نجی ہاسپیٹل کی چمک اپنی جگہ مگرسچ یہ ہے کہ مشکل کی ہرگھڑی میں عوام کی اصل امید انہی سرکاری ہسپتالوں سے وابستہ ہوتی ہے جنہیں برا بھلاکہتے ہوئے ہم نہیں تھکتے۔چار سال پہلے کی بات ہے ہماراایک شیرخوار بھتیجا پیدائش کے ساتھ ہی آکسیجن کی کمی اور سانس کے مسئلے کا شکارہواجس کی وجہ سے اس کی حالت تسلی بخش نہیں تھی۔اس لئے بہتر علاج کی امیدپرہم اسے ایبٹ آباد کے ایک بڑے نامی گرامی چلڈرن ہسپتال میں داخل کرگئے۔ہسپتال کے اخراجات بھاری تھے لیکن ہمیں امید تھی کہ جدید سہولیات،ماہر ڈاکٹرزاور اچھے انتظامات بچے کو زندگی کی طرف واپس لے آئیں گے۔ جب تک بچے کی سانس چلتی رہی وہاں اخراجات بھی نوٹ ہوتے رہے مگرپھر جب ڈاکٹروں کو محسوس ہوا کہ بچے کو جو سہولیات درکار ہیں وہ یہاں نہیں۔ہمیں کہا گیا کہ بچے کو فوراً ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کریں کیونکہ وہاں وہ سہولیات دستیاب ہیں جو ہمارے پاس یہاں نہیں۔وہ لمحہ ہمارے لئے محض ایک طبی فیصلہ نہیںبلکہ ایک ایساسبق تھاجس نے ہماری بہت سی خوش فہمیاں اورغلط گمانیاں ایک لمحے میں دور کر دیں۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کا شمار انہی سرکاری ہسپتالوں میں ہوتاہے جوآج بھی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لئے امیدکی پہلی کرن اور زندگی کا آخری سہارا ہے۔ تقریباً دوہزاربیڈزپر مشتمل یہ ہسپتال نہ صرف ہزارہ بلکہ ملک کا ایک بڑاسرکاری اورتدریسی ہسپتال ہے۔ یہاں ہزارہ سمیت کشمیر،گلگت اورصوبے کے دیگر اضلاع اور علاقوں سے بھی لوگ علاج کےلئے آتے ہیں۔یہاں ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت، آپریشن تھیٹرز، ریڈیالوجی، لیبارٹری، بلڈ بینک سمیت میڈیکل کی تقریباًتمام سہولیات موجود ہیں۔کوئی سرکاری ادارہ مسائل سے پاک نہیں یقینا یہاں بھی مسائل ہوں گے۔ نفسانفسی کے اس دورمیں ایوب میڈیکل کمپلیکس کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل اوران کی ٹیم نے وہ چراغ جلائے ہیں جن کی روشنی آنے والے وقتوں میں بہت دورتک پھیلے گی۔ ڈاکٹر عابد جمیل کو 2024 میں ایبٹ آبادکمپلیکس کے بورڈآف گورنرزکی سربراہی سونپی گئی۔ان کے دور میں آئی بی پی کو مزید منظم اور م¶ثر بنانے، شام و رات کے اوقات میں ڈاکٹروں کی موجودگی ودستیابی کویقینی بنانے،ایمرجنسی آپریشن تھیٹر کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے، نیورو سرجری کی اپ گریڈیشن، نئی سی ٹی سکین مشین کی انسٹالمنٹ ،کارڈیک اوٹی کی تعمیر اور دیگر شعبوں میں بہتری لانے کے لئے بلاکسی شک وشبہ کے خاطرخواہ اقدامات کئے گئے ہیںکیونکہ اس ہسپتال کے میڈیا منیجر سیف اللہ راجپوت جن کاصحافت سے تعلق رہا ہے جن سے وقتاًفوقتاًہسپتال کے بارے میں بات ہوتی رہتی ہے۔ ڈاکٹرعابدجمیل نے اپنی محنت، دیانت اور مثالی قیادت سے ایبٹ آبادکمپلیکس کو جدید سہولیات سے آراستہ کرکے یہ ثابت کردیاہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر اپنے مریض کا علاج کرتا ہے لیکن ایک اچھا منتظم اور درد دل رکھنے والا رہنما پورے ہسپتال کا نظام اور نقشہ بدل دیتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں اوراداروں کو صرف بجٹ نہیں بلکہ سمت بھی چاہیے۔انہیں صرف مشینیں نہیں چلانے والے ماہر لوگ بھی چاہئیں اور سب سے بڑھ کر ڈاکٹر عابد جمیل کی طرح ایسے لوگ چاہئیں جو سرکاری ہسپتالوں کو محض ایک ملازمت یا عہدہ نہیں بلکہ عوام کی ایک امانت کے طور پر دیکھیں۔ ایک دیانت دار اور قابل قیادت محدود وسائل میں بھی سمت درست کرسکتی ہے جبکہ کمزور انتظامیہ بڑے بجٹ کو بھی غیر م¶ثر بنا سکتی ہے۔ہمیں سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں اپنی سوچ بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہر خرابی کو بنیاد بنا کر پورے نظام کو ناکام قرار دینادرست نہیں اور خامیوں سے صرف نظر کرنا بھی مناسب نہیں۔ ہمیں دونوں باتیں ایک ساتھ ماننی ہوں گی۔ سرکاری ہسپتالوں میں مسائل موجود ہیں لیکن انہی ہسپتالوں کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔اگر حکومتیں سرکاری ہسپتالوں کو سیاسی اعلانات کے بجائے مستقل پالیسی،مناسب فنڈنگ،جدید ٹیکنالوجی، میرٹ پر تقرریوں،شفاف انتظام،ماہر قیادت اور مسلسل نگرانی دیں تو یہی ادارے عوام کے لئے حقیقی سہارا بن سکتے ہیں۔ اس لئے سرکاری ہسپتالوں کو نظرانداز نہیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بیماری امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی،حادثہ کسی کا معاشی پس منظر نہیں پوچھتا اور ایمرجنسی یہ نہیں دیکھتی کہ مریض کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ایسے میں ریاست کا مضبوط سرکاری ہسپتال دراصل صرف ایک عمارت نہیں ہوتابلکہ وہ اس یقین کا نام ہوتا ہے کہ مشکل کی آخری گھڑی میں بھی کوئی دروازہ ایسا موجود ہے جہاں عام آدمی امید لے کر پہنچ سکتا ہے۔ہم نجی شعبے کی مخالفت نہیں کر رہے۔نجی ہسپتال بھی صحت کے نظام کا اہم حصہ ہیں اور بہت سے ادارے بہترین طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں لیکن ایک ریاستی نظامِ صحت کی بنیاد مضبوط سرکاری ہسپتالوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ سرکاری ہسپتالوں میں جدید مشینری، تربیت یافتہ عملہ، ادویات، تشخیصی سہولیات، ایمرجنسی سروسز، آئی سی یو، کینسر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کی سہولیات بہتر ہوں گی تو اس کا فائدہ صرف ایک مریض کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ملے گا۔اسی لئے سرکاری ہسپتالوں کو صرف عمارتیں نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ریاست کی اجتماعی ذمہ داری اور عوام کی مشترکہ ملکیت ہیں۔
سرکاری ہسپتال....آخری سہارا
09:40 AM, 20 Sep, 2026