لاہور: جماعت اسلامی کے امیر نے مینار پاکستان میں ہونے والے اجتماع عام کی تیاریاں کا جائزہ لیا اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ اجتماع ملک میں تبدیلی کی تحریک کا آغاز ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ اجتماع کے دوران ملک بھر سے قافلے پہنچیں گے اور تین روزہ پروگرام کے دوران تحریک کا مکمل لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع نوجوانوں، خواتین، طلبہ اور تمام شہریوں کے مسائل پر روشنی ڈالے گا اور امید کا پیغام لے کر آئے گا۔
تقریر میں امیر جماعت اسلامی نے موجودہ عدالتی نظام پر تنقید کی اور کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم نے عدلیہ کے نظام کو متاثر کیا، جبکہ تعلیمی شعبے میں 83 فیصد انٹرمیڈیٹ پاس طلبہ آگے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور 83 فیصد مزدور غیر رسمی شعبے میں کام کرتے ہیں۔ خواتین بھی اس صورتحال کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اجتماع میں یوتھ، ڈیجیٹل اور بزنس سیشنز کے ساتھ روحانی اور اخلاقی سرگرمیاں بھی ہوں گی۔ 45 ممالک سے ماہرین اور عالمی اسلامی تحریکوں کے رہنما شرکت کریں گے، جبکہ فلسطین کے لیے کام کرنے والے افراد بھی موجود ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ یہ اجتماع ملک میں یکجہتی، نوجوانوں کے مسائل اور خواتین کے حقوق کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا اور جماعت اسلامی انشاءاللہ ملک میں اقتدار کے لیے تیار ہے۔