برج الخلیفہ، شانزے لیزا اور عرب دفاع

09:26 AM, 19 Sep, 2025

فرانس میں دنیا کی خوبصورت ترین ایونیو ’’شانزے لیزا‘‘ کے 20 فیصد کا مالک قطر ہے۔ لینڈ پلیس ڈی لا کونکورڈ اور آرچ ڈی ٹرائیومف کے درمیان تقریباً دو کلومیٹر پر مشتمل عالمی سطح پر مشہور ’’شانزے لیزا‘‘ کس کی ملکیت ہے؟ پبلک لینڈ رجسٹری فائلز سے پتہ چلتا ہے کہ قطر یا مزید مختصراً قطری خاندان یا انوسمنٹ فنڈز دنیا کی خوبصورت ترین ایونیو ’’ شانزے لیزا‘‘ کے 3-1 کلو میٹر ایونیو میں سے 390 میٹرز کے مالک ہیں۔ یہ علاقہ دنیا کی خوبصورت ترین ایونیو کہلاتا ہے۔
فرانس اور قطر کے درمیان 1990کی دہائی میں دو طرفہ معاہدے پر دستخط کیے گئے اور یوں بہت بڑی سرمایہ کاری کی گئی۔ معاہدہ ملک اور اس کے شہریوں کو غیر معمولی ٹیکس کے فوائد بشمول پراپرٹی کیپٹل اور انویسٹمنٹ انکم ٹیکس میں استثنیٰ دیتا ہے۔ گلف امارات جس کا سفارت خانہ آرک ڈی ٹرائیوف کے معاملات دیکھتا ہے نے ایونیو ڈیس چیمپس ایلیسیس پر عمارتیں حاصل کی ہیں۔
اس میں سٹریم لائن ماڈرن آرٹ ڈیکو طرز کی عمارت شامل ہے جو اس سے قبل ورجن میگا سٹور تھی اور اسے خودمختار ویلتھ فنڈ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی نے 2012 میں دی گروپاما انشورنس کمپنی سے 500 ملین پاؤنڈ میں خریدا تھا۔ آج ان بلڈنگز میں گلیریز لفایٹ اور مونو پرکس سٹور ہیں۔ ایک اور پراپرٹی نمبر 103-111 جو قطر کے خودمختار ویلتھ فنڈ نے ایچ ایس بی سی سے 2010 میں 440 ملین پاؤنڈ میں خریدی، کے مستقبل کے کرایہ دار لوئس وئیوٹن اور دیگر بڑی فیشن ڈیزائنر کی کمپنیاں اور ہوٹلز ہو سکتے ہیں۔
قطر کی آبادی 3.11 ملین ہے جس میں سے صرف 3 لاکھ 14 ہزار قطری شہری جبکہ 2.3 ملین غیر ملکی اور تارکین وطن ہیں۔ قطر چوتھا سب سے زیادہ جی ڈی پی اور گیارہویں سب سے زیادہ جی این آئی فی کس والا ملک ہے۔ یہ ملک انسانی ترقی میں 42 ویں نمبر پر ہے، جو عرب دنیا میں تیسری سب سے زیادہ ایچ ڈی آئی ہے۔ یہ ایک اعلیٰ آمدنی والی معیشت ہے جس کے پاس دنیا کے تیسرے بڑے قدرتی گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ قطر مائع قدرتی گیس کے دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے اور فی کس کاربن ڈائی آکسائیڈ کا دنیا کا سب سے بڑا اخراج کرنے والا ملک ہے۔ اکیسویں صدی میں قطر امریکہ کے بڑے اہم غیر نیٹو اتحادی اور عرب دنیا میں ایک درمیانی طاقت کے طور پر ابھرا۔ تیل اور گیس کے غیر معمولی وسائل کی وجہ سے اسکی معیشت تیزی سے آگے بڑھی۔ اس کی جغرافیائی سیاسی طاقت اس کے میڈیا گروپ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے بڑھی۔ اسکے علاوہ قطر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا حصہ بھی ہے۔
قطر کی فضائیہ میں 36 فرانسیسی رافیل طیارے، 33 امریکی F-15، فرانسیسی میراج اور دیگر جدید جنگی جہاز موجود ہیں۔ قطر کے پاس امریکا، ناروے، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے لیا گیا اربوں ڈالر کا دفاعی اور جنگی نظام بھی موجود ہے لیکن جب ضرورت پڑی تو قطر کا سارے کا سارا دفاعی نظام کہاں چلا گیا، یہ بتانے کیلئے قطری دفاع کا ذمہ دار کوئی شخص تیار نہیں۔ جس روز دوحا پر اسرائیل نے حملہ کیا قطر کا دفاعی نظام فعال تھا نہ امریکی ملٹری بیس پر موجود دفاعی نظام نے اسرائیلی فضائی حملے کو ناکام بنایا۔ قطر کے پاس اپنے دفاعی نظام کی ناکامی سے متعلق کوئی تسلی بخش جواب نہیں تو قطری حکمران قطر کی حفاظت پر مامور امریکی نظام کی غیر فعالیت پر سوال کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ کا قطر میں موجود دفاعی نظام امریکی ملٹری بیس کی حفاظت کیلئے تو درست کام کرتا ہے لیکن قطر پر اسرائیل نے افتاد توڑی تو یہ نظام اچانک غیر فعال کیوں اور کیسے ہو گیا، قطری حکمران یہ اہم سوال اپنے امریکی دوست ٹرمپ سے پوچھنے کی جسارت ہی نہیں کر سکتے۔  
اسرائیل کہتا ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں پر حملے جاری رکھے گا چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سعودی عرب، ترکیہ یا ایران نے حماس کی بچی کھچی قیادت کو اپنی سرزمین پر جگہ دی تو اسرائیل ان ممالک پر بھی فضائی حملے کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے عرب اور غیر عرب مسلم ممالک کو کوئی نہ کوئی حکمت عملی تو تیار کرنا ہو گی لیکن فی الوقت خوف میں جینا ہی ان کی واحد حکمت عملی لگتی ہے۔  
دراصل اسرائیل حماس کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات نہیں چاہتا کیونکہ اسرائیل اس جنگ میں فتح کے دروازے پر دستک دے رہا ہے وہ جانتا ہے کہ فلسطین کی باقی ماندہ قیادت انتہائی کمزور اور غیر اہم ہو کر اسرائیل کے رحم و کرم پر ہے۔ ایسے میں اسرائیل فلسطینی قیادت کی ایسی بیچارگی کی وجہ سے مذاکرات کر کے اسے قطعی طور پر اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ فلسطین کی رہی سہی قیادت یا تو اسرائیل کے ہاتھوں ماری جائے یا نیتن یاہو کے سامنے گھٹنے ٹیک کر سرنڈر کر دے۔
اپنے دفاع کے لیے دور دور تک نیٹو جیسا اسلامی ممالک کا کوئی طاقتور اتحاد بنتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس بات سے مایوسی ہوئی ہے کہ اسلامی ممالک کے ہنگامی دوحا اجلاس کے موقع پر اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے والا کوئی ٹھوس فیصلہ ایک بار پھر سامنے نہیں آیا۔ کسی بھی ملک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیے نہ اقتصادی۔ ہمیشہ کی طرح دوحا میں ایک بار پھر گفتار کے بڑے بڑے غازی اکٹھے ہوئے، قطری حکمرانوں سے حملے پر افسوس کا اظہار کیا ، گپ شپ کی، ضیافت سے سیر ہوئے اور بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی ذمہ داری لیے بغیر لوٹ گئے۔ قطر پر حملہ اسلامی ممالک نے اپنے اوپر حملہ نہیں سمجھا۔ اپنے ہی دفاع کے حوالے سے عرب ممالک سے زیادہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ وہ عام طور پر اپنے مفادات کو پیچھے رکھ کر کوئی مضبوط موقف اختیار نہیں کریں گے اور اگر وہ اکٹھے ہو بھی جائیں تو شاید امریکہ یا اسرائیل کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ ان کے پاس واضح حکمتِ عملی نظر نہیں آتی اس لئے عرب اسی طرح اسرائیل سے مار کھاتے رہیں گے۔
عرب برج الخلیفہ جیسی آسمان کو چھوتی عمارتیں، شانزے لیزا ایونیو کی آنکھیں خیرہ کر دینے والی جائیدادیں اور نیوم جیسے جدید شہر بنا کر دنیا پر سبقت لے جانے کو تو تیار ہیں لیکن اپنی سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے اپنی افواج مضبوط کرنے کو تیار نہیں حالانکہ تمام عربوں کو بلا تخصیص اسرائیل جیسی طاقتور اور دشمن فوج کی جارحیت کا مستقل سامنا ہے۔ عرب جان لیں انہیں برج الخلیفہ اور شانزے لیزا جیسی شان و شوکت برقرار رکھنے کیلئے اپنی سرحدوں کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا ہو گا۔ عرب یہ بھی یاد رکھیں دنیا نے اسرائیل کے ہاتھوں غزہ، ایران، لبنان، مصر اور شام کی پُر شکوہ عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر بنتے دیکھا ہے۔

مزیدخبریں