کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ پولیس کے ایک دوست افسر کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہا تھا۔ وہ خاموش، چہرے پر بوجھ لیے ہوئے تھا۔ کھانے کا ماحول اس کی افسردگی سے بوجھل سا ہو رہا تھا۔ میں نے پوچھا ’’خیریت ہے؟‘‘ پہلے ٹال گیا، پھر بولا ’’مت پوچھو‘‘۔ میں نے اصرار کیا تو کہانی کھل گئی۔ بتایا کہ ایک جگہ پر قبضہ دلوانے کے لیے تین ملین کی پیشکش ہوئی تھی۔ میں نے انکار کر دیا کہ کسی غریب کی بددعا کیوں لوں۔ جواب میں قبضہ گروپ نے میرے افسر بالا سے رابطہ کیا اور یوں میرا تبادلہ ہو گیا۔ وہ بولا: ’’یوں سوچتا ہوں کاش پیسے پکڑ لیتا۔‘‘
انیس سو بانوے کی بات ہے، یونیورسٹی سے نیا نیا فارغ ہواتھا ۔اسی زمانے میں میرا ایک سب انسپکٹر دوست بن گیا۔ شیخ برادری سے تعلق کی وجہ سے بھائی چارہ گہرا ہوتا چلا گیا۔ایک روز اس نے بتایا کہ کسی ریڈ کے دوران ناجائز پسٹل ایک ملزم سے برآمد ہوا،ملزم بڑے خاندان سے تھا۔اسے چھوڑنے کے لئے بڑی رشوت دی جا رہی تھی مگر سب انسپکٹر دوست نے ٹھکرا دی۔ نتیجہ؟ ملزم نے مہنگا وکیل کیا، ضمانت کرالی، اور میرا دوست سوچتا رہ گیا کہ اگر یہی کچھ ہونا تھا تو انکار کیوں کیا۔ کچھ عرصے بعد وہی نوجوان سب انسپکٹر ایک پولیس مقابلے میں جرائم پیشہ افراد کی گولی سے شہید ہو گیا۔
یہ دو کہانیاں محض دو افراد کی نہیں داستان نہیں، یہ ایک ایسا کرب ہے جو ہمارے ہر ادارے، ہر محکمے، ہر دفتر کے کونے کھدروں میں چھپا بیٹھا ہے۔اچانک سے ہمارے سامنے آجاتا ہے اور ہم نا چاہتے ہوئے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔
چھوٹا افسر کہتا ہے ’’مجھے رقم دو، کام کرا دیتا ہوں‘‘۔ بڑا افسر کہتا ہے ’’میرے پاس آؤ‘‘۔ یہ دکان داری کب سے چل نکلی ہے۔ یہ کوئی ایک محکمہ نہیں، واسا سے لے کر ایکسائز تک، کسٹم سے واپڈا تک، ایل ڈی اے سے ریونیو آفس تک ہر جگہ یہی منڈی لگی ہوئی ہے۔ آپ جوس کارنر پر جائیں تو ہاکر بلاتے ہیں ’’یہ لے لو، وہ لے لو‘‘۔ یہی حال سرکاری دفاتر کا ہے۔ ہر چوکھٹ پر ایجنٹ بیٹھا ہے، ہر ایجنٹ کی جیب میں افسر کی پرچی ہے، اور ہر افسر کے ماتھے پر یہی لکھا ہے ’’کام کرالو‘‘۔
سوال یہ ہے کہ جب پورا سسٹم ’’کام کرالو‘‘ کی صداؤں پر چل رہا ہو تو ایمانداری کہاں سے پیدا ہو گی؟ جو افسر انکار کرے، وہ پاگل ٹھہرتا ہے۔ جو انکار کرے، اس کا تبادلہ ہو جاتا ہے۔ جو انکار کرے، اس کی ترقی رُک جاتی ہے۔ یوں یہ دھندہ باعزت کاروبار کا روپ دھار لیتا ہے۔یہ کوئی جذباتی شکوہ نہیں، یہ ایک سچائی ہے جس کی عالمی ادارے بھی بار بار تصدیق کر رہے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹیں دیکھ لیجیے، کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی ہمیشہ نیچے ہوتی ہے۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی فائلوں میں بار بار یہ نوٹ درج ہیں کہ پروجیکٹس کا پیسہ مقامی سطح پر ’’لیکیج‘‘ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یعنی جو رقم عوام تک پہنچنی چاہیے، وہ افسران اور ایجنٹوں کی جیبوں میں جا بیٹھتی ہے۔
سماجی سائنس دان کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کا مالیاتی ڈھانچہ کرپشن کی بنیاد پر زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ مگر ہم ہیں کہ دہائیوں سے اسی زمین پر گھر بنا رکھے ہیں جس کی بنیاد کھوکھلی ہو چکی ہے۔ کرپشن صرف نوٹوں کا لین دین نہیں، یہ اقدار کی بربادی ہے۔ جب ایک افسر کہتا ہے کہ میں ملزم سے پیسے نہیں لیتا، مدعی سے لیتا ہوں، اور اسے ایمانداری سمجھا جاتا ہے تو بتائیے سماج کے اخلاقی خمیر میں کیا بچا؟۔
ہمارے معاشرے میں ’’ایمانداری‘‘ ایک طنز بن گئی ہے۔ کسی کو رشوت نہ لیتے دیکھ کر کہا جاتا ہے ’’بڑا پارسا بنا ہوا ہے‘‘۔ کسی افسر کا نام کرپشن میں نہ آئے تو حیرت سے پوچھا جاتا ہے ’’کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟‘‘ اور کسی دیانتدار ملازم کا تذکرہ ہو تو فوراً جملہ آتا ہے ’’اسے ترقی نہیں ملے گی‘‘۔یہ وہ کلچر ہے جسے ہم نے معمول کی چیز سمجھ لیا ہے۔ لیکن دراصل یہی کلچر ہمیں روز بروز توڑ رہا ہے۔ یہی کلچر ہمارے تعلیمی اداروں کو کمزور کرتا ہے، کیونکہ داخلے کی فائل بھی سفارش مانگتی ہے۔ یہی کلچر ہمارے ہسپتالوں کو کھوکھلا کرتا ہے، کیونکہ ڈاکٹر کی توجہ بھی لفافے کے بغیر پوری نہیں ملتی۔ یہی کلچر ہماری عدالتوں کو زنگ آلود کرتا ہے، جہاں انصاف کے پلڑے رشوت کے سکوں سے متوازن ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے وسائل کم نہیں۔ کمی اس عزم کی ہے جو کرپشن کو گردن سے پکڑ سکے۔ جب تک احتساب کے ادارے خود احتساب سے خالی رہیں گے، جب تک تبادلے اور ترقی کا نظام ’’جی حضوری‘‘ پر چلتا رہے گا، جب تک افسران بالا خود ایجنٹوں کے سرپرست رہیں گے، تب تک کوئی حکومت، کوئی نعرہ، کوئی منشور ہمیں سیدھی راہ پر نہیں لا سکتا۔
سوال یہ نہیں کہ ’’کاش پیسے پکڑ لیتا‘‘۔ اصل سوال یہ ہے کہ کب تک ہم اسی سوچ میں جیتے رہیں گے؟ کب تک ہم ایمانداری کو پچھتاوے کی کہانی بناتے رہیں گے؟ کب تک وہ افسر جو انکار کرے گا، قربانی کا بکرا بنتا رہے گا؟ کب تک ہم یہ کھیل تماشا برداشت کرتے رہیں گے؟۔
قومیں تب اٹھتی ہیں جب وہ برائی کو برائی کہنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ جب وہ رشوت دینے اور لینے والے دونوں کو مجرم سمجھتی ہیں۔ جب وہ اداروں کی اصلاح پر زور دیتی ہیں۔ جب وہ چھوٹے مفادات کی قربانی دے کر بڑی منزل کو دیکھتی ہیں۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ رشوت صرف ایک افسر کا قصور نہیں، یہ پورے معاشرے کا رویہ ہے۔ جب تک شہری ایجنٹ کے بغیر اپنے کام کرانے سے انکار نہیں کریں گے، جب تک سیاست دان سفارش کو اپنی طاقت سمجھتے رہیں گے، جب تک سرکاری اہلکار ’’فری سروس‘‘ کو ہزیمت سمجھیں گے، اس وقت تک تبدیلی کا خواب بھی خام ہی رہے گا۔کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ ہم سب مل کر ایک نعرہ لگائیں: ’’کاش ہم پیسے نہ پکڑیں۔‘‘ لیکن یہ نعرہ لگانے سے پہلے ہمیں اپنے اندر کے خوف کو مارنا ہوگا۔ ورنہ ہر ایماندار افسر، ہر دیانتدار شہری یہی کہتا رہے گا: ’’کاش میں پیسے پکڑ لیتا۔‘‘
کاش میں پیسے پکڑ لیتا!
09:22 AM, 19 Sep, 2025