کیا لاہور اور پنڈی اسلام آباد کے شہریوں کا یہی مقدر رہ گیا ہے کہ وہ ابھی پچھلے فساد کے اثرات سے نکلے بھی نہ ہوں اور کوئی نئی صورتحال ان کو آن گھیرے؟جانے ان شہروں کی صفائی ستھرائی ، خوبصورت ماحول اور ترقی کو نظر بد کا سامنا ہے یا کسی آسیب کا سایہ ہے کہ یہاں ابھی سکون کے چند ہی دن گزرے ہوتے ہیں اور پچھلی تخریب کاری اور توڑ پھوڑ کے اثرات پوری طرح ختم بھی نہیں ہوئے ہوتے کہ کوئی نیا فساد جنم لے لیتا ہے۔ فسادی چاہے پی ٹی آئی ، ٹی ایل پی اور کسی بھی اور بینر کے نیچے اپنی کارروائیاں کریں انہیں امن اور ترقی کا دشمن ہی قرار دیا جانا چاہیے ۔
میں یہ سب بطور ایک عام شہری کہہ رہا ہوں کیونکہ میں خود اس ساری صورتحال کا عینی گواہ ہوں کہ ٹی ایل پی کا حالیہ مظاہرہ تو ایسے لگ رہا تھا جیسے شہر میں کوئی قابض فوج کارروائیاں کرتی پھر رہی ہے۔ جگہ جگہ لوگ جمع تھے، گاڑیاں رکی ہوئی تھیں، ٹریفک جام تھی، ٹی ایل پی کے کارکن نعرے لگا رہے تھے، جھنڈے لہرا رہے تھے، اور کئی مقامات پر لاٹھیاں ہاتھ میں لیے کھڑے تھے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کہ آخر یہ سب کس مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔
شروع میں خیال تھا کہ شاید یہ پرامن احتجاج ہوگا۔ ہمارے ملک میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر یہ حق اس وقت ظلم بن جاتا ہے جب اسے دوسروں کے لیے مصیبت بنا دیا جاتا ہے۔ٹی ایل پی کا احتجاج بھی چند ہی گھنٹوں میں ایک افراتفری میں بدل گیا۔ سڑکوں پر پتھراؤ ہونے لگا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، اور نہ صرف سرکاری اداروں بلکہ تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ لوگوں کی گاڑیاں چھین لی گئیں۔
مجھے سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوا جب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) کی گاڑیاں تک مظاہرین نے چھین لیں۔ ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو زدوکوب کیا گیا، شیشے توڑے گئے، اور ان گاڑیوں کو اغواکر لیا گیا کہ جن کی مدد سے روز شہر کی صفائی ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگ گئے، بدبو پھیل گئی، مکھیاں اور مچھر بڑھ گئے، اور لاہور جیسے خوبصورت شہر کی حالت خراب ہو گئی۔
میں خود ایسے علاقے میں رہتا ہوں جہاں اس تمام تماشہ کے باعث ایک ہفتہ تک کوئی صفائی نہیں ہوئی۔ صبح گھر کا گیٹ کھولیں تو کچرا، شام کو نکلیں تو تعفن۔ بچے بیمار ہونے لگے، لوگ نقاب پہن کر نکلنے لگے۔ میں سوچتا رہا کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیوں چند لوگوں کے غصے کی سزا ہم سب کو دی جا رہی ہے؟۔
واضح رہے کہ ایل ڈبلیو ایم سی کی موجودہ ٹیم کے بیشتر اراکین ڈیلی ویجز پر ملازم ہیں ۔ یعنی انہیں صرف اسی دن کے پیسے ملتے ہیں جس دن وہ کام کریں گے۔ اس مسئلہ کے مضمرات پر تو کسی اور دن بات ہو گی لیکن ٹی ایل پی کے احتجاج کے حوالہ سے عرض کروں کہ احتجاج کے دوسرے روز میری ایک خاکروب سے بات ہوئی۔ وہ رو رہا تھا۔ کہہ رہا تھا، یہ گاڑی میری روزی تھی۔ مظاہرین نے چھین لی۔ اب میں کیا کروں؟ گھر میں بچے بھوکے ہیں۔ اس کی بات سن کر دل بھر آیا۔ سوچاکہ مذہب کے نام پر ہونے والاا احتجاج اگر غریب کی روٹی چھین لے، تو پھر یہِ دین کی خدمت تو نہیں بلکہ ظلم بن جاتا ہے۔اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس احتجاج سے متاثر ہونے والے اپنے حقوق کی کہاں دہائی دیں گے۔ ہر جماعت جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو سڑکوں پر نکل آتی ہے، اور جب حکومت میں آتی ہے تو دوسروں کے احتجاج کو بغاوت قرار دیتی ہے۔ یہی کھیل برسوں سے جاری ہے، اور نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ہم نے یہی مناظر پی ٹی آئی کے مظاہروں میں دیکھے تھے۔ تب بھی سڑکیں بند تھیں، شہری پریشان تھے، کاروبار بند ہو گئے تھے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔ اس وقت ٹی ایل پی والے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے نہیں تھکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ،یہ لوگ ملک کو مفلوج کر رہے ہیں، نظام کو تباہ کر رہے ہیں۔ مگر آج وہ خود وہی سب کچھ کر رہے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ اب وہی دونوں جماعتیں جو کبھی ایک دوسرے کے سخت مخالف تھیں، آج کسی نہ کسی انداز میں ایک دوسرے کے قریب نظر آتی ہیں۔ جیسے دونوں کا مقصد ایک ہی ہو۔ یہ دونوں مذہب یا سیاست کے نام پر صرف طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں چاہے اس تماشہ میں عوام پس جائیں۔
حالیہ مظاہروں میں دیکھا گیا کہ کئی جذباتی نوجوان لاٹھیاں اٹھائے کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر جوش تھا مگر آنکھوں میں شعور نہیںتھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ایسا کر کے وہ کوئی نیکی کما رہے ہیں، مگر دراصل وہ اپنے ہی ملک کے نظام کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ کوئی انہیں سمجھانے والا تھا اور نہ ہی روکنے والا۔
سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس قسم کی کارروائیاں اپنی جگہ لیکن کیا یہ حکومت کی بھی ذمہ داری نہیں کہ وہ ایسے موقعوں پر مضبوطی دکھائے اور اپنی رٹ کو برقرار رکھے۔ ہر بار ہم یہی دیکھتے ہیں کہ پہلے نرمی پھر سختی پھر مذاکرات پھر خاموشی۔ عوام کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اس تما م صورتحال میں اگر آج بھی حکومت نے یہ واضح پیغام نہ دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے تو کل انہی میں سے کوئی یا کوئی نیا گروہ سڑکوں پر ہوگا اور یہی سب دہرایا جائے گا۔
اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارے ہاں احتجاج اب صرف شور بن کر رہ گیا ہے۔ کوئی نظم نہیں، کوئی اخلاقیات نہیں، کوئی مقصد نہیں۔ بس نعرے، شور اور غصہ۔ اور جب سب ختم ہوتا ہے تو پیچھے صرف تباہی رہ جاتی ہے ،ٹوٹی سڑکیں، گندگی کے ڈھیر، اور دلوں میں نفرت۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر یہی توانائی ہم صفائی، تعلیم یا فلاحی کاموں میں صرف کریں تو ہمارے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ٹی ایل پی کے رہنماؤں کو بھی سوچنا چاہیے کہ ان کے اس احتجاج سے اسلام کا کیا فائدہ ہوا؟ اس تمام ایکسرسائز سے کیا کسی کے دل میں ان کے لیے احترام پیدا ہوا یا الٹا نفرت بڑھی؟ عوام کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا ہوئی یا ڈر؟ یہی سوال پی ٹی آئی والوں کے لیے بھی ہے۔ جب وہ دھرنے دیتے ہیں یہ جلسہ جلوس کرتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم عوام کے لیے نکلے ہیں، مگر عوام کو ہی ان کے دھرنوں اور مظاہروں کی وجہ سے بدترین مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ا س قسم کے احتجاجوں سے پہلے ایل ڈبلیو ایم سی جیسے عوامی خدمت کے اداروں کے تحفظ کا مناسب انتظام کرے تاکہ شہر کا نظام متاثر نہ ہو۔ شہر کی صفائی، ہسپتالوں تک رسائی، اور سڑکوں کی روانی عوام کا بنیادی حق ہے۔ اور کسی بھی گروہ، چاہے مذہبی ہو یا سیاسی، کویہ حق چھیننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
نظر بد کا اثرہے یا کسی آسیب کا سایہ ہے!
09:22 AM, 19 Oct, 2025