جنگی ماحول ، عدم اعتماد ، شر انگیزی آپسی اختلافات یہ وہ بادل ہیں جو امن کے سورج کی راہ میں حائل ہیں۔ اور رواں ماہ کے گزشتہ عشرے سے دنیا امید اور ناامیدی کی سی کیفیت کا عملی طور پر شکار ہے۔ اس عدم اعتمادی کے سبب بنتا ماحول کبھی بگڑ رہا یے اور کبھی یوں محسوس ہوتا یے کہ کوئی راہ ضرور نکلے گی جس کی منزل پر امن دنیا ہوگی۔ آج جب پیر 20 اپریل کا سورج طلوع ہوا ہے تو دنیا کے 195 ممالک اور ساڑھے آٹھ ارب کے قریب انسانی آبادی کی نظریں مارگلہ کے پہاڑوں کے دامن میں واقع اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پر ٹکی ہیں۔ دنیا یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان ہی وہ واحد امید کی کرن ہے جو دنیا کو جنگ کی تاریکی سے نکال کر امن کے اجالے میں لا سکتا ہے۔ یقینا پاکستان نے ہر ممکنہ کوشش کی ہے اور اپنی بساط سے بڑھ کر جنگ رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے فیصلہ کن اسلامی ممالک سعودیہ ، قطر اور ترکیہ کا کامیاب دورہ کیا اور سفارتی محاذ پر ہونے والی پیش رفت سے اپنے برادر ممالک کو آگاہ کیا اور ان کو اعتماد میں لیا۔
دنیا نے ایک ناقابلِ فراموش اور ناقابلِ یقین منظر اس وقت دیکھا جب سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اچانک جنگ زدہ ملک ایران کی سر زمین پر اترے۔ یہ منظر کسی فلمی سین کی مانند تھا۔ ایران ڈیڑھ مہینے سے دنیا سے ہر طرح کٹ چکا تھا۔ سفارتی تعلقات صرف پاکستان کی حد تک بحال تھے۔ اس وقت میں نہ ایران کی فضائی حدود اور نہ زمین محفوظ تھی، جنگ زون میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے دارالحکومت تہران میں با وردی اتر کر بہادری کی ایسی داستان رقم کر دی ہے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایسے وقت میں جب ایران کی اپنی قیادت زیر زمین یا محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکی ہے پاکستان کے سپہ سالار نے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بہادری اور جرآت مندانہ اقدام کے ذریعے ایرانی عوام سمیت دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ ہم امن کیلئے ہر حد تک جا سکتے ہیں۔ ایک طرف وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف دنیا کو سفارتی محاذ پر قائل کر رہے ہیں اور دوسری طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران میں اپنی جان داو¿ پر لگا کر تین دن تک ان کی قیادت کو معاملہ فہمی کی طرف لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل بڑے زیرک لیڈر اور خطے کی صورتحال پر گہری سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ اپنی سروس کے دوران سعودی عرب میں ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ اور بالخصوص ایران کے اندر کے معاملات کیا ہیں۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ یوں ہی کسی سے متاثر نہیں ہوتے وہ سید عاصم منیر کی صلاحیتوں اور ان کے ویڑن کو سمجھتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاسی قیادت کی کاوشوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہی وہ واحد انسان ہیں جن پر دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
فیلڈ مارشل کو بخوبی اندازہ ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت اس طرح نہ تو فعال ہے اور نہ کمیونیکیشن میں ہے کہ وہ فیصلہ سازی کر سکے۔ ساتھ ہی ساتھ پاسداران انقلاب کے اندر بھی مذاکرات اور شرائط کو لیکر شدید اختلافات ہیں۔ پاسداران انقلاب کے اختلافی نظریات اور خیالات کی وجہ سے ایران کی سیاسی قیادت جو کہ امن کی خواہاں ہے اور وہ دنیا کے ساتھ ایران کے مسئلے پر بات کرنا چاہتی ہے اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو وہ مینڈیٹ نہیں دیا جا رہا جس کے ساتھ وہ آگے بڑھ سکے۔ چنانچہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تین روزہ ہنگامی دورے کا مقصد کسی حد تک یہی تھا کہ ایرانی سیاسی اور پاسداران انقلاب کی قیادت کو ایک ساتھ بٹھا کر معاملات کو سلجھایا جائے اور حساسیت بارے وہ تصویر دکھائی جائے جس کے نتائج بھیانک نکل سکتے ہیں۔ قیاسا یقیناً یہی ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہوگا کہ ایک مرتبہ امن کی طرف بڑھیں ، ایران کے اوپر سے پابندیوں کو ختم ، اپنے منجمد اثاثوں کو بحال کرائیں دنیا کو نارمل ہونے دیں پھر یہ اسلحہ سازی سمیت دیگر معاملات ہوتے رہیں گے۔ یورینیم افزودگی کا معاملہ بھی کچھ عرصہ کیلئے معطل ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
یقیناََ ایران کے اندر ہارڈ لائنر موجود ہیں اور ان کا اپنا نقطہءنظر ہے۔ پاکستان کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا مگر یہ سمجھتا ہے کہ اگر ایک قدم پیچھے ہٹ کر معاملات کے حل کو صحیح سمت لایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ پیغام تھا جس پر ایرانی قیادت نے سنجیدگی سے سوچنا تھا۔ ہارڈ لائنر امریکہ میں بھی ہیں شدت پسند یہودی لابی جو کہ نہ صرف مضبوط ہے بلکہ امریکہ کے پالیسی ساز اداروں میں اثر و رسوخ بھی رکھتی ہے۔ یہ لابی ہر صورت اسرائیلی مفادات کا تحفظ اور ہر طرح سے ایران کو نہتا کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ بھی کہیں نہ کہیں ان کے زیر اثر ہیں اور وہ اپنی ہی کہی بات کی نفی کر دیتے ہیں۔ دونوں ممالک کے ہارڈ لائنر امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ پاکستان اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور سفارتکاری کے میدان میں امن قائم کرنے اور امن کے خواہشمند لوگوں کو قائل کر رہا ہے وہ پیغام دے رہا یے کہ امن کو راستہ دیں اگر انتہا پسند جیت گئے تو ساری دنیا بلا تفریق مذہب و ملت ہار جائے گی۔ امن مذاکرات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور پاکستان کی سیاسی، دفاعی اور سفارتی صورتحال کی وجہ سے دنیا کی نظریں پاکستان خاص طور پر اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔ امید پر دنیا قائم ہے اور سب یہ چاہتے ہیں کہ امن ہو اور دنیا کے آٹھ ارب سے زیادہ لوگ سکھ کی سانس لیں۔ مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ ہر گذرتے لمحے کے ساتھ حالات و واقعات بدل رہے ہیں۔ مذاکرات مطالبات اور انا کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ پاکستانی قیادت حتی الوسع کوشش کر رہی ہے کہ رواں ہفتے امن مذاکرات کی کوئی حتمی شکل نکل آئے اور ایسا معاہدہ تشکیل پا جائے جس کے نتیجے میں جنگ کے سیاہ بادل چھٹ جائیں مگر یہ بھی حقیقت ہے اور اس میں دو رائے بھی نہیں ہے کہ مذاکراتی عمل طول پکڑے کیونکہ یہاں معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں۔ خواہشات اور ترجیحات تو یہی ہیں کہ امن کا پرچم بلند ہو اگر مذاکرات اس نشست میں کسی حتمی نتیجے پر نہ بھی پہنچیں تاہم سیز فائر یعنی جنگ بندی ہر صورت قائم رہنی چاہیے۔ دنیا بھر کے ممالک بالخصوص برطانیہ ، فرانس ، روس ، یورپ ، چین سمیت اقوامِ متحدہ بھی پاکستان کی اس عظیم کاوش کو سراہ رہی ہے اور ممکنہ طور پر اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو ان ممالک کے نمائندہ وفود اسلام آباد میں اس تاریخی تقریب میں شامل بھی ہوں گے۔ اسلام آباد میں سفارتی میدان سج چکا ہے، اہم ذرائع کے مطابق ایم او یو کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ قارئین دعا کیجئے کہ جنگ کے خطرات ٹل جائیں اور پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ اس محاذ پر فتح یاب کرے۔ یقیناً یہ تاریخ ساز لمحہ پاکستان کو دنیا بھر میں نہ صرف ممتاز کرے گا بلکہ پاکستانی قوم کیلیئے قیامت تک باعث فخر رہے گا۔
مارگلہ کے پہاڑوں سے امن کا طلوع ہوتا سورج۔۔۔۔۔۔
08:46 AM, 20 Apr, 2026