واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری شدید تنازع کے حل کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنا اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ نے جہاں ایران کو سخت ترین وارننگ دی، وہیں پاکستان کے ساتھ سفارتی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس بار مذاکرات کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکے تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی محاصرے کے باعث ایران کو اب تک 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور اس کی بحری و فضائی صلاحیتیں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد آج پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا۔وفد منگل اور بدھ کو پاکستانی قیادت سے اہم ترین ملاقاتیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے بڑا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب رہے تو وہ خود بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ایرانی بحریہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے لیے مکمل تیار ہے اور دشمن کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
عالمی برادری کی نظریں اس وقت پاکستان پر جمی ہیں، جہاں امریکی وفد کی آمد کے پیشِ نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
امریکی وفد آج اسلام آباد پہنچے گا؛ مذاکرات کی کامیابی پر صدر ٹرمپ کا خود بھی پاکستان آنے کا عندیہ، ریڈ زون سیل
09:09 AM, 20 Apr, 2026