استاد اور لکھاری کبھی نہیں مرتے 

09:07 AM, 20 Sep, 2025


 میں نے ہمیشہ یہ اعتراف کیا ہے میرے بعض سٹوڈنٹس مجھ سے زیادہ لائق تھے ، اکثر ایسے ہوتا تھا دوران لیکچر میں کچھ بھول جاتا وہ مجھے اس ٹاپک سے متعلق ایسی بات بتا دیتے میں اس پر خوش ہو کر یا فخر سے ان سے گزارش کرتا وہ ڈائس پر آ جائیں ، آج وہ لیکچر دیں میں ان کے سامنے بیٹھ کر انہیں سنوں گا ، آسٹریلیا میں مقیم میرا ایک بہت ہی عزیز سٹوڈنٹ حافظ شاہد اقبال پاک آسٹریلین بزنس کلب کا صدر اور پاکستان ایسوسی ایشن آسٹریلیا کا صدر رہاہے ، وہ اس وقت آسٹریلیا کا بڑا کامیاب بزنس مین ہے ، اس کے علاوہ میرا ایک اور سٹوڈنٹ افضال احمد بٹ آج کل نامور وکیل ہے ، پہلے سیشن جج تھا، ایک کرپٹ اور کریمنل سسٹم کی مشکلات کا حد سے زیادہ اسے سامنا کرنا پڑا اس نے بطور ایڈیشنل سیشن جج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وکالت شروع کر دی، بطور وکیل روایتی طور پر وہ دونوں پارٹیوں سے پیسے نہیں پکڑتا، کیس کو بڑی توجہ سے سنتا اور سمجھتا ہے اور اگر یہ اطمینان اور یقین حاصل کر لے وہ کیس حق سچ کا ہے پھر وہ فیس نہیں حق سچ دیکھتاہے، ایسے وکلاءہمارے ہاں بہت کم رہ گئے ہیں ، ہمارے عدالتی نظام کی خرابی کے پیش نظر اکثر کہا جاتا ہے”وکیل کے بجائے جج ہی کر لو“ افضال احمد بٹ ایسا وکیل ہے اسے وکیل کرنے کے بعد کسی کو جج کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ، وہ اپنے کیس پر بڑی محنت کرتا ہے اور جج کے پاس کوئی ایسا راستہ نہیں رہ جاتا وہ عدل و انصاف میں کوئی ڈنڈی مار سکے یا کوئی راہ فرار اختیار کر سکے ، میرے یہ دونوں سٹوڈنٹس میری گزارش کے مطابق کلاس روم میں ڈائس پر آنے سے معذرت کر لیتے تھے ، وہ کہتے تھے ”سر یہ ہم سے نہیں ہوگا کہ آپ کلاس روم میں بطور سٹوڈنٹ بیٹھیں اور ہم بطور ٹیچر پڑھا رہے ہوں“ ، مگر میں جب اپنی گزارش پر زور دیتا مجبوراً انہیں ایسا کرنا پڑ جاتا تھا، اس عالم میں میرے کتنے ہی سٹوڈنٹس اصل میں میرے استاد ہیں ، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے جو زندگی کی کامیابیوں میں میرے بہت کام آیا ہے، اللہ نے مجھے اس اعزاز سے بھی نوازا میں نے تقریبا ًتینتیس برس پڑھایا اور میری کلاس کا رزلٹ ہمیشہ سو فیصد رہا ، ایک بچہ کبھی فیل نہیں ہوا ، مجھے ایک واقعہ یاد آ رہاہے ، ایک بار میرے ایک سٹوڈنٹ کے والد اسے ساتھ لے کر میرے گھر میرا شکریہ ادا کرنے آئے ،ان کے بچے نے میری کلاس میں اول پوزیشن لی تھی ، وہ بار بار فرما رہے تھے”میرا بیٹا بہت نکما ہے ، یہ آپ کی محنت اور توجہ کا نتیجہ ہے وہ کلاس میں اول آگیا ہے“، میں بار بار ان سے کہہ رہا تھا”یہ میری توجہ یا محنت کا نہیں آپ کے بیٹے کی قابلیت کا نتیجہ ہے“، ان کا یہ اصرار جب حد سے بڑھا کہ یہ ان کے بچے کی قابلیت اور محنت کا نہیں میری توجہ کا نتیجہ ہے تو میں نے عرض کیا ”اگر یہ میری توجہ کا نتیجہ ہوتا پھر میری کلاس میں کچھ بچے فیل بھی ہوئے ہیں ،کیا وہ بھی میری توجہ سے ہوئے ہیں ؟ ، اس پر وہ ہنس پڑے ، یہ بات میں نے ان سے ازرہ مذاق کہی تھی ورنہ اوپر بھی میں نے عرض کیا ہے میری کلاس میں الحمدللہ کبھی کوئی بچہ فیل نہیں ہوا ، یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں میرے سٹوڈنٹس نے ہمیشہ مجھے بڑی عزت دی، مجھے اپنے کسی سٹوڈنٹ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے ا±س نے میرے ادب و احترام میں کوئی کمی کی ہو ، البتہ خود سے مجھے بیشمار گلے شکوے ہیں بطور استاد جو کردار میرا بنتا تھا وہ میں پوری طرح نہیں نبھا سکا ، اب جب کہ میں نے ریٹائرمنٹ لے لی ہے میں نے اپنے پرنسپل صاحب سے گزارش کی ہے وہ کبھی کبھار مجھے کلاس پڑھانے کی اجازت دے دیا کریں ،تینتیس سالہ سرکاری استادی میں کتنے موقع آئے جب بطور استاد نہیں بطور صحافی یا کالم نویس کے حکمرانوں نے اپنے حق میں لکھوانے کے لیے مجھے نوازنے یا خریدنے کے لئے یہ پیشکش کی میں ڈیپوٹیشن پر کسی اور اہم یا کماو محکمے میں چلا جاوں , کسی آرٹس کونسل کا ڈی جی بن جاوں ، پنجاب پبلک لائبریریز کا ڈی جی بن جاو¿ں، اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈی جی بن جاو¿ں ، حتیٰ کہ ایک بار اس وقت کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے عجیب و غریب پیشکش کی ، فرمانے لگے”توں ہُن ساری زندگی استادی کر دیاں رہنا ایں ، تیرے کولوں کوئی چنگا کام لینے آں“ ،”چنگا کام“ ا±نہوں نے یہ بتایا وہ مجھے پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن میں بھیجنا چاہتے تھے ، میں نے عرض کیا ”میرا تو کرپشن کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے ، مجھے آپ اینٹی کرپشن میں کیوں بھیجنا چاہتے ہیں ؟“ ، اس پر وہ اور ان کے ساتھ کھڑے ان کے پرنسپل سیکرٹری جی ایم سکندر مسکرا دئیے ، میں بیرون ملک تھا جب مجھے جی ایم سکندر کے انتقال کا پتہ چلا ، ان جیسے عاجز افسر ہماری بیوروکریسی میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں ، اب صرف چھان بورا ہے اور اس چھان بورے سے بھی بو آتی ہے ، عمران خان نے اپنی وزارت عظمیٰ کے آخری دنوں میں مجھے بلایا اور کہا”میں تمہیں کویت میں سفیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں“ ، میں نے عرض کیا”ایک تو یہ میرا میرٹ یا حق نہیں بنتا دوسرے مجھے سوائے لکھنے اور پڑھانے کے کوئی کام نہیں آتا“ ، ان دونوں کاموں سے مجھے بڑی محبت ہے اور یہ وہی محبت ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا 
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام 
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا 
میںمکرر عرض کرتا ہوں بطور استاد پوری دنیا میں اللہ نے مجھے بہت عزتوں سے نوازا اس حوالے سے بے شمار واقعات ہیں ، ایک واقعہ میں شاید ہی کبھی بھول پاوں گا، پچھلے برس کینیڈا کے ایک انتہائی خوبصورت شہر وینکور کے ایک گیس اسٹیشن میں ٹائلٹ جانے کے لیے میں رکا، میں جب ٹائلٹ سے باہر آیا میں نے دیکھا ایک نوجوان ہاتھ باندھے کھڑا تھا ، وہ مجھ سے لپٹ کر رونے لگا ، وہ 1997ءمیں ایف سی کالج میں میرا سٹوڈنٹ تھا ،میں نے بھی اسے پہچان لیا تھا ، اس کا نام عمر متین ہے ، اس نے بتایا یہ گیس اسٹیشن اسی کا ہے ، بعد میں پتہ چلا وہ وینکور میں ایسے تین اور گیس اسٹیشنوں کا مالک ہے ، وہ ایک کامیاب بزنس مین ہے ، وہ مجھے اپنے گھر لے گیا، تین دن ا±س نے مجھے اپنے پاس رکھا ،اتنی خدمت کی میں شاید ھی کبھی بھول سکوں گا ، اس طرح کے سینکڑوں سٹوڈنٹس دنیا بھر میں ہیں ، وہ مجھے بلاتے ہیں مجھ سے محبت کرتے ہیں ، اپنے والد کی طرح عزت دیتے ہیں ، قطر میں مقیم میرے ایک سٹوڈنٹ علی عظیم نے اپنے خوبصورت گھر کی اینٹرس پر دو تصویریں سجا رکھی ہیں ایک اپنے والد کی دوسری میری تصویر ہے، وہ جب گھر میں داخل ہوتا ہے پہلے ان تصویروں کو چومتا ہے ، یہ تمام سٹوڈنٹس میرا اثاثہ ہیں ، پاکستان اور دنیا بھر میں میری اصل جائیداد ہیں ،سی ایس ایس کر کے میں نے کیا کر لینا تھا ؟ زیادہ سے زیادہ وفاقی سیکرٹری یا بطور آئی جی وغیرہ ریٹائرڈ ہو کر گمنامی یا بدنامی کی ایسی زندگی گزار رہا ہوتا جو بے شمار افسران گزار رہے ہیں ،کل ایسے ہی ایک دوست نے ایک ریٹائرڈ افسر کے بارے میں مجھ سے پوچھا ”وہ زندہ ہے یا فوت ہوگیا ہوا ہے ؟“ میں نے کہا وہ زندہ ہے ، بعد میں پتہ چلا وہ تو کب کا فوت ہو گیا ہوا ہے۔۔

مزیدخبریں