ملکی قرضے ۔۔۔ ہوشر با اضافہ!

09:04 AM, 20 Sep, 2025


ایک قومی معاصر میں ملکی قرضوں کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں ایک رپورٹ چھپی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ میاں شہباز شریف کی موجودہ حکومت کے مارچ ۲۰۲۴ءسے جون ۲۰۲۵ءتک سولہ ماہ کے دوران ملکی قرضوں میں ۱۳۰۷۸ ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کا قرضہ جو فروری ۲۰۲۴ءمیں ۶۴ ہزار ۸۱۰ ارب روپے تھا، اب بڑھ کر ۷۷ ہزار ۸۸۸ ارب روپے ہو گیا ہے۔ اس میں مقامی قرضوں میں ۱۱ ہزار ۱۷۹۶ ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں میں ۱۱۲۸۲ ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح مقامی قرضے جو فروری ۲۰۲۴ءمیں ۴۲ ہزار ۶۷۵ ارب روپے تھے اب بڑھ کر ۵۴ ہزار ۴۷۱ ارب روپے اور غیر ملکی قرضے جو فروری ۲۰۲۴ءمیں ۲۲ ہزار ۱۳۴ ارب روپے تھے اب بڑھ کر ۲۳ ہزار ۴۱۷ روپے ہو چکے ہیں۔
ملکی قرضے میں اضافے کے یہ اعداد و شمار بلا شبہ ہو شربا ہیں۔ ان کا اگر مزید تجزیہ کیا جائے تو صورت حال کچھ اس طرح سامنے آتی ہے۔ سولہ ماہ میں ۱۳۰۷۸ ارب روپے اضافے کا مطلب ہے کہ ایک سال یا بارہ ماہ میں اوسطاً ۸۱۷ ارب ۳۸ کروڑ روپے اضافہ ہوا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ اضافہ ماہانہ بنیاد پر اوسطاً ۶۸ ارب ۱۲ کروڑ روپے بنتا ہے۔ اس کو مزید تقسیم کیا جائے تو ایک دن کا اضافہ اوسطاً ۲ ارب ۲۴ کروڑ یا ۲۲۴ کروڑ روپے سامنے آتا ہے۔ جی ۲۲۴ کروڑ روپے ایک دن کا۔ گھنٹوں اور منٹوں میں تقسیم کریں تو ایک گھنٹے میں ۹ کروڑ ۳۳ لاکھ اور ایک منٹ میں ۱۵ لاکھ ۵۶ ہزار بنتا ہے۔ پاکستان کی ۲۵ کروڑ کی کل آبادی پر اس اضافے کو تقسیم کیا جائے تو پاکستان میں ہر فرد پر ایک گھنٹے میں تقریباً ۳۸ لاکھ روپے یا ایک منٹ میں ۶۵ ہزار روپے واجب الادا قرض میں اضافہ ہو چکا ہے۔
میں کوئی ماہرِ معیشت نہیں ہوں۔ میں نے سٹیٹ بینک کی طرف سے ملکی قرضے میں سولہ مہینے کے دوران اضافے کو مزید آگے تقسیم کیا ہے تا کہ پتہ چلے کہ پاکستان کے ہر فرد پر اس دوران قرضوں کا بوجھ کتنا بڑھ چکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے ان اعداد و شمار میں کوئی غلطی نہیں ہو گی۔ اس کے ساتھ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ موجودہ دور میں ملکوں اور حکومتوں کے کاروبار اور معاملات قرضوںکے بغیرنہیں چلتے اورحکومتیں ملکی اورغیر ملکی بینکوں اور دوسرے مالیاتی اداروں سے قرض لیتی رہتی ہیں۔ امریکہ دنیا ترقی یافتہ ملک اور سپر پاور ہے وہاں بھی مملکت کے معاملات چلانے کے لیے قرض لیے جاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے ممالک بھی قرضوں پر انحصار کرتے ہیں لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہاں سالانہ یا روزانہ کی بنیاد پر قرضوں میں اتنا اضافہ نہ ہوتا ہو گا۔ پھر قرضے لینے کے ساتھ ملکی وسائل اور آمدنی کے ذرائع کو بھی سامنے رکھا جاتا ہے کہ قرضوں کی اقساط اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔
اس حوالے سے پاکستان کی صورت حال کا جائزہ لیں تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملکی وسائل اور آمدنی کے ذرائع اتنے نہیں ہیں کہ ہمارا ملک اتنے بھاری قرضوں یا اِن میں آئے روز کے اضافے کا متحمل ہو سکے۔ پھر ہمارے ہاں قرضوں یا ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی کے حوالے سے یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ جب بھی نئے سال کا میزانیہ یا بجٹ پیش کیا جاتا ہے اس میں اخراجات کی دوسری بڑی مَد ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی ہوتی ہے اور یہ پچھلے کتنے ہی برسوں بلکہ عشروں سے ہو رہا ہے۔ سال ۲۶۔۲۰۲۵ءکے سالانہ بجٹ میں ۱۱ہزار ۵۷۲ ارب روپے کی کل آمدنی میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے ۸۲۰۷ ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرضوں پر سودکی ادائیگی کی مَد میں کتنی بھاری رقم یا کل بجٹ کا کتنا بڑا حصہ مختص کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی آمدنی میں صوبوں کا حصہ نکالنے کے بعد اس میں سے دفاع کے ضروری اخراجات اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں اُٹھنے والے اخراجات کو منہا کیا جائے تو پھر بجٹ میں اتنی رقم نہیں بچتی کہ دوسرے ضروری اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ اس کے لیے آسان راستہ یہ نکالا گیا ہے کہ دوسرے ملکی اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید قرضے لے لیے جائیں۔ اس حوالے سے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہر حکومت نے خواہ موجودہ حکومت ہو یا اس سے پہلے کی حکومتیں ہوں، انہوں نے قرضوں پر مزید قرضے لینے نوشتہِ تقدیر سمجھ کر اختیار کر رکھا ہے۔ گویا حکومتوں کے نزدیک اہم بات یہ ہے کہ انہیں کاروبارِ حکومت چلانے کے لیے پیسے ملنے چاہئیں، اس کے لیے انہیں اگر عالمی مالیاتی اداروں اور بعض دوست ممالک کے سامنے یا اندرونِ ملک بینکوں کے سامنے جھولی پھیلانا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ خواہ اس سے ملکی معیشت پر بُرے اثرات پڑتے ہیں تو پڑتے رہیں۔ ملک قرضوں کی دلد ل میں دھنس چکا ہے تو دھنستا رہے، بس پیسے آنے چاہئیں جیسے بھی آئیں۔معروضی صورتِ حال کا یہ پہلو بلا شبہ افسوس ناک ہے۔ کیا ہمارے پاس اس سے ہٹ کر اور کوئی راستہ نہیں جس سے ہم پہلے سے موجود قرضوں میں ناروا بوجھ سے بچ سکیں۔ یقینا اس کے لیے راستہ ہے اور وہ بچت کا راستہ ہے، خود کفالت کا راستہ ہے، کفایت شعاری کا راستہ ہے اور غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کمی کا راستہ ہے۔ سرکاری گاڑیوں، ٹرانسپورٹ اور پروٹوکول کے رائج الوقت چلن میں تبدیلی اور سادگی اختیار کرنے کا راستہ ہے۔ دفاتر میں شاہانہ سج دھج اور بناوٹ و سجاوٹ کی بجائے سادگی اور دفتری اخراجات کو کم کرنے کا راستہ ہے۔ سب سے بڑھ کر خود احتسابی، قربانی اور ایثار کے چلن کو اختیار کرنے کا راستہ ہے۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ مراعات یافتہ طبقہ جسے اشرافیہ کا نام دیا جاتا ہے اور جس میں اعلیٰ حکومتی عہدیدار، سول اور ملٹری بیوروکریسی کے ارکان، اعلیٰ عدلیہ کے ججز، ارکانِ پارلیمنٹ بشمول صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور کابینہ کے ارکان اپنی تنخواہوں، مراعات اور سہولیات میں رضاکارانہ کمی کر یں۔
یہ المیہ نہیں ہے کہ اِن مخصوص طبقات کے معزز خواتین و حضرات کے پروٹو کول، سرکاری ٹرانسپورٹ اور رہائش کی سہولیات، یوٹیلیٹی بِلوں کی ادائیگی، سفری اخراجات اور دوسرے اسی طرح کے اخراجات پر سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق کسی ایسے ملک سے ہے جہاں تیل اور پٹرول کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ فی کس سالانہ آمدنی لاکھوں ڈالر میں ہے، زرِ مبادلہ اور افراطِ زر کے کوئی مسائل نہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کا نام و نشان نہیں اور ہر طر ف چین و سکون کی بانسری بجتی سنائی دیتی ہے۔ بلا شبہ ہمیں حکومتی اور سرکاری سطح پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی، معاشرتی اور انفرادی سطح پر بھی سادگی، کفایت شعاری، بچت، خود کفالت اور قربانی و ایثار کی راہ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں