لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی کو بھی حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شدت پسند عناصر مختلف طریقوں سے سرگرم ہیں اور حالیہ دنوں میں شہریوں کے کاروبار اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور غزہ کے نام پر فوڈ چینز پر حملے کیے گئے، جہاں ہزاروں پاکستانی ملازمت کرتے ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو منصوبہ بند سازش قرار دیا اور واضح کیا کہ حکومت ایسی حرکات کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اب تک 14 مقدمات درج ہوئے ہیں اور 149 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ لاہور میں 3 مقدمات میں 11، شیخوپورہ میں ایک مقدمے میں 73 افراد، جبکہ وہاں کے واقعات میں ایک ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، ساہیوال، بہاولپور اور رحیم یار خان سے بھی متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت فلسطین کے مسئلے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور وزیراعظم نے عالمی سطح پر اس کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے غزہ کے لیے امدادی سامان بھی بھجوایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو رعایت نہیں ملے گی۔ کچے کے علاقوں میں پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کیا گیا ہے اور نئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔ حکومت کی کارروائیوں سے ان علاقوں میں جرائم پیشہ افراد کی طاقت ختم ہو چکی ہے۔