پنجاب بھر میں اس وقت تجاوزات کے خاتمہ کے نام پر ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ مارکیٹوں اور کمرشل جگہوں سے ہوتا ہوا رہائشی علاقوں تک جا پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی ذمہ داریاں پہلے کیا کم تھیں کہ اب اس نے گھروں سے کوڑا اٹھانے کا کام بھی اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی صاف نیت اور کام کرنے کی صلاحیت پر تو کوئی شک نہیں لیکن انہیں اس بات پر بھی نظر رکھنا ہو گی کہ کسی نامعقول مشیر کی بات مان کر وہ اپنے سیاسی کیرئیر اور اپنی حکومت کی ساکھ کو تو نقصان نہیں پہنچا رہیں، اس کے علاوہ کہیں ان کے اقدامات ان کے اور ان کی پارٹی کے کمٹڈ کارکنان کے درمیان فاصلے تو نہیں بڑھا رہے۔ لاہور شہر میں ہم نے دیکھا کہ سڑکوں پر ریڑھیوں پر پھل وغیرہ فروخت کرنے والوں کے معاملات کو حکومت نے انتہائی خوش اسلوبی سے طے کرنے کی کوشش کی اور ریڑھی والوں سے پرانی ریڑھیاں لے کر انہیں بہترین اور ماڈرن انداز میں بنی نئی ریڑھیاں فراہم کر دی گئیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں کاروبار کے لیے مخصوص جگہیں بھی فراہم کی گئیں تاکہ سڑکوں پر رش کم کیا جا سکے۔ ایک طرف تو ریڑھی بانوں کے ساتھ حسن سلوک کی وجہ سے حکومت نے تعریف سمیٹی تو دوسری طرف مارکیٹوں اور دیگر مقامات پر سٹال لگا کر اپنی روزی روٹی کمانے والے ہزاروں بے روزگار لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر انہیں بد دعائیں دے رے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت ان سٹال لگانے والوں کے لیے بھی کوئی جگہ مختص کر کے انہیں روزگار کا سلسلہ جاری رکھنے کا موقع فراہم کر دیتی۔ واضح رہے کہ ایک طرف تو ان سٹالوں سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ تھا تو دوسری طرف عوام کو ان سٹالوں کی وجہ سے کافی زیادہ سہولیات میسر تھیں۔ یعنی اسی کام کو اگر کسی طریقے سے کر لیا جاتا تو بے شمار لوگ بے روزگاری اور پریشانی سے محفوظ رہ سکتے تھے۔ اسی طرح ایک سرکاری آرڈر کے تحت ان تمام غریب لوگوں کو ناصرف بے روزگار کر دیا گیا ہے بلکہ ان کے خلاف کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر ہمارے گھروں سے کوڑا کرکٹ اٹھا کر لے جاتے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ اب یہ کام سرکاری اہلکار انجام دیا کریں گے۔ اس کام کے لیے بڑی تعداد میں نئی بھرتیاں بھی کی گئی ہیں اور لوڈر رکشوں کی بھی خریداری ہوئی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر پہلے سے ہی یہ کام کرنے والے ورکرز کو اس نئے سسٹم میں فٹ کر دیا جاتا، جن کے پاس لوڈر رکشے موجود تھے ان سے وہی رکشے کنٹریکٹ کی بنیاد پر حاصل کر لیے جاتے اور جن کے پاس نہیں تھے انہیں سرکاری سطح پر فراہم کر دئیے جاتے۔ اس طرح کم از کم پہلے سے روزگار پر لگے ہوئے لوگ تو پریشانی کا شکار نہ ہوتے۔ حکومت نے جن لائنوں پر کام جاری رکھا ہوا ہے اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنی سیاسی ساکھ اور ووٹ بنک کے متاثر ہونے کی تو خیر کوئی پروا ہے ہی نہیں لیکن اسے بڑی تعداد میں لوگوں کے بے روزگار ہونے کی بھی کوئی فکر نہیں۔ بات صرف یہیں تک ہی محدود نہیں بلکہ ماحولیات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے دعویدار بھی قول فعل کے تضاد کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ جانے حکومت کو کرنے کے لیے کوئی کام ہی نہیں ہے یا پھر انہیں کہہ دیا گیا ہے کہ وہ حکومتی امور چلانے کے علاوہ کچھ کارروائیاں کر کے ہی اپنا گزر بسر کریں۔ ورنہ عین بجٹ پیش کرنے کے دنوں میں کس حکومت کے پاس اتنی فرصت ہوتی ہے کہ وہ گلی محلوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر لوگوں کے پودے اور باڑیں وغیرہ برباد کرتے پھریں۔ ایک متنازع اقدام میں، پنجاب حکومت نے لاہور میں تجاوزات کے خلاف جارحانہ آپریشن شروع کیا ہے، جس کے نتیجے میں شہر بھر میں متعدد پودوں، درختوں اور سبز جگہوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ لاہور، جو سرسبز گرین بیلٹ اور سایہ دار راستوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، تیزی سے حکومت کی ناقص منصوبہ بند ی کا شکار ہو رہا ہے۔ حالیہ اینٹی اینکروچمنٹ ڈرائیو، غیر قانونی ڈھانچے یا غیر مجاز تعمیرات کو منتخب طور پر نشانہ بنانے کے بجائے، بڑی سڑکوں، پارکوں اور فٹ پاتھوں کے ساتھ اندھا دھند ہریالی کو اکھاڑ پھینکا گیا ہے۔ پختہ درختوں کو کاٹ دیا گیا ہے، اور احتیاط سے برقرار رکھے ہوئے پودوں کو بلڈوز کیا گیا ہے۔ بہت سے معاملات میں، پودوں کو فٹ پاتھ اور ان علاقوں سے ہٹا دیا گیا تھا جن سے عوامی نقل و حرکت یا ٹریفک میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی ہے۔ خوبصورتی کے منصوبوں اور چھوٹے شہری باغات، جو مقامی لوگوں کے لیے طویل عرصے سے فخر کا باعث تھے، بغیر کسی انتباہ کے مسمار کر دیئے گئے۔ جن لوگوں نے ان سبز مقامات کی پرورش کے لیے وقت اور کوشش کی تھی وہ صدمے اور خوفزدہ ہونے کا اظہار کرتے ہوئے، یہ کہتے ہوئے کہ تباہی شروع ہونے سے پہلے انہیں اپیل کرنے یا بات چیت کرنے کا کوئی موقع تک نہیں دیا گیا تھا۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پودوں اور درختوں کو اس لاپروائی کو ہٹانے سے نہ صرف شہر کے پہلے سے ہی نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا ہے بلکہ اس سے آلودگی اور آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششیں بھی بہت بُری طرح سے متاثر ہوں گی۔ لاہور نے دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں مستقل طور پر درجہ بندی کی ہے، اور پودوں کے زیاں سے صرف ہوا کے معیار کو مزید خراب کیا جا رہا ہے بلکہ اس حرکت کی وجہ سے شہر کے درجہ حرارت میں میں خاطر خواہ اضافہ کا امکان ہے۔ اگر تجاوزات کے خلااف آپریشن مقصود ہی تھا تو ناجائز تعمیرات، نقشوں کی خلاف ورزی اور قبضوں کے خلاف کیا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو یقینا انہیں اس آپریشن کو عوامی حمایت بھی حاصل ہوتی، لیکن انہوں نے تو درختوں، پودوں اور پھولوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ میں دعوت دیتا ہوں وزیر اعلیٰ مریم نواز اور ماحولیات کی علمبردار مریم اورنگزیب کو کہ وہ اقبال ٹاؤن لاہور تشریف لائیں میں انہیں دکھاتا ہوں کہ ان کے
احکامات کی آڑ میں ایل ڈی اے نے کس طرح درختوں اور پودوں کو اجاڑہ ہے۔ مذکورہ بالا اقدامات کی روشنی میں تو لگتا ہے کہ حکومت کے بے روزگاری ختم کرنے اور شہر میں ماحول دوست فضا قائم کرنے کے دعوے تو بالکل ہی پنکچر ہو چکے ہیں۔ کیونکہ اس آپریشن کے نتیجہ میں نے خود ان کے کمٹڈ کارکنان کو انہیں گالیاں اور بددعائیں دیتے ہوئے سنا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی درخت کاٹنے اور پودے برباد کرنے پر سخت ایکشن اور بھاری جرمانے کا اعلان کر رکھا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کب ایکشن میں آتی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر ماحولیات اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو بلا کر کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے، سزائیں سناتی ہے اور اپنے حکم کے مطابق پودے برباد کرنے پر انہیں ایک کے بجائے بیس پودے لگانے کا حکم دیتی ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ درختوں اور پودوں کی تباہی پر عوام کے ساتھ ساتھ ماحولیات سے متعلق مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کا بھی سخت ترین ردعمل آئے ورنہ وہ لوگ جن کے باتھ رومز میں بھی اے سی لگے ہوئے ہیں ہمارے شہر کے ماحول کو مکمل طور پر تباہ کر کے امریکہ، برطانیہ یا کسی اور ملک کو چلتے بنیں گے۔
لاہور کا ماحول بچاؤ
09:44 AM, 20 Apr, 2025