مذاکرات کا دوسرا دور اور بڑھتی کشیدگی....

09:05 AM, 21 Apr, 2026


خطے میں ایک مرتبہ پھر جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں۔ دونوں فریق مذاکرات کی بات تو کررہے ہیں مگر اپنے موقف پر بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد پھر مرکز نگاہ ہے۔ ایک مرتبہ پھر مذاکراتی راو¿نڈ ہونے جارہے ہیں جس میں پاکستان دونوں میں صلح صفائی کی مخلصانہ کاوشوں کا اعادہ کرتے ہوئے تحمل سے کام لینے کا مشورہ دے گا۔ ان مذاکرات سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے دورے سے آگاہ کیا اور عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے صدر اسلامی جمہوریہ ایران مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور تقریباً 45 منٹ جاری رہنے والی اس خوش گوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران دونوں رہنماو¿ں نے خطے کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے صدر پزشکیان اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھیجا، جس کی قیادت سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔شہباز شریف نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت مختلف عالمی رہنماو¿ں کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ روابط خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کے حق میں اتفاق رائے پیدا کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوئے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم نے رواں ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت پر بھی شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناو¿ں کا بھی اظہار بھی کیا۔ صدر پزشکیان نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا امن کی کوششوں میں پاکستان کے مضبوط عزم پر شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہوں گے۔ اسی گفتگو میں مذاکرات کے حوالے سے بھی کاوشیں کی گئیں۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر اپنی مخلصانہ کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے خطے میں امن کی خواہش کا اظہار کیا اور تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ خطے میں جنگ بندی سے پہلے ہی امن معاہدے کی کاوشوں کے تسلسل میں اسحاق ڈار بھی خاصے متحرک دکھائی دیئے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔اسحاق ڈار نے رابطے میں خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور رابطہ ناگزیر ہے۔رابطے میں دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ادھر اگر امریکی حکام کی با ت کریں تو امریکی بھی اس معاہدے میں پاکستان کی کاوشوں کا تذکرہ کر رہے ہیں َ۔ ہر طرف پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف ہو رہی ہے۔ واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاو¿س کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔ اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاو¿س کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز شریک ہوئیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے فون پر رابطہ کیا جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی ، انہوں نے بھی تجاویز دیں۔ واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہورہی ہے۔۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اس ہفتے کسی ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، تاہم تاحال مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیاتھا۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ طور پر جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاو¿س نے سچویشن روم میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ادھر اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے ، مذاکرات سے قبل تمام وسائل مہیا کر دیئے گئے ہیں ، تیاریاں مکمل ہیں ، شہر کے داخلی راستوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پاکستان ان حالات میں جو کچھ بھی کرسکتا ہے ، کر رہا ہے ، اپنا کردار نبھا رہا ہے اپنی مخلصانہ کاوشوں سے دنیا میں داد سمیٹ رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین بھی جنگ بندی پر عمل کریں ، پاکستان کی کاوشوں کے مطابق امن معاہدے کی جانب آئیں تاکہ دنیا ایک بڑی جنگ سے محفوظ رہ سکے اور توانائی بحران پر قابو پا یا جا سکے۔

مزیدخبریں