نیویارک:امریکہ میں قائم سکھوں کی حامی تنظیم "سکھس فار جسٹس" (SFJ) نے بھارتی حکمران جماعت بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے ایک اعلیٰ رہنما پر سنگین الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے تنظیم کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنن کے قتل کے لیے ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر (250,000$) کا انعام مقرر کیا ہے۔
یہ تہلکہ خیز دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کل بھارت کے سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔
SFJ کے مطابق، اس مبینہ سازش کا مقصد امریکہ میں موجود خالصتان تحریک کے حامیوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اقدام بھارتی حکومت کی جانب سے ریاستی سرپرستی میں غیر ملکی سرزمین پر جبر اور دہشتگردی کی ایک واضح مثال ہے، جو براہِ راست امریکی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف ہے۔
SFJ کے قانونی مشیر اور معروف انسانی حقوق کے وکیل گرپتونت سنگھ پنن نے نائب صدر وینس کو تحریری خط میں مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا جائے، اور بھارتی حکومت کو خبردار کیا جائے کہ اگر وہ ایسی سرگرمیوں سے باز نہ آئی تو اسے سخت امریکی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خط میں ممکنہ اقدامات میں فوجداری مقدمات، معاشی پابندیاں، اور ملوث بھارتی اداروں کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دینے جیسے اقدامات کی تجویز دی گئی ہے۔
SFJ نے اس واقعے کو عالمی جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم کے حامیوں کے جان و مال کا تحفظ عالمی برادری، خصوصاً امریکہ کی ذمہ داری ہے۔