واشنگٹن :امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں بگرام ایئربیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس بیس کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ یہ بیس دوبارہ اس کے کنٹرول میں آئے، خاص طور پر چونکہ یہ چین کے قریب واقع ہے۔
طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افغانوں نے کبھی بھی کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی قبول نہیں کی، اور دوحہ معاہدے میں بھی اس کی مخالفت کی گئی ہے۔ تاہم طالبان نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا مذاکرات کرنا چاہے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ بگرام ایئربیس پر دوبارہ قبضہ کرنا ایک بڑا آپریشن ہوگا، جس میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی اور بھاری مالی وسائل کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت اس حوالے سے کوئی حتمی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔
افغان سیاسی رہنما ذاکر جلالی نے صدر ٹرمپ کو مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات کے فروغ کے لیے بات چیت ضروری ہے، چاہے فوجی موجودگی نہ ہو۔
بگرام ایئربیس، جو افغانستان کا سب سے بڑا فوجی ہوائی اڈہ ہے، دو دہائیوں تک امریکی افواج کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر فوجی سہولیات کے علاوہ مختلف دکانیں اور تفریحی مقامات بھی موجود تھے۔
صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی حلقوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ افغانستان میں ممکنہ فوجی مداخلت نئی جنگ کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ امریکا اس وقت چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت اور دیگر چیلنجز سے بھی نمٹ رہا ہے۔