مذمت نہیں مزاحمت اور مرمت

09:21 AM, 19 Sep, 2025

زندگی کی چھوٹی چھوٹی حقیقتوں پر ذرا سا غور کر لیا جائے تو اہم معاملات کو سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ آئیے ایک چھوٹی سی حقیقت پر نظر ڈالیں۔ چوہا قامت اور طاقت میں بہت چھوٹا سا جانور ہے لیکن وہ ہاتھی سے نہیں ڈرتا بلکہ ہاتھی کے آس پاس آزادی سے بے خوف گھومتا رہتا ہے۔ وہ شیر سے بھی نہیں ڈرتا۔ شیر شکم سیر ہو کر گھنے درخت تلے محو آرام ہو تو بے تکلفی سے اس کے سینے پر سوار ہو جاتا ہے یا اس کی دم سے کھیلنے لگتا ہے۔ وہ اونٹ سے بھی نہیں ڈرتا، اس کی قامت سے خوف نہیں کھاتا لیکن یہی چوہا بلی سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے بلی اسے کھا جائے گی۔ چوہا اپنے دوست اور دشمن کی پہچان رکھتا ہے۔ یہ اس کی ذات کا بڑا وصف ہے۔ حیرت ہے برسوں کے تجربات اور علوم کی ڈگریاں رکھنے والے عرب اپنے دوست اور دشمنوں کو پہچاننے کی اتنی صلاحیت بھی نہیں رکھتے جتنی چوہے میں ہے، حالانکہ چوہا زیور تعلیم سے مالامال نہیں۔ وہ کسی سکول کالج یونیورسٹی نہیں داخل ہوا ، وہ آکسفورڈ اور ہاورڈ نہیں گیا، اس نے سول یا ملٹری درسگاہوں سے ایک سبق بھی نہیں پڑھا لیکن دشمنوں کو پہچاننے میں اس کا ثانی کوئی نہیں۔
چوہا بھاگ کر اپنی بل سے باہر نہیں نکلتا بلکہ اپنی بل کے دروازے پر رک کر پہلے اپنی گردن باہر نکال کر دائیں اور بائیں دیکھتا ہے پھر ہر طرف سے اطمینان حاصل کرنے کے بعد سرعت سے نکل جاتا ہے۔ اپنے بل واپس پلٹتے ہوئے وہ کہیں نہیں رکتا بلکہ نہایت تیزی سے اپنی بل میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے اس کی بل اس کا گھر اس کے لئے محفوظ ترین جگہ ہے اور بلی اس کی بل میں نہیں گھس سکتی۔
دوحہ اجلاس میں مسلمان ممالک سے تعلق رکھنے والے سربراہان شریک تھے۔ ان میں عرب اور غیر عرب دونوں تھے۔ حملہ عرب ملک پر ہوا تو سب متحرک ہو گئے۔ اس سے قبل غیر عرب، امریکہ اور اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کا نشانہ بنتے رہے تو کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ دوحہ اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوا تو خیال تھا کہ وہ اسلامی ممالک جو اسرائیل کو تسلیم کئے بیٹھے ہیں وہ پہلی فرصت میں اسرائیلی سفارتکاروں کو اپنے ملک سے نکال دیں گے اور اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلاتے ہوئے کہیں گے جب تک مسلمانوں کے خلاف جارحیت نہیں روکی جاتی، فلسطین میں غیر مشروط جنگ بندی نہیں ہوتی، سفارتی تعلقات منقطع رہیں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ سوچا تھا متعدد عرب اور غیر عرب ممالک اعلان کریں گے کہ اسرائیل سے ہر قسم کی تجارت مکمل بند ، یہ بھی نہ ہوا۔ اسرائیل کے سرپرست اعلیٰ امریکہ سے تجارتی معاہدے منسوخ، آج تک تمام ایم او یوز معطل کئے جاتے ہیں، یہ بھی نہ ہو سکا۔ چین پر امریکہ یا اسرائیل نے حملہ نہیں کیا صرف معاملہ ٹیرف کا تھا۔ چین نے امریکی کمپنی کو ایک ارب ڈالر مالیت کے بوئنگ طیاروں کا آرڈر دے رکھا تھا۔ اس نے یہ آرڈر منسوخ کر دیا۔ قطر کی قومی فضائی کمپنی دنیا کی بڑی فضائی کمپنی ہے۔ اس نے ایک سو بوئنگ طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ اگر وہ اسے منسوخ کرنے کا اعلان کرتا تو بوئنگ کمپنی کو زبردست نقصان اٹھانا پڑتا۔ خیال تھا قطر اپنے یہاں امریکی فوجی اڈے بند کرنے کا فیصلہ کرے گا، یہ بھی نہ ہو سکا تو پھر اس اجتماع میں اسلامی نیٹو کی تشکیل ہونا تھی؟ یہ تصور کہیں کاغذوں میں تو محفوظ ہے، قابل عمل بھی ہے لیکن اس کی تشکیل کے اعلان کا سنہرا موقع کھو دیا گیا ہے۔ ڈالر سے تعلق توڑنے کا اعلان بھی ہو سکتا تھا لیکن تمام اسلامی ملک مل کر بھی اپنے اندر یہ سکت پیدا نہ کر سکے۔
امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ سے مل کر اسلامی ممالک کے وسائل پر قبضے کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل شروع کیا۔ اس نے عربوں کو ڈرانا شروع کیا کہ ایران تمہیں کھا جائے گا لہٰذا مجھے اپنا تیل بیچو، میرا اسلحہ خریدو، میں تمہاری حفاظت کروں گا۔ ایران نے گزشتہ پچھتر برس میں کسی اسلامی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ جب عراق نے امریکہ کی شہ پر اس پر حملہ کیا تو ایران نے تمام اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ اس بے کار کی جنگ کو رکوائیں، کوئی آگے نہ بڑھا کیونکہ بیشتر اسلامی ملک امریکہ کے ہاتھ بیعت تھے۔ ایران میں اسلامی انقلاب آنے کے بعد بھی ایران نے کسی مسلمان ممالک پر یلغار نہ کی جبکہ امریکہ یکے بعد دیگرے عراق ، لیبیا، مصر، شام، لبنان، افغانستان، یمن اور سوڈان کے خلاف کارروائیاں کرتا اسے کسی نے دہشت گرد نہ کہا۔ دہشت گردی کا ٹائٹل مسلمان ملکوں پر تھوپا گیا۔ گزشتہ برسوں میں ایران نے بڑی مشکل سے چین کے تعاون سے حجاز کو آمادہ کیا کہ اپنا طرزعمل بدلیں ورنہ امریکہ انہیں نہیں چھوڑے گا۔ بڑا بریک تھرو ہوا۔ سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے قریب آگئے لیکن امریکہ کو یہ قربت ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس نے عرصہ دراز سے اپنے زیرتعمیر بدمعاش اسرائیل کو اشارہ کر دیا۔ اس نے علاقے میں اودھم مچا دیا اور یکے بعد دیگرے سات ملکوں پر حملے کئے، کوئی انہیں نہ روک سکا۔ امریکہ اور اسرائیل نے اب ایک نیا بہانہ تراشا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارے گا خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ اب یہ ان کی مرضی ہے وہ جس کو چاہیں دہشت گرد ڈکلیئر کر دیں اور اسی بہانے جس پر چاہیں چڑھ دوڑیں۔
دوحہ اٹیک اور قطر پر حملے کے بعد خطے کی سیاست ایک مرتبہ پھر تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکہ ایک مرتبہ پھر بھارت پر مہربان ہونے جا رہا ہے کیونکہ اسے ممکنہ اسلامی بلاک کے مقابل یہاں اپنا حلیف چاہئے۔ پنڈٹ نہرو کے زمانے سے چلی آرہی بھارتی خارجہ پالیسی کا اصول ہے کہ بھارت اس بلاک میں نہیں شامل ہو گا جس میں پاکستان ہو گا اور بھارت جس بلاک میں ہو گا پاکستان کو اس میں شامل نہیں ہونے دے گا۔ پس اسی پالیسی کے تحت بھارت چین کے بلاک میں آنے کا ڈرامہ کھیل کر امریکہ کو رام کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ بہت جلد مودی ٹرمپ بھائی بھائی نظر آئیں گے۔ امریکہ کی پاکستان سے قربت اسرائیل کو تسلیم کرانے کی ایک کڑی بتائی جاتی ہے۔ یہ معاملہ اور امن کا نوبل پرائز اب کھٹائی میں نظر آتے ہیں۔ پس امریکہ بھارت سے رجوع کرتا نظر آتا ہے۔ ٹرمپ کہہ سکتا ہے میں نے بھارت کو فقط ایک طلاق دی تھی، تین نہیں دی تھیں۔ بھارت بھی اس عقد کے لئے اپنا اہم فیصلہ کر چکا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا جوائنٹ ونچر پاکستان پر حملہ ہے۔ اب اس کا امکان بڑھ گیا ہے۔ شکست خوردہ اسرائیل، شکست خوردہ امریکہ اور شکست خوردہ بھارت ایک پیج پر ہیں اور پاکستان کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ عالم اسلام کو خبر ہو وقت ان شیطانوں کی مذمت کا نہیں مزاحمت اور مرمت کا ہے جو روس اور چین کے ساتھ مل کر کی جا سکتی ہے۔

مزیدخبریں