بعض اوقات اس قدر جامد
آدمی کا دماغ ہو جائے
زور جتنا بھی ڈالیے اس پر
بات کوئی سمجھ نہیں آئے
بہت عرصے بعد یہ کیفیت دوبارہ طاری ہوئی ہے جس کا اظہار اوپر درج اپنے قطعے میں کیا ہے۔ آنکھوں کے سامنے بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کس پر بات کی جائے اور کیا بات کی جائے۔ دماغ سوچ سوچ کر تھک گیا ہے اور قلم لکھ لکھ کر گھِس چکا ہے لیکن امریکہ ایران جنگ بندی کے حوالے سے پایا جانے والا ابہام دور ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ دونوں فریقوں کے درمیان دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات کا پہلا دور تو مکمل ہو گیا تھا لیکن دوسرے دور کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا۔ پاکستان جنگ بندی کو عارضی سے مستقل میں تبدیل کرانے کے لیے کوشاں ہے لیکن ایران نے امریکی رویے کے پیش نظر مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہ آنے کا اعلان کر دیا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں میدان اب بھی گرم ہے۔ ایک طرف سے ایران نے آبنائے کو بند کر رکھا ہے اور دوسری طرف سے امریکہ نے اس کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ایک طرف دنیا اس بند آبنائے کو کھلوانے کے لیے کوشاں ہے تو دوسری طرف حوثیوں نے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی تیاریاں جاری ہیں تو دوسری طرف ایرانی بحری جہاز پر امریکی فوجیوں کے داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایسے میں آدمی اس موضوع پر کیا بات کرے۔
یوں بھی ہر شخص کی زبان پر آج کل یہی ایک موضوع ہے، اخبارات کے اہم ترین صفحات اور ٹی وی چینلز کا سارا ایئر ٹائم اسی پر صرف ہو رہا ہے کہ آج کل بس یہی ایک خبر تو عالمی منظر نامے پر چھائی ہوئی ہے۔ 28فروری کو اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت ہو یا میناب کے گرلز سکول پر افسوسناک حملہ، ایران کی جانب سے اسرائیل پر تباہ کن جوابی حملے ہوں یا امریکی بحری بیڑے کی وقتی پسپائی، خلیجی ملکوں کا ایرانی حملوں پر رد عمل ہو یا امریکہ کے اتحادیوں کا ٹرمپ کی حمایت سے انکار، پوپ لیو کی نصیحتیں ہوں یا ٹرمپ کی حضرت عیسیٰؑ کا روپ دھارنے کی بھونڈی کوشش۔ امریکی نائب صدر اور ایرانی وفد کی پاکستان آمد ہو یا وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کے مشرق وسطیٰ اور ایران کے دورے۔ اس جنگ کے ہر پہلو پر تو لکھا جا چکا ہے۔
بہت سے اندازے لگائے جا چکے، کئی پیش گوئیاں کی جا چکیں۔ دنیا میں امن قائم ہونے کی آرزو بھی ہے اور اس کے لیے دعاﺅں کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن جنگ کے خاتمے کا کسی کو یقین نہیں۔ جنگ جانیں لیتی ہے، تباہی مچاتی ہے اور تباہی سے مراد ہر طرح کی تباہی ہے، انسانی جانوں کی بھی، تعمیرات کی بھی، معیشت کی بھی۔ اور معیشت صرف متحارب فریقوں کی متاثر نہیں ہوتی بلکہ پوری دنیا کی متاثر ہوتی ہے، جیسے کہ اس وقت ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس سے دنیا میں ان دونوں چیزوں کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے اور ان کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے کرائے بڑھے ہیں اور اس کے نتیجے میں روزمرہ ضرورت کی ہر چیز کئی گنا مہنگی ہو گئی ہے۔ دنیا بھر کے لوگ مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور اسی لیے پوری دنیا اس جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے تاکہ حالات معمول پر آئیں لیکن دونوں فریق ابھی تک جنگ کے مکمل خاتمے پر آمادہ نظر نہیں آ رہے۔ سو اب جنگ پر مزید کیا بات ہو سکتی ہے سوائے اندازے لگانے کے یا دعائیں کرنے کے۔
جنگ کے علاوہ بھی بہت سے موضوعات ہیں لیکن ان میں بھی اب کوئی کشش نہیں رہی۔ مقامی سیاست بھی آج کل ٹھنڈی پڑی ہوئی ہے۔ حکومت کی ساری توجہ جنگ رکوانے کی کوششوں پر ہے اور مخالف جماعتیں بھی عالمی امن اور ملک کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ہر روز حکومتیں گرانے والے کچھ اینکرزی اب تجزیہ کاری چھوڑ کر اداکاراو¿ں کے معاشقوں کی تفصیلات جاننے کے لیے فکرمند نظر آتے ہیں بلکہ بین الاقوامی امور کے کچھ ایسے "ماہر" بھی میدان میں آ گئے ہیں جنھیں یہ تک علم نہیں کہ پاکستان کا وزیر خارجہ کون ہے۔ بات تو ان موضوعات پر بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ فرصت کے مشغلے ہیں جبکہ اس وقت دنیا پر تیسری جنگ عظیم کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ایسے میں چھوٹے چھوٹے موضوعات پر کیا لکھا جائے۔
بات کرنے کو تو جرم و سزا جیسے موضوعات بھی ہیں اور حکومتی بدانتظامیاں بھی۔ ادب و فن پر بھی بہت کچھ کہا سنا جا سکتا ہے اور کھیلوں کے موضوع پر بھی خامہ فرسائی کی جا سکتی ہے لیکن بات پھر وہی کہ جنگ سے دھیان ہٹے تو آدمی کوئی اور بات کرے لیکن جنگ پر بھی کرے تو کیا بات کرے۔ بس یہی وہ چیز ہے جو سمجھ میں نہیں آ رہی۔
اب تو بس یہی دعا ہے کہ آج عارضی جنگ بندی کا آخری دن مستقل جنگ بندی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ خدا کرے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ مزید جنگ اور بے امنی نہ ہو اور خدائے بزرگ و برتر بنی نوع انساں کو مزید تباہی اور بربادی سے محفوظ رکھے۔
جمود
09:04 AM, 21 Apr, 2026