روم میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور

10:34 AM, 20 Apr, 2025

روم: ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملے پر ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور اٹلی کے شہر روم میں مکمل ہو گیا۔ یہ بات چیت چار گھنٹے تک جاری رہی، جس میں دونوں ملکوں نے براہِ راست نہیں بلکہ عمان کی ثالثی کے ذریعے بالواسطہ رابطہ رکھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات عمان کے سفیر کی رہائش گاہ پر ہوئے، جہاں ایرانی اور امریکی وفود الگ الگ کمروں میں بیٹھے، اور عمان کے وزیر خارجہ نے دونوں کے درمیان پیغامات پہنچائے۔

ایرانی حکام کے مطابق ایران پوری سنجیدگی سے بات چیت میں شامل ہے، مگر ان کا مؤقف ہے کہ جب تک ایران کو واضح اور قابلِ اعتماد ضمانتیں نہ دی جائیں، پابندیاں ختم نہیں ہونی چاہئیں۔ ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی جوہری ٹیکنالوجی سے حاصل کامیابیاں قابلِ بحث نہیں ہیں۔

عمان کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات تین اہم نکات پر ہوئے: ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنا، پابندیاں ختم کرنا، اور ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کا حق تسلیم کرنا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ملاقات کو "تعمیری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی معاملات پر مزید بات چیت کے بعد اگلے ہفتے تک یہ طے کیا جا سکے گا کہ کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ بہت زیادہ امید لگانی چاہیے اور نہ ہی مایوس ہونا چاہیے، بلکہ درمیان کا راستہ اپنانا بہتر ہے۔

مذاکرات کا اگلا مرحلہ عمان میں طے پایا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک سفارتکاری کے ذریعے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔

مزیدخبریں