25 ہزار ہیکٹر رقبے سے جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے اس میں بہت بڑا کردار ٹمبر مافیا کا ہے۔ اس مافیا اور افسران کی ملی بھگت سے ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ کسی بھی ملک کے پچیس فیصد رقبہ پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ شرح محض تین یا چار فیصد ہے۔ یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اس تناسب سے وسائل میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آبادی نے اس اندھا دھند اضافے کو قومی ترقی، معاشی منصوبہ بندی اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے خطرناک اثرات کا حامل قرار دیتے ہیں۔
یہ موسمیاتی تبدیلیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ موسم سرما میں سموگ کے باعث لاہور اور کراچی کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہونے لگتا ہے۔ مون سون کے دوران دیہات تو دیہات شہری علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ دریاؤں کی گزرگاہوں کے آس پاس تجاوزات کے باعث سیلابی پانی جذب کرنے کے حوالے سے دریاؤں کی صلاحیت میں کمی واقع ہو چکی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2022ء کے موسم برسات میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے کم و بیش 80 لاکھ افراد کو نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے ان منفی اثرات کا سلسلہ برقرار رہا تو 2050ء تک دو کروڑ پاکستانیوں کو اندرون ملک ہجرت پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہ صورتحال شہری علاقوں پر آبادی کے مزید دباؤ کا باعث بنے گی جو پہلے ہی رہائشی مکانات کی قلت، پینے کے صاف پانی کی کمیابی، صحت کی ناکافی سہولیات اور بے روزگاری جیسے بھیانک مسائل میں مبتلا ہیں۔ مذکورہ بالا واقعات و سانحات مستقبل میں پیش آنے والے حالات کا آئینہ ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں بنائیں۔ ایسا کرنا ہماری بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگر موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے منفی اثرات پر قابو پانے کیلئے فوری اور مؤثر حکمت عملی نہ بنائی گئی تو اس کے خوفناک نتائج برآمد ہوں گے۔ لہٰذا کچھ کریں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔
موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کیلئے بڑا خطرہ
09:06 AM, 20 Aug, 2025