جہاد بچوں کا کھیل نہیں

09:44 AM, 20 Apr, 2025

یہود و ہنودکل بھی اسلام کے خلاف ایک تھے اور آج بھی ایک ہیں مگر افسوس مسلمانان عالم دین کے دشمنوں اور کفار کے خلاف نہ کل ایک تھے اور نہ یہ اب ایک ہیں۔ یہود و ہنود برسوں نہیں عشروں سے دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کی جڑیں کاٹ رہے ہیں پر مسلمانوں کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ بجائے اتحاد و اتفاق سے یہود و ہنود کا مقابلہ کرنے کے مسلمان آج بھی اپنے ہی کلمہ گو مسلمان بھائیوں کی ٹانگیں کھینچنے، گوشت نوچنے اور خون چوسنے میں مصروف ہیں۔ کشمیر، برما، شام، لیبیا، عراق اور افغانستان میں خون مسلم کی ندیاں بہائی گئیں، مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں برسر بازار نیلام کی گئیں۔ ہزاروں نہیں لاکھوں بے گناہ مسلمان ان ممالک میں ظالموں کے ہاتھوں شہید اور بے شمار عمر بھر کے لیے معذور ہوئے لیکن لاکھوں مسلمانوں کی شہادت اور کئی مسلم ممالک کی تباہی و بربادی کا بھی امت مسلمہ کو کوئی فرق ہوا اور نہ کوئی اثر پڑا۔ ایک طرف فلسطین میں شہداء کے ہوا میں اڑتے اعضاء اور ملبے تلے دبے معصوم بچوں کے زخمی جسم دیکھیں اور دوسری طرف اس ظلم اور بربریت پر مسلمانوں کی پراسرار خاموشی تو ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ مسلمان زندہ ہو کر بھی نہ جانے کب کے مر چکے ہیں کیونکہ جو اس طرح بے حسی اور بزدلی کی چادر اوڑھ کر ایسے مظالم پر بھی خاموش رہیں ان میں اور مرنے والوں میں پھر کوئی فرق باقی نہیں رہتا اور یہ سب جانتے ہیں کہ جو ہماری طرح زندہ ہو کر مرنے والوں کے مرتبے تک پہنچ جاتے ہیں انہیں پھر دنیا کی کوئی طاقت بھی جگا نہیں سکتی۔ اسرائیلی ظلم و بربریت اور معصوم و نہتے فلسطینیوں کی آہ و بکا، چیخ و پکار سے بھی اگر مسلمان جاگ نہیں سکے تو آئندہ یہ کیا خاک جاگیں گے۔؟ اسرائیلی مظالم اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہو کر ایک اور نیک ہو جاتے مگر یہ تو فلسطین کے معاملے پر اسرائیلیوں اور یہودیوں سے بھی ایک دو نہیں سو قدم آگے کے ظالم نکلے ہیں۔ ملک کے بڑے اور نامور علمائے کرام نے فلسطینیوں کی مدد اور حمایت کے لیے جہاد کا فتویٰ کیا دیا کہ نام کے یہ مسلمان آپے سے ہی باہر ہو گئے۔ علماء نے اپنے فتوے میں کسی کو گالی تو نہیں دی۔ آپ بھی پڑھیں علماء نے کیا کہا۔ علماء نے تو فقط مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے اتنا کہا کہ فلسطین میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن معاہدے کے باوجود غزہ پر بمباری ہو رہی ہے اور اب تک اس بمباری میں 55 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ 55 ہزار سے زائد کلمہ گو مسلمانوں کو ذبح ہوتے دیکھ کر بھی کیا جہاد فرض نہیں ہو گا۔؟ اہل فلسطین کی عملی، جانی اور مالی مدد امت مسلمہ پر فرض ہے۔ تمام اسلامی حکومتوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے اور مسلم ممالک کی فوجیں اور اسلحہ کس کام کے اگر وہ مسلمانوں کو اس ظلم و ستم سے نجات نہیں دلا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے مجاہدین ہوں یا قائدین، اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ امت مسلمہ قبلہ اوّل کی حفاظت کے لیے لڑنے والے مجاہدین کی کوئی مدد نہیں کر سکی، اسرائیل کو عالمی قوانین کی قدر نہیں ہے، اقوام متحدہ اسرائیل اور امریکا کے ہاتھ کھلونا بن چکی ہے جب کہ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل چاہے جتنے مسلمانوں کو قتل کر دے ہم اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ آج امت مسلمہ قراردادوں اور کانفرنسوں پر لگی ہوئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ امت مسلمہ جہاد کا اعلان کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام اسلامی حکومتوں سے کھل کر فتویٰ کے ذریعے کہا ہے کہ آپ پر جہاد فرض ہو چکا ہے، زبانی جمع خرچ سے مسلمان حکمران اپنے فرض سے پہلو تہی نہیں کر سکتے۔ علماء کے اس فتوے پر چاہیے تو یہ تھا کہ سب بیک آواز لبیک کہتے ہوئے آمین کہتے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ نکلا۔ علماء کی جانب سے فتویٰ دینا ہی تھا کہ اسرائیل اور یہود کے لے پالک و پالتو مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرنے کے بجائے علمائے کرام پر ہی بھونکنے لگے۔ اسرائیل کے خلاف جہاد کے فتوے اور اعلان پر یہودیوں کو اتنی تکلیف نہیں ہوئی ہو گی جتنی تکلیف یہودیوں کے ان سہولت کاروں اور دلالوں کو ہوئی ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن اور ملک کے دیگر نامور علمائے کرام نے فتویٰ اسرائیل کے خلاف دیا قوم کو ریاست مدینہ کے خواب دکھانے والے ان کذابوں اور نمونوں کے خلاف تو نہیں دیا کہ ان کو مرچیں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔ ایک بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ اسرائیل کے خلاف جہاد کے فتوے پر ریاست عمرانیہ کے ان پکے ٹکے مسلمانوں کو یہ تکلیف کیوں ہے۔؟ کیا ان کے بارے میں لوگ جوکچھ کہتے رہے ہیں کہیں وہ حقیقت اور سچ تو نہیں۔؟ ورنہ فلسطین کے دکھ، درد اور غم نے تو اپنے کیا۔؟غ یروں اور کالے کافروں کو بھی لرزا کے رکھ دیا ہے۔ فتوے کو بنیاد بنا کر علماء پر بھونکنے والے اسرائیلی دلالوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ علماء کا جو اصل کام تھا وہ انہوں نے کر دیا ہے اور یہ بھی ایک بڑا جہاد ہے۔ جس ظالم کے خلاف علماء نے فتویٰ دیا ہے اس کے خلاف بات کرتے ہوئے بھی فواد چوہدری، شیر افضل مروت اور شہباز گل جیسے نمونوں کے پر جل جایا کرتے ہیں۔ جہاد یہ محمد بن قاسم، سلطان صلاح الدین ایوبی اور اسماعیل ہانیہ جیسے بہادر اور غیرت مند مسلمانوں و مجاہدوں کا کام ہے فواد چوہدری، شیر افضل مروت اور شہباز گل جیسے نمونوں کے بس کی بات نہیں۔ جو لوگ اپنے لیڈر اور پارٹی کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے وہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کیسے کھڑے ہوں گے۔؟ یہ غیرت مند علماء کے خلاف جو بھی پراپیگنڈا کریں، جس قدر بھی چاہیں مہم چلائیں اور ٹرولنگ کریں پر یہ ایک بات یاد رکھیں کہ اس ملک کے چوبیس کروڑ عوام اسلام آباد کی شاہراہوں اور کورٹ کچہریوں میں ان کا جہاد آج تک نہیں بھولے ہیں۔ وہیل چیئر پر ان کا وہ بچوں کی طرح رونا، دھونا اور گاڑیوں سے چوروں کی طرح چھلانگ لگا کر وہ دوڑنا اور بھاگنا عوام کو آج بھی یاد اچھی طرح یاد ہے۔

مزیدخبریں