پاکستان کیسے بد لے گا؟

09:17 AM, 19 Nov, 2025

گذشتہ کالم میں پاکستان کے معاشی نظام پر کچھ سوال اٹھائے تھے کہ اسلام کے نام قائم ہونے والے ملک میں اب تک درست نظریئے اور فکر پر سیاسی و معاشی نظام کیوں نہیں استوارکیا جاسکا؟ہم سیاست و معیشت میں مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے آلہ کار کیوں بنے ہوئے ہیں؟ اس کی بڑی وجہ ہمارے ہاں فکری طور پر مذہب کا تعارف چند انفرادی رسمی عبادات یا نکاح اورجنازوں پر ایک مولوی کی ضرورت تک محدود ہے۔ سماجی (سیاسی و معاشی) معاملات میں ہمیں لگتا ہے کہ دینی فلاسفی کی کچھ خاص ضرورت نہیں ہے۔ دراصل یہ فکری انحطاط پاکستان کی روز اول سے موجود اشرافیہ کے تسلسل کا پیدا کردہ ہے۔ جنھوں نے مذہبی ٹچ کے ذریعے ایک الگ ملک تو حاصل کر لیا لیکن اس کے قیام کے اصل مقاصد پر آج تک عمل نہیں ہونے دیا۔ دین اسلام کے نظام کی اصل روح سماجی انصاف، مساوات اور اجتماعی مفاد میں ہے۔ اس کے برعکس وطن عزیزمیں کارفرما نظام پچھلے 78 برسوں سے انصاف، مساوات اور اجتماعی مفاد کے اصولوں کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ طاقتور طبقات کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل پامالی، معاشی وسائل کی تقسیم میں عدم مساوات، اجتماعی مفاد پر شخصی و گروہی مفادات کو غلبہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وسائل پرقابض ایک فیصد طبقہ اوران کے حواریوں کے لئے پاکستان کا موجودہ نظام لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکمران طبقے کی دنیا بھرمیں پھیلی ہوئی دولت کا ماخذ پاکستانی عوام سے لوٹے گئے وسائل ہیں۔ جبکہ یہی نظام پاکستان کی اکثریت کے لئے عذاب جان بن چکاہے۔ عوام اپنی روزمرہ زندگی کے امورانجام دینے سے قاصر ہیں۔ اقوام متحدہ کے محتاط اعدادوشمار کے مطابق 2017 میں پاکستان میں 42 فیصد افراد غربت اور 16 فیصد افراد انتہائی غربت کاشکار تھے۔ اگلے 8 برس میں اس تعداد میں مزیداضافہ ہوا ہے۔ نچلے متوسط طبقے کی سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ چکا ہے اب وہ بھی متوسط سے غربت کی لکیر کی جانب سفر طے کر چکے ہیں۔ دوسری جانب پچھلے 20 سے 25 برس میں نئے ارب پتی خاندانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اب پاکستان کی دولت 22 خاندانوں آگے بڑھ کر40 خاندانوں اور کاروباری اداروں کے کنٹرول میں جا چکی ہے۔ ملک میں ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ منفی معاشی گروتھ کا انڈیکیٹر ہے۔ اس کا واضح اشاریہ ملک میں غربت کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہے یعنی یہ دولت غریبوں کی جیب سے نکال کر امیروں کی تجوریوں میں منتقل کی گئی ہے۔ آئی پی پیز، بینکوں، رہائشی سوسائٹیوں کی لوٹ مار، تیل کی سپلائی، گیس کے نرخوں اورکاروباری اجارہ داریوں کے ذریعے نئے ارب پتیوں کا وجود میں آنا موجودہ نظام کی مہربانی ہے۔ پاکستان کا سیاسی نظام اور ادارے اس لوٹ مار کے سہولت کار ہیں۔ مزید کسر حکومت، عوام پر مسلط ڈائریکٹ اور انڈائریکٹ ٹیکسیشن کے ذریعے نکال رہی ہے۔ انتہائی پر تعیش طرز حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لئے پارلیمان، فوج، بیورو کریسی، عدلیہ اور ریاستی اداروں کا بھاری خرچ عوام پرلگے ٹیکسوں اور مہنگے قرض کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ ان قرضوں پر سود در سود کا وبال بھی عوام پرہے۔ حکمران طبقے کی زیادہ توجہ اپنے ذاتی،خاندانی اور سرمایہ دارطبقے کے مفادات محفوظ کرنے پرلگی رہتی ہے۔ اس لئے پارلیمان کی ساری قانون سازی،بیوروکریسی کا اس پرعملدرآمد اور عدلیہ کے فیصلے اسی ذہنیت کے گرد گھومتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی عوام کے چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ کمزور معاشی و صنعتی ڈھانچے، کسان دشمن زرعی پالیسیاں، توانائی کے مہنگے ذرائع، وسائل پرمخصوص طبقے کا کنٹرول اور ظالمانہ ٹیکسزکی وجہ سے ترقی کی شرح منفی یا بہت کم ہے۔ نتیجتاً عوام کی قوت خرید نہایت کم یاختم ہو گئی ہے۔ وہ کم ترین اجرت اور بد ترین استحصالی شرائط پر بھی کھیتوں، فیکٹریوں اور دفاتر میں کام کرنے پرمجبور ہیں۔ زیادہ ترلوگ غیر رسمی شعبوں میں کام کر رہے ہیں جہاں آمدن غیر یقینی اور سماجی تحفظ کاکوئی تصور نہیں ہے۔ ملک کی ایک بڑی ورک فورس خواتین کامعاشی سرگرمی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک ہی ملک میں طبقاتی نظام کی جھلک نظر آتی ہے۔ کچھ علاقے جیسا کہ لاہور کراچی، اسلام آباد وغیرہ نسبتاً بہتر طرز زندگی رکھتے ہیں جبکہ بلوچستان کے اکثریتی علاقے، زیریں سندھ، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا کا بیشترعلاقہ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں غربت کی بلندشرح اور وسائل سے محرومی واضح نظر آتی ہے۔ حکومتی عدم توجہی کے باعث صحت، تعلیم، صاف پانی، نکاسی آب بنیادی وسائل اور سماجی خدمات تک رسائی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمزور زرعی پالیسیوں، غربت اور کم قوت خریدکی وجہ سے پاکستان میں 60 فیصد سے زائد انسانوں بڑا مسئلہ متوازن خوراک تک باعزت رسائی ہے۔ اگرایسے میں قدرتی آفات،سیلاب، زلزلہ یا موسمیاتی تبدیلیوں کا چیلنج ہو توعوام کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ البتہ یہ حالات بھی حکمران طبقے کی مزید کمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ 
ایسا نہیں کہ پاکستان کے حکمران طبقات کو اس صورتحال کا ادراک نہیں ہے یا کم فہم ہیں یا ان حالات سے نمٹنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ بلکہ یہ سارے مسائل تو ان کی سیاسی یا آمریت کی دکان کا نقد آورمال ہیں۔ ایک پارٹی روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگاتی ہے تو دوسری پارٹی سبز انقلاب اور ایشین ٹائیگر بننے کا خواب بیچتی ہے۔جب ان سے لوگ مایوس ہو جائیں تو مقتدر طاقتیں تبدیلی اورانصاف کا منجن بیچنے والوں کو میدان میں کھڑاکردیتی ہیں۔ لیکن مسائل ہیں کہ بڑھتے چلے جا رہے ہیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ دراصل ہمارے حکمران طبقات کا مسئلہ بدنیتی، مفاداتی سوچ اور درست فکر ونظریئے سے دوری کا ہے۔ مفکر اعظم امام شاہ ولی اللہ ؒ ایسے سماج کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب سوسائٹی پر ایسامرض مسلط ہوجائے تو اسے توڑے بغیرمسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ ’’فک کل نظام‘‘ یعنی ہرفرسودہ اور ظالمانہ نظام کو توڑدیاجائے۔ صرف توڑنا ہی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ’’رائے کلی‘‘ یعنی اجتماعی مفاد پرمبنی نظام کی تشکیل اصل کام ہے۔ قرآنی حکمت اور سیرت محمدیہ ﷺ کی روشنی میں ایک عادلانہ سیاسی و معاشی نظام کیسے تشکیل دیاجا سکتا ہے؟ کیا اسے آج دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوئی جدوجہد اورفکرہماری سوسائٹی میں موجود ہے؟ اسلامی معاشی نظام کی سیریز کے اختتامی کالم میں ان شاء اللہ اگلے ہفتے اس پر بات کریں گے۔

مزیدخبریں