احمد جاوید کی یادیں کبھی ختم نہیں ہوں گی، میرے سگے بیٹے نے شاید میرا اتنا خیال نہیں رکھا ہو گا جتنا احمد جاوید نے رکھا، وہ اپنے والد عادل رشید کے دوستوں کو بھی اُتنی ہی عزت اور محبت دیتا تھا جتنی وہ اپنے والد کو دیتا تھا، کئی معاملات میں وہ جب عادل رشیدکی کوئی بات من و عن تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتا وہ مجھ سے کہتے اور میں وہ بات اُس سے من و عن منوا لیتا تھا، وہ کسی لمحے مجھے نہیں بُھولتا، آج میں کینیڈا اور امریکہ روانگی کے لیے اپنا کچھ سامان نکال رہا تھا مجھے ایک گلاسز ملے جو پچھلے برس یورپ روانگی سے پہلے اُس نے مجھے دئیے تھے، کہنے لگا ”انکل آپ جو بلیک گلاسز لگاتے ہیں وہ آپ کے چہرے پر سُوٹ نہیں کرتے، آپ یہ گلاسز لگایا کریں“، میں نے کہا ”احمد میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں، تمہیں پتہ ہے میں جو گلاسز لگاتا ہوں وہ بڑے عام اور سستے سے ہیں، تم نے اپنی بات بڑے سلیقے سے کہہ دی کہ انکل جو گلاسز آپ لگاتے ہیں آپ کے چہرے پر سُوٹ نہیں کرتے“، وہ مُسکرانے لگا، میں نے وہ گلاسز اُسی وقت لگا لیے، اُس نے اپنے موبائل سے میری چند تصویریں بنائیں، گھر جا کر وہ گلاسز میں نے اپنے بیٹے راحیل کو دکھائے اُس نے جو قیمت اُن کی مجھے بتائی میں نے فون پر اُس سے کہا ”بیٹا میں نے تو اتنے قیمتی گلاسز لگانے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا، تم نے بڑی زیادتی کی“، وہ بولا انکل آپ کے لیے جان بھی حاضر ہے“، میں نے اُسے بہت دعائیں دیں، وہ انگلش میڈیم سکول کا پڑھا ہوا تھا، پر ایسا رکھ رکھاو¿ اُس کے رویوں میں تھا یوں محسوس ہوتا تھا وہ ایسے دیسی سکول میں پڑھا ہے جہاں تعلیم سے زیادہ تربیت پر زور تھا، آج ہمارے اکثر انگلش میڈیم سکولوں میں صرف تعلیم دی جاتی ہے اور جس طرح کی دی جاتی ہے معاشرے میں سارا بگاڑ اُسی وجہ سے ہے، چند روز پہلے ایک مشہور انگلش میڈیم سکول میں پڑھنے والے تیرہ چودہ سالہ بچے کو ”بھرا ہوا سگریٹ“ پینے سے میں نے روکا وہ بولا ”انکل اس میں بُری بات کیا ہے؟ یہ تو میری ٹیچر بھی پیتی ہے“، اب اکثر انگلش میڈیم سکولوں کے ٹیچرز بچوں کو یہی کچھ سکھاتے ہیں، احمد جاوید پر انگلش میڈیم سکول کا رنگ کم از کم اس حوالے سے بالکل نہیں چڑھا تھا اُسے رشتوں کی تمیز تھی، بڑے چھوٹے کا لحاظ تھا، ایک بار اُس کے ایک گارڈ نے اپنے والد کے ساتھ بدتمیزی کی، پہلے اُس نے گارڈ کو ڈانٹا، پھر اُسے اُس کے والد کے پاس لیجا کر اُن کے قدموں میں گرا کر اُن سے معافی منگوائی بلکہ خود بھی مانگی، مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا معمولی سی تکرار پر ظالموں نے اُسے موت کے گھات اُتار دیا، یوں محسوس ہوتا ہے یہ ایک خواب ہے جو طویل ہو گیا ہے، ابھی آنکھ کُھلے گی اور میں شُکر ادا کر رہا ہوں گا یہ ایک خواب تھا، کاش یہ واقعی خواب ہوتا، بلکہ خواب بھی نہ ہوتا، میں ایسے کسی خواب کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا جو حقیقت میں ہو گیا، میاں عادل رشید بڑے دلیر بڑے صابر شاکر انسان ہیں، اپنے بیٹے کی موت پر وہ روئے نہ ہی اُس کے بعد ابھی تک کوئی آنسو اُن کی آنکھوں میں ہم نے دیکھا، اُن کے سارے آنسو اللہ نے شاید ہماری آنکھوں میں ڈال دئیے ہیں، ابھی پچھلے دنوں احمد جاوید کے مرکزی قاتل کی ہائی کورٹ سے ضمانت ہوئی، لوگوں نے اس پر دُکھ کا اظہار کیا وہ فرمانے لگے ”میری زندگی کا سب سے بڑا دُکھ میرے اکلوتے بیٹے کا قتل تھا، اُس کے اصلی ملزم کی ضمانت پر رہائی اُس سے بہت چھوٹا دُکھ ہے“، جج صاحب نے وہی انصاف کیا جو ہماری عدلیہ کی شناخت ہے، اب اس کے بعد مقتول کی ماں، دادی، بیوہ اور تین سالہ بچے کو جھولیاں پھیلا پھیلا کر یہ بددعا دینے سے کوئی نہیں روک سکا کہ جنہوں نے بھی ظالموں اور قاتلوں کی ”سہولت کاری“ کی اللہ اُنہیں بھی اُن کی اولاد کے حوالے سے ایسی ہی آزمائشوں میں ڈالے تاکہ کسی کے درد کا اُنہیں اندازہ ہو، مقتول کی فیملی کو زیادہ دُکھ اس بات پر ہے قتل کے بعد مقتول کی اندھا دُھند کردار کشی کرائی گئی، اس کے لیے کرائے کے ایک ”کریمینل رپورٹر“ کی خدمات حاصل کی گئی، میں اکثر یہ کہتا اور لکھتا ہوں پاکستان میں ایک ادارہ ایسا نہیں بچا جو کسی کے ساتھ ہونے والے کسی ظلم یا زیادتی پر اُس کی داد رسی کر سکے“، این سی سی آئی لاہور نے میرے اس گمان پر گہری ضرب لگائی ہے، اس ادارے نے مقتول کی کردار کشی کرنے والے ”کریمینل رپورٹر“ کے خلاف ہر قسم کا پریشر رد کر کے ایف آئی آر دی اور عدالت سے وارنٹ گرفتاری بھی حاصل کیے، جس کے بعد اب وہ معافی تلافی کے لیے اپنے جیسے کچھ ”کریمینلز“ کو بیچ میں ڈال رہا ہے، معافی تلافی کے لیے اُس کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے وہ مقتول کی قبر پر جا کر ایک وڈیو یا وی لاگ بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالے اس اعتراف کے ساتھ کہ جو کچھ اُس نے کہا سب جھوٹ تھا، ممکن ہے اُس کے اس عمل سے مقتول کے وارثوں کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہو جائے، ہو سکتا ہے کسی عدالت سے اُس کی بھی ضمانت ہو جائے مگر مقتول کی فیملی نے اُسے جو بدعائیں دی ہیں اُن کے اثرات سے بچنے کے لیے ابھی بھی وقت ہے وہ صدق دل سے اللہ سے معافی مانگے، توبہ کرے کہ صحافت میں اپنی غلیظ روایات کو مستقل طور پر اب وہ ترک کر دے گا، اس عمل سے اُس کے مکروہ چہرے پر تھوڑی بہت مسلمانیت بھی شاید دکھائی دینے لگے گی، اللہ کی عدالت لگنے سے پہلے پہلے یہ معاملہ دُنیا میں ہی اُسے نبٹا لینا چاہیے، اپنے بیٹے احمد جاوید کے لیے میاں عادل رشید نے اپنے آبائی علاقے اچھرہ میں ایک شاندار دفتر بنوایا تھا، اس کی تزئین و آرائش مکمل ہونے پر وہ اُسے سرپرائز دینا چاہتے تھے، پر اُس نے پہلے ہی ایسا سرپرائز والد کو دے دیا جس کا تصور بھی اُنہوں نے نہیں کیا تھا، اب اس خوبصورت دفتر میں ایسے کارخیر کیے جاتے ہیں جن کا اجر یا ثواب مجھے یقین ہے روزانہ مقتول احمد جاوید کو پہنچ جاتا ہو گا، کاش میرایہ پیغام بھی کسی طرح اُس تک پہنچ جائے ”احمد جو گلاسز تم نے مجھے دئیے تھے وہ میرے چہرے پر واقعی بہت سُوٹ کرتے ہیں، پر دُکھ یہ ہے تم اب مجھے نہیں دیکھ سکتے۔“
احمد جاوید کے گلاسز
09:05 AM, 21 Apr, 2026