پاک سعودی دفاعی معاہدہ: سلیوٹ پاک فوج

09:05 AM, 20 Sep, 2025

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بہترین مقام پر کھڑا نظر آ رہا ہے۔ 7 تا 10مئی 2025ءہم نے دنیا کی سب سے بڑی ڈیموکریٹک مملکت بھارت کو عسکری ہزیمت سے دوچار کیا۔ بھارت کے ساتھ امریکہ بھی کھڑا تھا، اس کی اعلیٰ ترین فوجی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مسلم دشمنی سے سرشار اسرائیل عملاً اس کے ساتھ کھڑا تھا ،نیٹو کی بہترین ہوائی فضائی ٹیکنالوجی، رافیل کے علاوہ اسرائیل کی ڈرونز مشینری بھی بھارت کے ساتھ کھڑی تھی۔ اسرائیلی ماہرین بذات خود دہلی میں موجود تھے۔ بھارت ہمیں فتح کرنے چلا تھا۔ ہماری ظاہری حالت بھی کچھ بہتر نہیں تھی۔ معاشی لحاظ سے بھی اور سیاسی لحاظ سے بھی ہم کمزور تھے لیکن ہماری عسکری قیادت نے جنرل عاصم منیر کی ولولہ انگیز قیادت میں جس طرح ری ایکٹ کیا، اس سے دنیا حیران رہ گئی۔ پاکستان کی عسکری برتری کی دھاک بیٹھ گئی۔ 4 روزہ جنگ نے پاکستان کی فوجی برتری پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
اہل حرم اس وقت شدید اقطراب میں ہیں۔ صورتحال کے بگاڑ کی اصل وجہ اسرائیل کی مہم جوئی ہے۔ 7 اکتوبر 2022ءمیں غزہ پر مسلط کی جانے والی جنگ نے عالم اسلام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔ اسرائیلی قیادت ، فکری و نظری اعتبار سے صیہونی ہے جو گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے یکسو ہے۔ ایک روحانی و نسلی ریاست کے قیام کو وہ عظیم خدائی ذمہ داری بھی قرار دیتے ہیں بلکہ اسے خدائی وعدہ بھی قرار دیتے ہیں۔ ویسے صیہونی قیادت کی ساری باتیں غلط نہیں ہیں۔ گریٹر اسرائیل کا قیام کوئی سازشی نظریہ نہیں ہے بلکہ اب تو یہ ایک ایسی حقیقت کے طور پر سامنے آچکا ہے، جس کی جغرافیائی حدود ہمارے سامنے برسر زمین معرض وجود میں آرہی ہیں۔ اسرائیل کی صیہونی قیادت گریٹر اسرائیل کے نقشے میں بڑی مہارت و سرعت کے ساتھ رنگ بھر رہی ہے، اس نقشے میں کسی فلسطینی ریاست کا وجود نظر نہیں آتا ہے۔ فلسطینیوں کی بھرپور آواز حماس کے خاتمے کی کاوشیں جاری ہیں۔ اسرائیل حماس کو دہشت گرد گروہ قرار دے چکا ہے اور اس کے خاتمے کے لئے تمام حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ لبنان ہو، عراق ہو، ایران ہو یا قطر یا کوئی بھی جگہ، اسرائیل کے مطابق حماس قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ حماس قیادت پر قطر میں حالیہ حملے کے بعد عربوں کو حالات کی سنگینی کا ذرا سا احساس ہوا اور پھر ہل جُل شروع ہوئی۔ قطر نے امریکہ کو 1300 ارب ڈالر کے خریداری کے ٹھیکے دیئے ہیں اور امریکی صدر کو 400 ملین ڈالر کا بوئنگ جہاز تحفے میں دیا ہے۔ قطر میں ہی امریکہ کا خطے میں سب سے بڑا 
عسکری مستقر بھی ہے۔ قطر کے امریکہ کے ساتھ بہت ہی قریبی تعلقات بھی ہیں، اس کے باوجود اسرائیل نے قطر پر حملہ کرنے کا موقع گنوایا نہیں۔ امریکہ صرف اطلاع ہی دے سکا بلکہ بات تو یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اسرائیل نے امریکی آشیرباد کے ساتھ قطر پر حملہ کیا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس قیادت کو ہلاک کرنے کے لئے اسرائیل کا یہ حملہ امریکہ اور قطر کے تعاون سے کیا گیا۔ بہرحال معاملات اس نہج پر جا پہنچے ہیں کہ عربوں نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ کہیں قطر کے بعد کسی اور عرب ملک پر اسرائیلی جارحیت عذاب الٰہی کی صورت میں نازل نہ ہو جائے۔ نیتن یاہو بڑی وضاحت سے کہہ چکے ہیں کہ حماس کے خاتمے کے لئے وہ ایسی کاوشیں کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں جیسے اسامہ بن لادن کے خاتمے کے لئے امریکہ نے پاکستان میں گھس کر کارروائی کی تھی ، گویا پاکستان کو کھلی دھمکی دے دی گئی ہے، ویسے مسلم دنیا کے 57 عربی و عجمی ممالک میں سوائے پاکستان، ترکی اور ایران کے کسی بھی ملک میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا جواب دے سکے۔ پاکستان ایک ایٹمی ریاست ہے، پاکستان اپنی عسکری صلاحیت کا اظہار مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں کر چکا ہے، اس کے علاوہ ایران، اسرائیل جنگ کے دوران بھی پاکستانی اپنی مدبرانہ عالمی قیادت کا اظہار کر چکا ہے۔ اسرائیل اپنی بدمعاشی پھیلاتا جا رہا ہے۔ عربوں کو شاید امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ بارے تشویش ہونے لگی ہے۔ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں مدینہ منورہ کا کچھ علاقہ بھی شامل دکھایا گیا ہے۔ سعودی عرب بھی شاید اب حقیقی تشویش میں مبتلا نظر آرہا ہے۔ عرب شیوخ نے اپنی عسکری قوت قائم کرنے کی بجائے امریکی افواج کی سکیورٹی پر انحصار کی پالیسی اختیار کئے رکھی ہے، انہیں ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں کوئی ان کی حکومت کا خاتمہ نہ کر ڈالے، اس لئے وہ اپنی ریگولر آرمی کو ایک حد سے آگے مضبوط اور مو¿ثر نہیں بناتے۔ سعودی عرب نے بھی اپنے تیل کے کنوﺅں اور دیگر تنصیبات کی نگرانی و چوکیداری کے لئے امریکی فوج کو کرائے پر لے رکھا ہے جبکہ ایک معاہدے کے تحت پاکستانی افواج 1980ءسے حرمین شریفین کی حفاظت کر رہی ہیں۔ اب سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ دفاعی معاہدہ بھی ہو گیا ہے، جس کے مطابق کسی بھی ایک ملک پر حملہ دوسرے پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا، گویا اب سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے دفاعی حلیف بن گئے ہیں۔ اب اسرائیل، سعودی عرب کی طرف میلی آنکھ بھی اٹھا کر دیکھنے سے پہلے سوبار نہیں، ہزار بار سوچے گا۔ اسے ایٹمی پاکستان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ ایٹمی پاکستان جو گھس کر مارنے میں یدطولیٰ رکھتا ہے۔
پاکستان اپنے دشمنوں سے نمٹنا جانتا ہے۔ بھارت ہو یا اسرائیل ، پاکستان ان کی دشمنی، عملی دشمنی کا سامنا کر چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری افواج نے ہنود و یہود کے ایجنٹوں کو دھول چٹا کر اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ اقوام مغرب بشمول عیسائی دنیا کسی بھی مسلم ملک کو ضربی اور حربی طور پر مضبوط اور مو¿ثر نہیں دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کی قیادت میں اسلامی ممالک بالعموم اور عربی ممالک بالخصوص معاشی و عسکری طور پر کمزور کر دیئے گئے ہیں، انہیں عالمی نظام کے شکنجے میں کچھ اس طرح کس دیا گیا ہے کہ ان میں کسی قسم کی سکت ہی باقی نہیں رہ گئی ہے۔ نظری و فکری طور پر انہیں مکمل طور پر قلاش کر دیا گیا ہے۔ وطنی، نسبی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کے فروغ کے ذریعے ان کی حمیت صلب کر لی گئی ہے۔ ان تمام کاوشوں کے باوجود پاکستان عسکری طور پر ایک نمایاں اور طاقتور ملک مانا جاتا ہے۔ پاکستان نے اپنی حربی و ضربی صلاحیت منوا لی ہے۔ اس پر مستزاد، اس کی جوہری صلاحیت عیسائی دنیا ہی نہیں بلکہ کسی بھی مغربی طاقت کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ عربوں کو سر نگوں کر لینے کے بعد ترکی اور پاکستان ہی دو ایسی مملکتیں باقی رہ جاتی ہیں جو عسکری اعتبار سے مو¿ثر ہیں۔ پاکستان بالخصوص ان کی نظروں میں کھٹکتاہے کیونکہ وہ ایٹمی صلاحیت سے بھی لیس ہے، اس لئے اسے کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ سیاسی ابتری کے ذریعے اس کے اعصاب شل کئے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی زوروں پر ہے، دہشت گردی کے خاتمے کی ریاستی پالیسی کو بھی متنازع بنانے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں، اس کام میں عمران خان اور ان کے ماننے والے شامل ہیں۔ پاکستان کا واحد فعال اور متحرک قومی ادارہ فوج ہے۔ عمران خان نے اسی ادارے اور اس کے سربراہ کو نشانے پر لے رکھا ہے۔ ایک طرف فوج کی سیاست میں مداخلت کی باتیں کرتے ہیں دوسری طرف مبینہ پولیٹیکل ڈیڈلاک کے خاتمے کی اولین شرط بھی فوج سے مذاکرات قرار دیتے ہیں۔ فوج کی مخالفت اور اسے بدنام کرنے کے لئے حدود کراس کر چکے ہیں۔ اس بارے میں اب کوئی شک و شبے کی گنجائش نہیں رہ گئی کہ عمران خان ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی انارکی کا فروغ اور فوج کے خلاف نفرت پھیلانا ان کے اہداف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس وقت جو کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، ہماری مسلح افواج کی اہمیت میں جس طرح اضافہ ہو رہا ہے، اسے مرتکز کر کے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے استعمال کیا جائے اور عمران خان جیسے ملک دشمن عناصر کا ایسے ہی قلع قمع کیا جائے جیسے ہماری افواج خوارج کا ناطقہ بند کر رہی ہے۔

مزیدخبریں