پنجاب، غیر مستحکم حالات سے پائیدار ترقی تک

09:18 AM, 19 Nov, 2025

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو آبادی کے حجم، جغرافیائی تنوع، سماجی پیچیدگیوں اور معاشی دبائو کے باعث ترقی کے میدان میں ہمیشہ دو مختلف راستوں کے بیچ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف تیز رفتار ترقی کے لئے شارٹ کٹس کی تلاش ہے اور دوسری طرف پائیدار، دیرپا اور ذمہ دارانہ ترقی کا وہ راستہ جو طویل المدتی ہو مگر مضبوط بنیادیں فراہم کرتا ہو۔ گزشتہ دہائی کے دوران دنیا بھر میں پائیدار ترقی کے 17اہداف (سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز ) کو ترقی کے عالمی معیار کے طور پر اختیار کرتے ہوئے ان کے169 ٹارگٹ کے لئے 231 انڈیکیٹر مقرر کئے گئے ہیں جبکہ عالمی ادارے اور ممالک کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری یا فنڈنگ کے لئے ان کی تکمیل کو دیکھتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس پر عملی پیش رفت ہمیشہ سوالیہ نشان رہی۔ اعلانیہ دعوے تو بہت کئے گئے، مگر عملی اقدامات اور گورننس میں شفافیت کی کمی نے صوبائی سطح پر بھی SDGs کے حقیقی نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کیں۔2024-25ء میں پنجاب کی قیادت وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ہاتھ آئی تو یہ وہ وقت تھا جب پنجاب نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز میں گھرا تھابلکہ شہری سہولیات، پانی کی قلت، سڑکوں اور سیوریج کی ابترصورتحال، اور معاشی سست روی جیسے مسائل نے پورے صوبے کو جکڑ رکھا تھا۔ ایسے میں پائیدار ترقی کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ابتدائی سو دنوں میں جس طرح ترقیاتی ایجنڈا ترتیب دیا، اس میں سب سے نمایاں چیز سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کو حکومتی پالیسی کا مرکزی ستون ہی بنانا تھا۔ یعنی ان کے نزدیک ترقی کا مطلب صرف سڑکیں بنانایاپل تعمیر کرنانہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جو ماحول، معاشرت اور معیشت تینوں کو یکجا کرے۔ اسی لئے صاف پانی، سیوریج اور سینیٹیشن پر تاریخی سرمایہ کاری کی جارہی ہے چونکہ پنجاب کے زیادہ تر شہر برسوں سے واٹر سپلائی، نکاسی آب اور سینیٹیشن بحران کا شکار تھے۔ مریم نواز نے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ برساتی نالوں کی ری ڈیزائننگ، اربوں روپے مالیت کے پانی صفائی منصوبے، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم اور تھرڈ پارٹی ویری فیکشن (TPV) جیسے اقدامات (SDG 6صاف پانی اور صفائی)کی طرف براہ راست پیش رفت ہیں۔ پنجاب حکومت نے ساتھ ہی ایسا قدم اٹھایا جو پاکستان کے زرعی مستقبل کو بھی بدل سکتا ہے کیونکہ صوبے میں 8000 زرعی ٹیوب ویل سولر توانائی پر منتقل کیے جا رہے ہیں اس کے اقدام سے بجلی بلوں میں کمی تو آئے گی ساتھ ہی ڈیزل اور بجلی پر انحصار بھی کم ہوگا اور کاربن اخراج میں بھی واضح کمی ہوگی۔ اور پنجاب حکومت کا یہ قدم (-SDG 7سستی اور صاف توانائیSDG 13- کلائمٹ ایکشن)کے عین مطابق ہے۔ اگر بات کریں پنجاب گرین ڈیولپمنٹ پروگرام کے توسیعی فریم ورک کی تو یہ پروگرام پہلے شروع ہو چکا تھا مگر وزیراعلیٰ پنجاب نے اس کی فنڈنگ بڑھاتے ہوئے شفافیت میں اضافہ کیا۔ نئے انوائرمنٹ مانیٹرنگ سینٹرز کے ذریعے پنجاب میں پہلی مرتبہ فضائی اور آبی آلودگی کا ریئل ٹائم ڈیٹا حاصل ہورہا ہے ۔ شہروں کی ازسرِنو منصوبہ بندی کے لئے پنجاب سمارٹ سٹیز فریم ورک کے تحت صوبے کے 16 شہروں میں سمارٹ ٹریفک،ویسٹ مینجمنٹ،شجرکاری، برساتی پانی کے ذخائر، سڑکوں کی عالمی معیار کے مطابق مرمت جیسے منصوبے جاری کئے گئے ہیں۔ترقی صرف نئی عمارتوں کے ذریعے نہیں ہوتی، بلکہ تاریخی ورثہ بھی پائیدار ترقی کا حصہ ہے۔اسی لئے لاہور اتھارٹی فار ہیرٹج ریوائیول کا قیام عمل میں آیا۔اس کے تحت پرانی عمارتوں کی بحالی،شہر کی سیاحت کو فروغ،نوجوانوں کو آرکیا لوجی اور آرٹ کے شعبوں میں روزگار-SDG 11 یعنی سسٹین ایبل سٹیز کا اہم حصہ ہے۔وزیراعلیٰ کی پالیسیاں تین بنیادی علاقوں میں کام کر رہی ہیںجس کے معاشی فائدے کے تحت صاف پانی کی وجہ سے کم بیماریوں کے باعث صحت کے اخراجات میں کمی،سولر ٹیوب ویل سے کسان کے اخراجات میں 3040%کمی ہوگی،جبکہ سمارٹ شہروں میں سرمایہ کاری میں اضافے کے علاوہ ثقافتی ورثے کی بحالی سے سیاحت کا فروغ ہوگا۔دوسرا اس کے سماجی فائدوں میں شہری سہولیات بہتر ہونے سے معیارِ زندگی بلند ہوگا،خواتین اور بچوں کے لئے محفوظ عوامی مقامات میسر آئیں گے۔تعلیم و صحت کے نظام میں کم دبا ئوکا سامنا کرنا پڑے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ان اقدامات سے صرف معاشی یا سماجی ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی فائدے بھی ہوتے ہیں جبکہ کاربن اخراج اوردرجہ حرارت میں کمی کے علاؤہ ماحولیات دوست انفراسٹرکچر ، زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی پائیدار ترقی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کیلئے سینئر وزیرمریم اورنگزیب کا کردار پنجاب میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کی پالیسی کو عملی شکل دینے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔وہ معروف برطانوی تعلیمی ادارے کنگز کالج سے انوائرمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ میں پوسٹ گریجویٹ ہیں اورشاید واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جنہوں نے پائیدار ترقی کی باقاعدہ اکیڈمک تربیت حاصل کی ہے۔انوائرمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ دراصل ماحولیات کی سائنس،پالیسی تجزیہ اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا نام ہے یوں یہ علم انہیں پنجاب میں SDG پالیسیوں کو نہ صرف سمجھنے بلکہ انہیں پالیسی کے زبان میں ڈھالنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ساتھ ماحولیاتی پروگرام ،موسمیاتی تبدیلی حساسیت،بایو ڈائیورسٹی تحفظ اور شفاف گورننس جیسے شعبوں میں عملی میدانوں میں کام کیا۔یہ تجربہ انہیں نہ صرف ماحول دوست پالیسیوں کا علم دیتا ہے بلکہ عالمی اداروں کے ساتھ روابط اور فنانسنگ تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔پنجاب حکومت میں مریم اورنگزیب کا عملی کردارتین جہتوں میں نمایاں ہے جن میں پالیسی اور قانون سازی ،SDGفریم ورک کی تیاری،کلائمیٹ رسک مینجمنٹ اور ماحول دوست صنعتوں کے لئے گرین پالیسی کی تشکیل شامل ہے۔ ان اقدامات اور اپنے ورکنگ ایکسپرینس کی وجہ سے یو این ڈی پی، ورلڈ بنک، یورپی یونین گرین الائنس اور ایشیئن کلائمٹ فنڈ جیسے بین الاقوامی اداروں سے پنجاب کو گرانٹس اور ٹیکنیکل سپورٹ کی فراہمی ممکن بنانانسبتاً آسان ہے۔اسی طرح ذرائع ابلاغ کے ساتھ طویل عرصہ کام کرنے کی وجہ سے چونکہ وہ خود میڈیا کمیونیکیشن کی ماہر ہیں، اس لئے ماحول، پانی، صحت، آبادی، ورثہ اور سبز توانائی پرمیڈیا مہمات،پبلک کی شمولیت اورتعلیمی کیمپین کے ذریعے SDGs کو عوامی گفتگو کا حصہ بنا نا آسان ہو گا۔ بہرحال وزیراعلیٰ پنجاب اور سینئر وزیر کی صورت میں گولڈن ڈویلپمنٹ جوڑی نے پنجاب میں پہلی بار پالیسی، منصوبہ بندی، بجٹ، نفاذ اور مانیٹرنگ کو ایک مربوط نظام سے جوڑا ہے۔ اگرچہ پنجاب صحیح سمت میں بڑھ رہا ہے مگر چیلنجز باقی ہیں اور بڑے منصوبوں کے لیے مسلسل فنڈنگ ، بیوروکریسی کی رفتاراور کرپشن، مقامی حکومتوں کی کمزوری، شہروں کا بے ہنگم پھیلائو اورموسمیاتی تبدیلی کا شدید دبا ئوپائیدار ترقی کے لئے ضروری ہے تاکہ مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے، نجی شعبہ پائیدار ترقی کے اہداف میں شامل ہو سکولوں اور کالجوں میں ماحولیات کی تعلیم لازمی بنے۔پنجاب کی تاریخ میں شاید پہلی بار پائیدار ترقی کو صرف بین الاقوامی رپورٹوں یااقوام متحدہ کی تقریروں سے نکال کر حقیقی زمینی سطح پر نافذ کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز کا وژن،سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی مہارت دونوں مل کر پنجاب کو زیادہ صاف زیادہ سرسبز زیادہ شفاف زیادہ مضبوط اور زیادہ انصاف پسند معاشرہ بنانے کی سمت میں لے جا رہے ہیں کیونکہ یہ صرف پنجاب کا نہیں، پورے پاکستان کا مستقبل ہے۔

مزیدخبریں