ڈرامائی تبدیلیاں، ڈیڈ لاک، 7 جھوٹ

08:48 AM, 20 Apr, 2026

عالمی منظر نامہ پر برق رفتار ڈرامائی تبدیلیاں، ایران امریکہ معاہدہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ٹرمپ کی زیادہ بولنے کی عادت نے کام خراب کر دیا، امریکی صدر نے میڈیا کے ساتھ اپنی 120 ویں بریفنگ میں ایک گھنٹے کے دوران سات جھوٹ بولے، جس کے بعد ایران بیک فٹ پر جاتا نظر آیا، زیادہ بولنے کی بیماری نے ٹرمپ کو ناقابلِ یقین اور ناقابلِ اعتماد شخصیت بنا دیا ہے۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ، ایک دن پہلے کہا ایران سے مذاکرات کےلئے دو دن کے اندر امریکی وفد اسلام آباد جائے گا، ڈیل ہونے جارہی ہے، 21 اپریل تک جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ معاہدے پر دستخط کےلئے پاکستان جاﺅں گا۔ اسرائیل اور لبنان میں دس دن کےلئے جنگ بندی ہوگئی ہے۔ خبریں آنا شروع ہو گئیں، اتوار یا پیر کو مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہوگا، دوسرے دور میں معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔ دس ملکوں کے سربراہ پاکستان آئیں گے، اسلام آباد میں فول پروف سکیورٹی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ اسلام آباد دنیا بھر میں مرکزِ نگاہ بن گیا، گریٹ گیم کا اہم کھلاڑی، دفاعی اور عالمی امور کے ماہرین کے چہرے روشن، تجزیہ کاروں کی رائے بحمد اللہ پاکستان، ایران امریکہ جنگ کی ہولناک آگ بجھانے میں کامیاب رہا، پاکستانی قیادت کے تینوں کردار وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سرگرم، فیلڈ مارشل نے کمال کر دیا، تہران سے واشنگٹن تک شٹل کاک سفارت کاری کا بے مثال مظاہرہ، حالیہ جنگ کی تاریخ میں پہلی شخصیت جو فیلڈ مارشل کی وردی میں وار زون میں داخل ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ خطرات کی پرواہ کئے بغیر جیٹ طیارے میں 3 روزہ دورہ پر تہران جا پہنچے، تہران ایئرپورٹ پر ایرانی وزیرِ خارجہ کی جپھی قابلِ دید۔ ملاقاتوں میں تمام معاملات طے، فیلڈ مارشل نے گیم پلٹ دی، گیم چینجر شخصیت قرار، نوبل انعام کے حقدار، تہران میں جشن، امن کے علمبردار خوش آمدید۔ آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سعودیہ اور ترکیہ میں پرجوش سفارت کاری میں مصروف، واپس پہنچتے ہی بری خبریں سننے کو ملیں، ٹرمپ نے ایک گھنٹے میں 7 جھوٹ بول کر معاہدے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے، ایرانی یورینیم پر امریکہ کا قبضہ ہوگا۔ ایران کو ہمیشہ کے لیے یورینیم سے محروم کر دیا جائے گا، منجمد فنڈز واپس نہیں ملیں گے (اس سے پہلے 20 ارب ڈالر دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی) ایران نے فوری تردید کی کہ یورینیم کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا، جنگ بندی تک آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پھر بند کر دی جائے گی، اطلاعات کے مطابق ایران کے پاس 6 ہزار زیرِ آب بارودی سرنگیں ہیں جنہیں ”تیرتے ہوئے بم“ کہا جاتا ہے، ایران ناکہ بندی کرنے والے امریکی جہازوں اور کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے نیول مائنز استعمال کر سکتا ہے۔ امریکا کی ناجائز اولاد نیتن یاہو نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے 12 گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر دیا، ایران برہم، جو امریکی صدر جنگ بندی پر عمل نہیں کرا سکتا اس پر کیا اعتبار کیا جائے۔ اسرائیل، امریکہ ایران معاہدے کا مخالف ہے، ٹرمپ کو بخوبی اندازہ ہے کہ بیگانی جنگ چند دن اور جاری رہی تو عالمی معیشت کا کچومر نکل جائے گا، مگر امریکی صدر کی کوئی کمزوری نیتن یاہو کے ہاتھ آگئی ہے، جس کی وجہ سے وہ مسلسل ٹرمپ کو بلیک میل کر رہا ہے، متضاد اعلانات نے ایران کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کردیا ہے اور ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی قیادت نے امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے کہ ایران نے بدھ تک ڈیل نہ کی تو جنگ بندی ختم کر دی جائے گی، تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، تاہم مجموعہ تضادات امریکی صدر کا کہنا ہے کہ میرے پاس ایک عظیم شخصیت وائٹ ہاو¿س آ رہی ہے جس کے بعد معاملات درست کرنے میں مدد ملے گی۔ ٹرمپ مسلسل پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو عظیم شخصیات قرار دے کر شکریہ ادا کر رہے ہیں، کیا ”عظیم شخصیت“ صدر کو سمجھانے وائٹ ہاو¿س جائے گی؟ پاکستانی قیادت کی اولین کوشش ہے کہ وہ ثالثی مشن میں کامیاب ہو تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بھڑکتے شعلوں سے علاقائی اور عالمی معیشت کو بچایا جا سکے۔ ٹرمپ کی تضاد بیانی سے قبل 95 فیصد ڈیل مکمل ہو چکی تھی اور توقع کی جا رہی تھی کہ مذاکرات کے دوسرے راﺅنڈ میں مسودے کی نوک پلک درست کر کے ڈیل پر دستخط ہو جائیں گے اور 60 روز بعد ڈیل کو معاہدے کی شکل دے دی جائے گی، یہ معاہدہ خطے میں مستقل امن کی ضمانت ہو گا، ایران یورینیم پروگرام کو محدود عرصہ تک بند کرنے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو گیا جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی ایران پر 45 سالہ اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور 7 ارب ڈالر کی ادویات کی فراہمی پر رضا مندی ظاہر کی گئی تھی مگر ”قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند‘ دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا“
اللہ تعالیٰ نے اب تک اس مشن میں پاکستان کو دنیا بھر میں نیک نامی اور کامیابی عطا فرمائی ہے، اس سے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہوئے ہیں، یقینِ کامل ہے کہ رکاوٹوں کے باوجود پاکستان ڈیل کرانے کے اس مشکل مشن میں کامیاب و کامران ہو گا، ”یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا“ مذاکرات توقعات کے مطابق آج کل میں ہوں گے اور ٹرمپ بدلتے بیانات چھوڑ کر ڈیل پر دستخط کر دیں گے، جنگ بند ہونے کے بعد ہی خطے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں، پاکستانی قیادت کی کوششوں سے سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور قطر پر مشتمل چار ملکی اتحاد قائم ہو گیا ہے، ایران اور سعودیہ کے اختلافات ختم ہو گئے۔ اس میں بھی ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں، پاکستانی اور سعودیہ میں دفاعی معاہدے سے دونوں ملکوں کو دفاعی اور معاشی تحفظ حاصل ہو گا، قطر سے ٹھنڈی ہوائیں آ رہی ہیں، یو اے ای کے دو ارب ڈالر ادا کر دیے گئے، ایک ارب 50 ہزار ڈالر 23 اپریل تک دے دیے جائیں گے۔ حالیہ جنگ میں یو اے ای کی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر حملوں سے بعض غلط فہمیوں نے جنم لیا ہے تاہم بھارت اور اسرائیل سے تعلقات میں ان ریاستوں کی جانب سے گرم جوشی دکھائی نہیں دے رہی بلکہ اس اعلان سے کہ یو اے ای آئندہ کسی بھی ملک کو اپنی سرزمین اور وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ تعلقات کی نئی جہتیں کھلیں گی، یو اے ای نے تعلقات کے فروغ کے لئے چین سے بھی رابطہ کیا ہے اس سے بھی معاملات بہتر بنانے میں مدد ملے گی، پاکستان میں سرمایہ کاری کا فقدان ہے، سعودیہ، ترکیہ اور قطر توجہ دیں تو پاکستان کی معیشت قرضہ جاتی کی بجائے برآمداتی معیشت بن سکتی ہے۔

مزیدخبریں