اداروں کی مخالفت کا حلالی جواز ؟

09:05 AM, 21 Apr, 2026

حادثاتی طور پر پید ا ہونے والی تحریکوں اور تنظیموں کو دوسرا حادثہ ختم کردیتا ہے لیکن سائنسی بنیادوں پر ان کے خاتمے کی وجہ غیر سائنسی اصولوں پر ان کاظہور ہوتا ہے۔ تفتیشی ذہن سماج کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے کیونکہ سوال اٹھانے والے ہی مثبت مکالمے کو رواج دے کر سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ جس سماج میں ابھی سرچ ہی نہیں ہوئی وہاں ریسرچ کا وجود بذات خود ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے ۔ گوگل اور چیٹ جی پی ٹی سے معلومات لے کر اپنی ریسرچ کاحصہ بنانے والے چونکہ دوسرے معتبر 8رائع سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے اُن کے اٹھائے ہوئے سوال ہی اپنی بنیاد میں غلط ہوتے ہیں اور اُس کا نکالا ہو ا نتیجہ اُس سے بھی غلط ۔جن لوگوں کا گلہ یہ ہے کہ میں نے عمران خان کا ساتھ کیوں چھوڑا بہتر تھا کہ وہ اس سے پہلے یہ دریافت کرتے کے میں نے چوبیس سال اُس کا ساتھ کیوں دیا ؟ تحریک انصاف میں ہماری سیاسی جماعت پاکستان قومی محاذ آزادی ¾ جس کے چیئرمین معراج محمد خان تھے ضم ہوئی تھی اوریہ ایک جمہوری ¾تنظیمی فیصلہ تھا جسے تسلیم کرنا جمہوریت پسندی کی اولین شرط ہوتی ہے ۔ عمران نیازی جمہوری ورکروں سے انقلابی بلکہ انارکی کام لینا چاہتا تھا جو کسی صورت قابل ِ قبول نہیں تھا اورایسا اُس نے اپنے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد سوچا ¾ممکن ہے یہ سب کچھ بہت پہلے اُس کے ذہن میں ہو لیکن مشرف کا ساتھ ¾ طالبان کی حمایت ¾ فیض و قمر کی طفیل اقتدار لینا اور بُری زبان استعما ل کرنے کے علاوہ دنیا بھر کے متروک سیاستدان پارٹی میں اکھٹے کرلینااُس کی بڑی غلطیاں تھیں ۔ جو سمجھانے کے باوجود وہ سمجھنے کیلئے تیار نہیں تھا وہ صرف قوم کے ساتھ ہی نہیں اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ بھی جھوٹ بولتا تھا ۔
ایک گروہ کو پاک فوج کی حمایت پر تکلیف ہے جو پاکستان میں بھی موجود ہیں اور بیرون ملک بھی ¾ لیکن اب ان کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اپنی فوج کی حمایت نہ کی جائے تو پھرکیا بھارت یا اسرائیل کی فوجوں کوخوش آمدید کہا جائے؟ضیاءاورمشرف کی حمایت ایک لمحے کیلئے بھی نہیں کی کیونکہ وہ پاکستان کے آئینی سربراہ ہی نہیں تھے لیکن کسی آئینی آرمی چیف کی مخالفت کس طرح کی جا سکتی ہے؟ جبکہ وہ پاکستان کے وقار کو دن بہ دن بلند کررہا ہو ۔یہ یقینا اُس سوچ کی موت ہے جس نے آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے ہی اُس کے خلاف کمپیئن شروع کردی تھی ۔میاں شہباز شریف کے سیاسی اورقمر جاوید باجوہ کے عسکری اعمال نامے میں اگرکوئی کارِ خیر ہے تو وہ صرف عاصم منیر جیسے عظیم جرنیل کی تعیناتی ہے جس کی وجہ سے آج پاکستانی وقار کے ساتھ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہے ہیں ۔ایسا جرنیل جس کی تعریفین کرتا ٹرمپ نہیں تھکتا ¾ایرانی اُس پربلا کا اعتماد کرتے ہوئے اُس کے ترانے بنوا کرگا رہے ہیں ¾ سعودیہ نے حرمین کا دفاع اُس کے سپرد کردیا ہے ۔گلف اپنے دفاع کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ جدید دنیا میں دفاع انڈسٹری بن چکا ہے جس سے امریکہ نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا اورامریکی فائدہ جاپان پر ایٹمی حملے کے بعد ہوا جب جاپان نے اپنا دفاع ہی پچاس سال کیلئے امریکہ کے حوالے کردیا لیکن پاک بھارت جنگ نے بھارت کا دفاعی بھرم نیست و نابود کردیا اور ایران امریکہ جھڑپوں میں امریکی دفاع بھی دنیا کے سامنے برہنہ رقص کررہا تھا ۔ آرمی چیف نے کسی کو ایران نہیں بھیجا بلکہ ایرانیوں کو ایک ہولناک جنگ کی تباہی سے بچانے کیلئے خود غیر محفوظ فضاﺅں کوچیرتا ہوا تہران جا پہنچا ۔اب ایسی فوج کی مخالفت کرنے کا کوئی عقلی اورحلالی جواز بتا دیا جائے تومیں کل سے ہی مخالفت شروع کردوں گا لیکن آپ کے پاس سوائے منفی پروپیگنڈا کے کچھ بھی نہیں ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ دم توڑ رہا ہے ۔
وفاقی وزیر عبد العلیم خان کے ساتھ میرا تعلق بھائیوں جیسا ہے اوریوتھیا برگیڈ کو سب سے زیادہ تکلیف بھی اسی بات کی ہے ۔لاہورکی ہر وہ محفل جہاں میری موجودگی ہو عبد العلیم خان کے ذکر اورکارناموں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ۔میں نے عبد العلیم خان کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔وہ یا توآپ کے ساتھ ہے یا پھر آپ کے ساتھ نہیں ۔اُس میں بناوٹ ¾ مصنوعی پن یا دوستوں کو دھوکا دینے کا وصف قدرت نے رکھا ہے نہیں ۔ عبد العلیم خان بارے میں اپنی بہترین معلومات اورریسرچ کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک کوئی وفاقی وزیرِ مواصلات ایسا نہیں آیا جس نے اپنی وزارت اربوں روپے کی منافع بخش بنانے کے علاوہ پاکستان بھر میں نئی سڑکوں کے جال پھیلانے کے علاوہ این ایچ اے کو زیادہ فعال اورخدمت گزار محکمہ بنایا ہو ۔خوشگوار اعلان تویہ بھی ہے کہ شیر شاہ سوری کی بنائی جی ٹی روڈ کو وہ موٹر وے بنانے کا اعلان کرچکا ہے۔ موجود ہ حالات میں وفاق کو صوبوں کے درمیان اعتمادکا رشتہ قائم کرنے رکھنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا ہو گا اوریہ کام عبد العلیم خان پوری جانفشانی سے کررہے ہیں ۔ اس وقت تمام وفاقی وزیروں کو عبد العلیم خان کی طرح بہت سے محاذوں پر جدو جہد کرنا ہو گی ۔وہ صرف اپنی وزارت کو ہی نہیں دیکھ رہے بلکہ اس کے ساتھ وہ روز بروز مقبول ہوتی ہوئی اپنے سیاسی 
جماعت آئی پی پی کو بھی لیڈ کررہے ہیں اور عبد العلیم خان کے حکم پر ہی اُن کی تنظیم تھل سے لےکر گلگت بلتستان تک پھیلتی چلی جا رہی ہے ۔لاہورکا این اے 117 جہاں سے عبد العلیم خان نے قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا وہاں چوبیس گھنٹے سابق صوبائی وزیر میاں خالد محمو د جو آئی پی پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل بھی ہیں ¾ دن رات حلقے میں عوام کی خدمت پرمامور ہیں ۔خدا کو جان دینی ہے بچپن سے میں بھی شاہدہ کو دیکھ رہا تھا یہاں لوگ کتنی کتنی بار ایم این اے اور ایم پی اے بنتے رہے ہیں لیکن عبد العلیم خان نے اس علاقے کا نقشہ بدل کررکھ دیا ہے اوراس کیلئے میں میاں خالد محمود کو بھی اُن کی دن رات کی محنت پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی عبد العلیم خان اس کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی ہونے والے اچھے اوربُرے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے اُس ملک کے سفیرسے ملاقات کرکے اپنے دلی خیالات اُ ن تک لازمی پہنچاتے ہیں جو حقیقت میں پاکستان کے عام آدمی کے جذبات ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایران جنگ کے دوران ایرانی سفیرسے اور ترکیہ میں سکول کے بچوں پرہونے والی فائرنگ کے بعد ترکیہ کے سفیر سے ملاقات ۔عبد العلیم خان فاﺅنڈیشن زندگی کے کتنے ہی اہم شعبوں میں دن رات اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔سیلاب میں پارک ویو میں نقصان اٹھانے والوں کا ازالہ کر دیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے ۔عبد العلیم خان باوفا انسان ہے سو اُسے ساتھی بھی باوفا میسر آئے ہیں ۔ ایسے عظیم پاکستانیوں بارے نہ لکھنا بدیانتی ہوگی۔

مزیدخبریں