سرحدوں کو درپیش چیلنجز پر ایک عظیم سپہ سالار ہی ایک جرأت مندانہ بیان دے سکتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو مختلف خطرات کا سامنا ہے مگر یہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں ایک انتہائی پروفیشنل فوج ہی ہے جو کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے بلاشبہ ایک تاریخی خطاب کیا ہے اور دشمنوں کے ناپاک عزائم ایک مرتبہ پھر خاک میں ملا دیئے ہیں۔ عظیم جرنیل نے جہاں ملکی سکیورٹی کا تذکرہ کیا وہیں دشمن کو یہ واضح پیغام دے دیا کہ پاکستان کی فوج وطن کے چپے چپے کی حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوران خطاب انہوں نے کہا کہ روایتی میدان میں جیت کی طرح ہمارے پڑوسی کی ہر ریاستی پراکسی کو خاک میں ملا دیا جائے گا، ہم اسلام کی غلط تشریح کرنے والے مٹھی بھر گمراہ دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے۔ یہ جملہ اس قدر اہم تھا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ پاک فوج کی سمت بالکل واضح ہے۔ ملک کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے بات نہیں ہوسکتی۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے اب تک، افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ، وطن عزیز کے بیرونی اور اندرونی دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حالیہ آپریشن معرکہ حق/ بنیان مرصوص میں افواجِ پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم سے دشمن کو شکست دے کر قوم کا اعتماد مزیدمستحکم کیا ہے۔ ازلی دشمن کے خلاف انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا، دشمن کی متعدد بیسز بشمول ایس-400 سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا اور پاکستان نے ملٹی ڈومین وارفیئر کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیرنے بھارتی ناپاک عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر ایک ایسے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی جو اپنی گمراہ کن بالادستی کے غرور میں مبتلا تھا۔ بھارت نے جلد بازی میں الزام تراشی کی اورغیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریز کیا، بھارت کا خود ساختہ شواہد پیش کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی حکمران جماعت نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے دہشت گردی کو سیاسی رنگ دیا۔پاکستان نے عددی طور پر بڑے دشمن کے خلاف اپنی واضح فتح کی بدولت نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ عالمی برادری کا وقار اور داد حاصل
کی، نوجوانوں میں یہ اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کا ایک بنیادی ستون ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ان شاء اللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ کریڈیبل ڈیٹرنس اور دائمی تیاری پر مبنی ہے، جس میں تمام صلاحیتوں کا احاطہ کیا گیا ہے، 2 دہائیوں تک سب کنونشنل میدانِ جنگ میں آزمودہ یہ پیشہ ور فوج روایتی میدان میں بھی، دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں، اگر دوبارہ جارحیت کی کوشش کی گئی تو پاکستان دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت جواب دے گا۔ جنگ میں ہمارے ہتھیار دور تک پہنچ کر زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہوئے بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے، دشمن کو پہنچائے جانے والے فوجی و اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے۔
سپہ سالار نے کہا کہ میں بھارتی فوجی قیادت کو مشورہ دیتا ہوں اور سختی سے خبردار کرتا ہوں کہ نیوکلیئر انوائرمنٹ میں دونوں ملکوں کے درمیان 'جنگ کے لیے کوئی گنجائش نہیں' ہے، پاکستان کے ساتھ بنیادی مسائل کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل کریں۔ ہم آپ کی بیان بازی سے کبھی خوفزدہ نہیں ہونگے اور کسی بھی قسم کی چھوٹی سی اشتعال انگیزی کا بھی فیصلہ کن جواب دیں گے، آنے والی کشیدگی کی ذمہ داری، جو کہ بالآخر پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ پاکستان سعودی بھائی چارے کو تقویت دیتا ہے اور باضابطہ بناتا ہے، یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی جانب ایک قدم ہے، پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے لیے یہ ایک منفرد عزاز ہے کہ وہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پرامن عمل میں بھی کردار ادا کیا ہے، دیگر تمام مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں چین کے ساتھ اپنی تاریخی اور سٹرٹیجک تعاون پر مبنی شراکت داری اور دوستی پر فخر ہے، امریکہ کے ساتھ مضبوط اور بڑھتے ہوئے تعلقات کو دوبارہ متحرک کرنا ایک حوصلہ افزا اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے متعدد تنازعات کے شکار علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی ذاتی کوششیں اور سٹرٹیجک لیڈرشپ واقعی قابل تعریف ہے، ہم امن، سلامتی اور ترقی کے مفاد کے لیے اہم عالمی اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ان تعلقات کو مزید پروان چڑھائیں گے۔ ہمارے دشمن کا فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو "ہائرڈ گنز" کے طور پر استعمال کرنا اس کے بزدلانہ، منافقانہ اور گھناؤنے چہرہ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال بھی اتنا ہی پریشان کن ہے، ہم افغانستان کے لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ دائمی تشدد کی بجائے باہمی سلامتی کا انتخاب کریں اور سخت گیر تعصب پر پیش رفت کریں۔سید عاصم منیر نے کہا کہ طالبان رجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے، جن کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں، یہ پراکسیاں پاکستان کے اندر گھناؤنے حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر تی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج پاکستان کے بہادر عوام بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے تعاون سے یقیناً اس لعنت کو بھی شکست دیں گے۔ سپہ سالار نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی، جبر اور مظالم کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے، کشمیری عوام کب تک ظلم و جبر کا شکار رہیں گے اور حق خود ارادیت سے محروم رہیں گے، پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر ثابت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ سفارتی میدان میں پاکستان کی مسلسل کوششوں نے غزہ میں امن کے حالیہ اقدام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ اس سے خطے میں پائیدار امن اور استحکام آئے گا۔ اسی دوران فیلڈ مارشل نے فیک نیوز کے پراپیگنڈے پر بھی بات کی کہ کس طرح فیک نیوز اور پراپیگنڈا کرنے والوں کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سےPost Truth Eraمیں تصورات حقیقت سے زیادہ وزن رکھتے ہیں اور آدھے سچ حقائق سے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں، جعلی خبروں اور غلط معلومات پر مشتمل "انفارمیشن ڈس آرڈر" کے ذرائع کا شکار نہ بنیں۔تو تھی فیلڈ مارشل کی تاریخی تقریر جس میں انہوں نے تمام امور کا بہت مہارت سے احاطہ کیا ، جہاں دشمن کی نیندیں اڑا دیں وہیں عالمی منظر نامے میں پاکستان کی کامیابیوں کا بھی زکر کیا۔ یقینی طور پر پاکستان ایک عظیم قیادت کی وجہ سے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
عظیم فوج کے عظیم فیلڈ مارشل کا تاریخی خطاب !
09:24 AM, 19 Oct, 2025