مسئلہ ایرانی تیل کی سمگلنگ کا 

09:42 AM, 20 Sep, 2026

میرا آج بلوچستان کے وزٹ کا چھٹا دن ہے۔کوئٹہ کا موسم کافی خشک ہے ،گوگرمی زیادہ نہیں لیکن یہاں بارش ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں ۔اس وزٹ کے دوران بہت سے بلوچ نوجوانوں سے ملنے کا موقع ملا ان کانقطہ نظر سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش بھی کہ بلوچستان کا مسئلہ اصل میں ہے کیا؟ آج کے کالم میں مرکزی بات ایک، کہ جب لاہور سے چلے تھے تو لگتا تھا کہ بلوچستان محرومیوں کا شکار ہے اور وہاں لڑائی جھگڑے کی وجہ احساس محرومی ہے لیکن ابھی یہاں آئے ایک ہفتہ ہوا اور بلوچستان کے اعلیٰ حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کی بریفنگز دیکھ کر لگنے لگا ہے کہ محروم حقیقی طورپر ہم ہیں اور محرومی کا تاثر بلوچستان کا دیا جاتا ہے ۔میر سرفراز بگٹی کی حکومت میں گورننس کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر پراجیکٹس کا آغاز ہے۔ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں ڈاکٹروں اور اساتذہ کی حاضری بائیومیٹرک سے لگانے کے اقدام نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا شروع کردیاہے۔
اسی ہفتے کے دوران اعلیٰ سکیورٹی شخصیات کے ساتھ آٹھ نو گھنٹے کی نشست ہوئی ۔بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال، چیلنجز اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تلخ و شیریں سوالات اور جوابات ہوئے ۔اس نشست میں یہاں میرے سمیت پاکستان کے مختلف صحافی تھے وہیں بلوچستان کے نوجوان بھی موجود تھے ۔آج کل چونکہ پٹرول روزانہ کی بنیاد پر مہنگا ہورہا ہے تو لاہور میں رہنے والے میرے جیسے بندے کے لیے سستے ایرانی پٹرول اورڈیزل کی سمگلنگ کافی دلچسپی کا موضوع تھا۔اس حوالے سے اس بریفنگ میں دماغ کے کافی دریچے وا ہوئے ۔ہم نے ہمیشہ سنا کہ ایرانی تیل سمگل ہوتا ہے لیکن یہ بتایا گیا کہ ایران سے جو تیل آتا ہے اس کی ایران سے باقاعدہ خریداری کی جاتی ہے اوراس کی اجازت حکومت پاکستان اور ایرانی سرکار کے درمیان انیس سو ساٹھ کے معاہدے کے نتیجے میں ہوتی ہے۔اس کی وجہ بھی بڑی دلچسپ ہے کہ بلوچستان کے پانچ اضلاع چاغی،پنجگور،تُمب ،کیچ اور واشک میں آج تک پاکستان کے اندر کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کوئی پٹرول پمپ نہیں ہے ۔اس لیے مقامی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان پانچ اضلاع جن کی سرحدیں ایران سے لگتی ہیں ،کوایران سے تیل خریدنے کی قانونی اجازت ہے۔علاقے کی ضرورت کے پیش نظر روزانہ تیس لاکھ لٹر تیل لانے کی جازت ہے لیکن یہ مقدار دیکھتے ہی دیکھتے دوکروڑ لٹر سے بھی تجاوز کرتی گئی ۔ ایران سے یہ تیل آٹھ سے دس روپے فی لٹر ملتا ہے ۔اسی معاہدے میں لکھا ہے کہ اگر تیل ان پانچ اضلاع کی ضرورت کے لیے اسی علاقے میں استعمال ہوگا تو قانونی عمل ہوگا لیکن اگر ان پانچ اضلاع کی حدود سے نکل کر کوئٹہ یا ملک کے دوسرے حصوں میں لے جایا جائے گا تو وہ سمگلنگ اور غیر قانونی ہوجائے گا۔
یہ اجازت اصولی طورپر درست اور مقامی غریب آبادی کو روزگار دینے کے لیے بہترین کام تھا لیکن اس کو مافیاز نے دھندابنالیایہ دھندا کیسے چل رہا تھا اور اب کس قدر قابوپایا گیا ہے اس پر کچھ بات کرلیتے ہیں ۔جو گاڑی ایران سے تیل لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اس کو ”زمباد“ کہاجاتا ہے ۔یہ ایک ہائی لکس ڈالاہے جس پر بڑے بڑے کین رکھ کر ان میں ایران سے تیل لایاجاتا ہے اور ایک چکر میں ایک زمباد کی کمائی تین لاکھ روپے ہوجاتی ہے۔یہ مقامی روزگار سے اسمگلنگ میں کیسے بدلا؟ یہ ایک دلچسپ پہلو ہے ۔
اس تیل کی درآمد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مقامی آبادی کے گھرانوں کو ایک پرمٹ جاری ہوتا ہے ۔اس کی ایک ماسٹر لسٹ بنی ہوئی ہے ۔اس ترتیب سے ایک زمباد کی باری تیس سے چالیس دن بعد آتی ہے ۔یہاں تک تو نہ کسی کو اعتراض نہ کوئی مسئلہ لیکن کہانی خراب تب ہوئی جب امیر لوگوں نے اس کو اسمگلنگ میں تبدیل کرنا شروع کردیا۔کیا کچھ یوں گیا کہ سرمایہ کاروں نے ایسے غریبوں سے وہ پرمٹ ماہانہ تیس سے چالیس ہزار روپوں میں خریدنا شرو ع کردیے ۔ایک شخص نے چالیس چالیس پرمٹ یا ٹوکن لے کر دھندا شروع کردیا۔پھر یہ پٹرول ان پانچ اضلاع سے نکل کر سمگلنگ کی شکل اختیار کرتا چلا گیا اور ایرانی تیل کراچی اور سندھ میں پہنچنا شروع ہوگیا۔ٹوکن ڈی سی جاری کرتا ہے اور روزانہ کس کی باری ہوگی یہ بھی ڈی سی کے دفتر سے ہی لسٹ آتی ہے۔تو جس نے تیس زمباد بنالیے تھے اس نے اپنادھندا بڑھانے کے لیے سرکاری افسروں کو رشوت دے کر لسٹ میں وقت سے پہلے نام ڈلوانا بھی شروع کردیایوں تیل مافیا بن گیا۔اس کام کے لیے ایران جانے والوں کو ایرنی خفیہ ایجنسیوں نے مزید لالچ دے کر اپنے لیے جاسوسی کروانا بھی شروع کردی۔جو پاکستان کیخلاف جاسوسی کے لیے ان کے ساتھ مل جاتا اس کو تیل مزید سستا یعنی کوئی چھ روپے لٹر تک فراہم کردیا جاتا ۔پھر اس کے ساتھ ساتھ تیل والے ڈرموں میں تیل کی بجائے منشیات اور اسلحہ بھی پاکستان سمگل ہونے لگا ۔اس تیل سے حاصل آمدنی سے دہشت گرد بھی حصہ وصول کرنے لگ گئے اس طرح یہ سہولت جو پانچ اضلاع کے غریبوں کے لیے تھی اس سے مافیاز اور دہشتگردوں کی معیشت چلنے لگی ۔حکومت نے کچھ عرصہ قبل اس سمگلنگ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تو پتہ چلا کہ کس طرح تیس چالیس چالیس ٹوکن ایک ہی شخص کے پاس استعمال ہورہے ہیں ۔ایک بندے نے تیس تیس زمباد بنارکھی ہیں ۔سکیورٹی اداروں نے اس ماسٹر لسٹ میں ردوبدل بند کروادیا۔اور جن جن لوگوں نے اپنے ٹوکن مافیاز کو بیچ رکھے تھے ان کو کہا گیا کہ یاتو خود استعمال کرویا پھر ٹوکن منسوخ کردیا جائے گا ۔اس طرح تیل کی ایران سے خریداری کم ہوکر تیس بتیس لاکھ لٹر یومیہ پر آگئی ۔پھر اس کی سمگلنگ کیخلاف سختی کی گئی۔اب ایرانی تیل کی پاکستان آمد کی مقدار وہی ہے جتنی معاہدے کے مطابق مقامی آبادی کی ضرورت ہے۔
سکیورٹی فورسز نے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے سے بچانے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا۔پہلے پاکستان سے تیل لانے والی گاڑیاں بارڈر کراس کرکے ایران میں داخل ہوتی تھیں اور تیل کا ڈپو اور بفر زون ایران کی طرف تھا اس لیے جو بھی گاڑی سرحد پار کر کے دوسری طرف جاتی تھی پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا کنٹرول اس پر سے ختم ہوجاتا تھا ۔ایران داخل ہونے والے زمباد ڈرائیور وہاں کس سے مل رہے ہیں کیوں مل رہے ہیں اس کی روک تھام ممکن نہیں تھی اس لیے اب ایک سال ہوگیا کہ پاکستان نے وہ بفر زون اپنی سائیڈ پر کرلیا ہے ۔اب کوئی پاکستانی گاڑی سرحد پار کرکے ایران میں داخل نہیں ہوتی اس سے جاسوسی والا خطرہ بھی کافی حد تک کنٹرول میں آگیا اور پھر منشیات اور اسلحہ کی روک تھا م کے لیے سکیورٹی فورسز نے چار جگہوں پر چیک اپ، مانیٹرنگ اور تلاشی لینے کا کام شروع کردیا۔ساتھ ہی ڈرون سے نگرانی اور سکینرز کی تنصیب کاکام شروع کیا گیا ہے تاکہ ہر گاڑی کی خود کارطریقے سے سکینگ ہوسکے کہ اس میں تیل ہے یا اسلحہ۔ سکیورٹی فورسز کے ان کچھ اقدامات سے ایرانی تیل کی سمگلنگ میں بڑی حد تک کمی آئی ہے ۔اب سوال یہ ہوسکتا ہے کہ مکمل بند کیوں نہیں تو اس کا جواب ہے کہ اس علاقے کی واحد معیشت ہی یہ تیل ہے ۔یک دم خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

مزیدخبریں