’’مشن نور‘‘ اور مسلمہ کذاب کا انجام

09:22 AM, 19 Sep, 2025

عجیب دنوں میں زندگی گزر رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ سمجھ نہیں آ رہی اور نہ ہی یہ مسئلہ فیثا غورث ہے کہ اس کے ساتھ الجھنا پڑے گا۔ ایک طرف پاکستان اور دوسری طرف اِس کے دشمن ہیں۔ ایسے دشمن جو افغانستان سے لے کر دہلی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ دشمن کمینے بھی ہیں اور کم ظرف بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ دشمن سے رحم کی توقع رکھنا بدترین حماقت ہوتی ہے اور دشمن سے رحم کی توقع رکھنے میں اُسے دشمن جاننے کے بعد بھی رعایت دینا سب سے بڑی رعایت ہے۔ اگر کوئی میری جان کا دشمن ہو تو میں اُسے اپنا قصاص معاف کر سکتا ہوں لیکن جو میرے وطن کا دشمن ہے اُسے کیسے کوئی رعایت دی جا سکتی ہے؟ ویسے تو مرغوں کی اذانوں سے سحر نہیں ہوتی اور بے وقت اذانیں دینے والے مرغ بغیر کسی رکاوٹ کے ہنڈیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ تحریک انصاف کا ’’مشن نور‘‘ درحقیقت عمران نیازی کو نور ثابت کرنے کی ایک کوشش ہے جس کا پہلا مرحلہ آپ کے سامنے ہے۔ ہم دلوں کے حال جانے والے لوگ نہیں کہ دلوںکا حال جاننے والے کب کے اللہ کے حضور پیش ہو چکے۔ اب تو ہر شخص اپنے عمل سے ہی پہچانا جائے گا اور عمل پاکستانی قوم کے سامنے ہے۔ مذہبی ٹچ ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ پاکستان کے سامنے ہے۔ بھارت پاکستان کو فتح کرنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا سو مودی آج اپنے رستے میں آنے والوں کو ’’گولی‘‘ کی دھمکی دے رہا ہے۔ کسی ملک کے وزیر اعظم کیلئے گولی کی بات کرنا انتہائی عجیب و غریب ہے جبکہ اُس کے پاس ایٹم بم سے لے کر خطرناک میزائل اور جنگی طیاروں تک سب کچھ ہو۔ وزیر اعظم پاکستان کے علم میں ہونا چاہیے کہ افغان طالبان بھی ہمیں مسلمان تو کیا سمجھیں گے بلکہ ہماری ’’غیر اسلامی‘‘ شکلوں کی وجہ سے ہماری بیویوں اور بیٹیوں کو لونڈیاں بنانا بالکل جائز سمجھتے ہیں اور ایسا ایمن الزواہری نے اپنی کتاب میں بھی لکھ رکھا ہے۔ افغانستان ہو یا بھارت، بطور پاکستانی میں ان کی گیڈر بھبکیاں جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں اور میرا یہ موقف اُس وقت بھی تھا جب تورا بورا پر بارود برس رہا تھا اور اُس وقت بھی جب میرا لاہور خود کش 
حملوں سے گونج رہا تھا۔ میں نے کبھی افغانستان کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کی امید نہیں رکھی۔ آج کی افغان یوتھ کا رویہ پاکستان کیلئے وہی ہے جو مودی اور عمران نیازی کی بچی کچھی یوتھ کا ہے۔ اس کا تجربہ آپ نے جنگ اور کرکٹ میچ دونوں لڑ کر بخوبی کر لیا ہو گا۔ میرے لیے یہ بات کبھی معما نہیں رہی کہ عمران نیازی تو جیل میں ہے پھر اُس کے سوشل میڈیا اکائونٹس کون آپریٹ کر رہا ہے۔ آج کی اس جدید دنیا میں کسی اکائونٹ کا معلوم کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ ایک دن آپ کو کہنا پڑے گا کہ یہ تمام اکائونٹ ’’را‘‘ آپریٹ کر رہی تھی۔ پاکستان کو ملنے والی ہر خوش خبری ’’نیازی کی لبیک یوتھ فورس‘‘ کیلئے خبر غم سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جبکہ ہر بُری خبر اُن کے منفی پروپیگنڈا کا رزق قرار پاتی ہے۔ سعودیہ کے ساتھ ہونے والا دفاعی معاہدہ، وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف کو ملنے والا پروٹوکول جہاں پاکستانیوں کیلئے عزت کی بات ہے وہیں ان ملک دشمن عناصر کے سینے پر ان سے بھی بڑے سانپ لوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مجھے اس بات پر کبھی تکلیف نہیں ہوتی کہ کوئی مجھے جائز کام کرنے پر گالی دے لیکن جو پاکستان کو گالی دے یا پاکستان کے دوستوں کو گالی دے اُس کے ساتھ صلح کا سوچنا بھی جرم ہے اور خدا کا شکر ہے کہ لکھتے ہوئے میرے قلم کی نوک پر سیاہی نہیں میرا ضمیر ہوتا ہے اور یہ ممکن ہی کیسے ہے کہ آپ کسی شہید کا مذاق اڑائیں؟ اُن اداروں کی تذلیل کریں جنہوں نے پاکستان کو سنبھال رکھا ہے۔ جو کل تک پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان کی برتری نہیں مانتے تھے اُن کیلئے یو اے ای کی کرکٹ گراؤنڈ میں بھارتی اور افغانی کرکٹرز کا طرز عمل ہی کافی ہے۔ علیمہ خان اپنے بیٹے چھڑا لے گئی لیکن بھائی کو مزید دلدل میں پھنساتی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کے تضادات کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے۔ یاد رکھیں! علی امین گنڈا پور اور دوسرے ’’انقلابی‘‘ عمران نیازی کے ساتھ وہی کریں گے جو بھارتی فلم ڈائریکٹر فلم کے اینڈ پر امریش پوری کے ساتھ کرتے ہیں۔ ’’مشن نور‘‘ انارکی پھیلانے کا بدترین منصوبہ ہے جو سیاسی ناکامی کے بعد مذہبی کامیابی کی امید پر لانچ کیا ہے لیکن آپ میری بات لکھ لیں کہ آپ کو آخر میں ان کے ساتھ وہی کرنا پڑے گا جو خالد بن ولیدؓ نے مسلمہ کذاب کے ساتھیوں کے ساتھ کیا تھا۔
سیلاب کے پانی کی بربادی پنجاب سے گزر کر سندھ میں داخل ہو گئی۔ اب سندھ والے اُسے کیسے ڈیل کرتے ہیں یہ بھی دیکھنا ہو گا۔ عبد العلیم خان نے پارک ویو لاہور میں ایک پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارک ویو میں سیلابی پانی سے متاثر ہونے والوں کیلئے ایک ارب روپے کے ابتدائی پیکیج  کا اعلان کر دیا اور ضرورت پڑنے پر اسے بڑھانے کا عندیہ بھی دے دیا۔ عبد العلیم خان کی یہ تقریر سننے سے تعلق رکھتی تھی جس میں انہوں نے سماء سے نکالے جانے والوں پر بھی بات کی کہ اُنہو ں نے کیسے سیلابی پانی کو اپنے منفی پروپیگنڈا کیلئے استعمال کیا اور عمران نیازی کے یوٹیوبرز اور مختلف پیج چلانے والوں کو بھی آڑے ہاتھ لیا۔ بالکل درست کہا عبد العلیم خان نے کہ ’’مولے کو مولا نہ مارے تو مولا نہیں مرتا‘‘ عزت اور ذلت بلاشبہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ اللہ پر یقین کی انتہا ہے کہ عبدالعلیم خان ہزاروں کے مجمع میں سینے پر ہاتھ رکھ کرکہتا ہے کہ مجھے میرا اللہ ہی سب کچھ دیتا ہے۔ میں عبد العلیم خان سیاست کے حوالے سے ایک بات تو خوب جانتا ہوں کہ اُس نے اپنی سیاست کا آغاز پرویز مشرف دور میں وزارت سے کیا یعنی وہ اُس وقت بھی افواج ِ پاکستان کے ساتھ تھا۔ جب پی ٹی آئی کو فیض حمید ہانک کر ہر بڑے گھر کے دروازے پر لے گیا تو بھی عبد العلیم خان اپنی بہادر سپہ کے ساتھ تھا اور پھر اقتدر سے نکالے جانے کے بعد جب نیازی نے فوج پر حملے شروع کر دیئے تو اُس نے اپنی سیاسی جماعت بنا لی وہ آج بھی اپنی بہادر فوج کو ہر شہید کے رخصت ہونے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے تو گزشتہ پچیس سال میں عبد العلیم خان نے اپنا موقف نہیں بدلا، سیاستدان ہی موقف بدل بدل کر اُس کے در پر حاضری دیتے رہے ہیں۔ عبد العلیم خان سے گزشتہ دو دہائیوں کے تعلق میں، میں نے نہ اُسے جھوٹ بولتے دیکھا اور نہ ہی کبھی موقف تبدیل کرتے دیکھا۔ یہی اُس کی سب سے باکمال خوبی ہے جس کی وجہ سے فوج کے دشمن اُس کے بھی دشمن ہیں اور دشمن سے رحم کی توقع کم از کم عبد العلیم خان ہرگز نہیں رکھتا، یہی وجہ ہے کہ اُسے لوگوں کے بدلتے رویوں کا ویسا دکھ بھی نہیں ہوتا۔

مزیدخبریں