وقت کا تقاضا یا تہذیب کا زوال ؟

09:24 AM, 19 Oct, 2025

وقت بدل گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شاید سب کچھ۔ گفتگو کے لہجے سے لے کر لباس کے انتخاب تک، ہر چیز میں ایک نئی چھاپ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی "وقت کا تقاضا" ہے یا واقعی"تہذیب کا زوال"؟ شاید ہم ترقی کے سفر میں یہ بھول بیٹھے ہیں کہ تہذیب صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال کا شعور اور مستقبل کی سمت بھی ہے۔آج کی گفتگو میں شائستگی کا وہ نرم لمس نہیں رہا جو کبھی بزرگوں کی محفلوں کا خاصہ تھا۔ مکالمہ اب آواز کے شور میں دب گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر الفاظ اپنی حرمت کھو بیٹھے ہیں۔ طنزیہ فقرے اور جذباتی ردعمل نے دلیل اور احترام کو شکست دے دی ہے۔ کبھی گفتگو انسان کے علم اور تربیت کی پہچان ہوا کرتی تھی، آج وہ غصے، عدم برداشت اور سطحی پن کی علامت بن گئی ہے۔ ہم بولتے زیادہ ہیں، سنتے کم ہیں اور سمجھنے کی کوشش تو جیسے ختم ہی ہو گئی ہے۔لباس کی دنیا میں بھی یہ تبدیلی صاف دکھائی دیتی ہے۔ ملبوسات کبھی شناخت اور تہذیب کا آئینہ تھے، اب فیشن اور نمائش کا ایک مقابلہ بن گئے ہیں۔ سادگی اب پرانی بات لگتی ہے، وقار کو ‘‘بورنگ’’ کہا جاتا ہے اور روایت کا ذکر کسی پسماندہ ذہن کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ شاید یہ بھی وقت کا تقاضا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس تقاضے میں ہم خود کو کہاں چھوڑ آئے ہیں؟ لباس بدلنا برا نہیں مگر جب لباس خود انسان کی پہچان بن جائے اور انسان پیچھے رہ جائے تو تہذیب کا توازن بگڑ جاتا ہے۔یعنی تہذیب تب کمزور ہوتی ہے جب انسان اپنی پہچان افکار اور کردار سے نہ لے۔
رویہ اور روایات بھی اسی بدلتی ہوا میں کہیں تحلیل ہوتے جا رہے ہیں۔ بڑوں کی بات کو اہمیت دینا اب "پرانی سوچ" کہلاتا ہے۔ وعدہ نبھانا، شرم و حیا اور سچ بولنا جیسے الفاظ نصاب کی کتابوں میں تو موجود ہیں مگر عملی زندگی میں ان کا وجود مٹ چکا ہے۔ معاشرتی احساسات اب جذباتی بوجھ سمجھے جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے دکھ پر تبصرہ تو کرتے ہیں مگر اس دکھ کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ محبت اظہار تک محدود ہو گئی ہے، اخلاص تصویر بن گیا ہے اور انسان محض ایک "پوسٹ" 
کی صورت میں رہ گیا ہے۔ایرک فرام نے کہا تھا کہ "انسان نے مادی خوشیوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے اپنی روح کھو دی ہے۔شاید یہی ہماری اجتماعی کیفیت ہے۔ ہم نے آسانیاں تو حاصل کر لیں مگر سکون گنوا بیٹھے ہیں۔ ہماری کامیابیاں بیرونی ہیں مگر ہماری کمزوریاں ہمیں اندر سے کھا رہی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں مگر یہ ترقی کسی خالی پن کا کفارہ محسوس ہوتی ہے۔ ژاں پال سارتر کے نزدیک "آزادی انسان پر ایک بوجھ ہے کیونکہ وہ انتخاب کرتا ہے اور اپنے انتخاب کا ذمہ دار بنتا ہے۔"آج ہم نے آزادی تو حاصل کر لی ہے مگر اس کے ساتھ آنے والی ذمہ داری بھلا دی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ کھل کر جینے کا مطلب ہر بندھن توڑ دینا ہے، حالانکہ تہذیب کا حسن اسی توازن میں ہے جس میں آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے کا احترام کرتی ہیں۔
ہماری گفتگو سے لے کر طرزِ زندگی تک ہر چیز میں وہ گہرائی ختم ہو چکی ہے جو کسی قوم کے فکری شعور کو جلاتی ہے۔ اب دانش کم اور معلومات زیادہ ہیں، علم کم اور رائے زیادہ۔ یہ وہ عہد ہے جسے کارل یونگ ‘‘Collective Shadow’’ کہتا ہے یعنی وہ اندھیرا جو پورے معاشرے پر طاری ہو جاتا ہے جب لوگ اپنی باطنی روشنی کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم نے تہذیب کو محض طرزِ زندگی سمجھ لیا حالانکہ تہذیب دراصل طرزِ احساس کا نام ہے۔ وہ احساس جو ہمیں اچھے اور برے میں فرق سکھاتا ہے، وہ احساس جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ہونا سب سے بڑی تہذیب ہے۔یہ سب تبدیلیاں بظاہر وقت کے ساتھ آنے والی ترقی کی علامت ہیں مگر اندر سے یہ ایک زوال کی کہانی بھی سناتی ہیں۔ ہم نے سہولتوں میں اضافہ کیا ہے مگر احساس میں کمی۔ رفتار بڑھائی ہے مگر سمت کھو دی ہے۔ دنیا سے جڑنے کی دوڑ میں ہم اپنے اندر سے کٹ گئے ہیں۔ جدید ہونا برا نہیں مگر جب جدیدیت انسانیت کے اندر موجود نرمی، برداشت اور وقار کو ختم کر دے تو پھر وہ ترقی نہیں بگاڑ کہلاتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ تہذیب کوئی جامد چیز نہیں۔ وہ ہر دور میں اپنے اندر تبدیلی کو جذب کرتی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی انسانی شعور کو بلند کر رہی ہے یا اسے سطحی بنا رہی ہے؟ اگر تہذیب وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے تو پھر آج کی رفتار زدہ زندگی میں ہمیں رْک کر دیکھنا ہو گا کہ ہم اپنے اخلاقی ارتقاء میں کہاں کھڑے ہیں۔
نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ جب انسان اپنی اقدار سے کٹ جاتا ہے تو وہ "existential vacuum" میں گر جاتا ہے، ایک ایسا خلا جو دکھنے میں آزادی لگتا ہے مگر اندر سے انسان کو بے سمتی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہی خلا آج کے انسان کے چہرے پر دکھائی دیتا ہے۔ وہ مصروف ہے مگر مطمئن نہیں۔ وہ آزاد ہے مگر بے چین ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے مگر خود کو نہیں جانتا۔تہذیب کا زوال کسی دن یا فیصلے سے نہیں ہوتا۔ وہ آہستہ آہستہ رِستا ہے، جیسے دریا اپنی مٹی کھوتا ہے۔پہلے الفاظ کا معیار گرتا ہے، پھر احساس کا۔پہلے گفتگو میں شور بڑھتا ہے، پھر ضمیر خاموش ہو جاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیب اپنی اصل کھو دیتی ہے۔شاید مسئلہ وقت کا نہیں ترجیحات کا ہے۔ ہم نے سہولت کو اخلاق پر، دکھاوے کو وقار پر اور آواز کو عقل پر ترجیح دی ہے۔ تہذیب کا زوال اس دن شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی قدروں سے زیادہ اپنے مفاد کو اہم سمجھنے لگے۔ ہم بدل تو رہے ہیں مگر سوال ہے کہ کیا بہتر ہو رہے ہیں؟ شاید نہیں۔ شاید وقت ہمیں بدل رہا ہے مگر ہم وقت کو نہیں سمجھ پا رہے۔تہذیب کا جو چراغ ہمارے بزرگوں نے جلایا تھا وہ ابھی بجھا نہیں مگر اس کی لو کم ضرور ہو گئی ہے۔ اگر ہم نے اپنی گفتگو میں احترام، اپنے لباس میں سادگی اور اپنے رویّوں میں انسانیت واپس نہ لائے تو یہ لو بھی بجھ جائے گی اور جب تہذیب کی روشنی بجھتی ہے تو قومیں اندھیرے میں نہیں گرتیں، وہ اپنی پہچان کھو بیٹھتی ہیں۔یونانی فلسفی سقراط نے کہا تھا "بغیر خود کو سمجھے جینا، جینا نہیں کہلاتا"۔یہی وقت ہے کہ ہم رْک کر خود کو سمجھیں، اپنے معاشرے کو دیکھیں اور اس سوال کا جواب ڈھونڈیں کہ ہم وقت کے ساتھ بدل رہے ہیں یا وقت ہمیں بدل رہا ہے۔فرق چھوٹا ہے مگر انجام بہت بڑا۔

مزیدخبریں