بالآخر امریکہ نے گریٹر اسرائیل کے قیام میں ایک اور رکاوٹ کو دور کرلیا۔امریکہ اس بار بھی دُنیا کو چکر دینے میں کامیا ب رہا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بڑی مہارت سے تیار کی گئی اس پُر فریب سازش میں جس کا مقصد فلسطینیوں اور حماس کو بین الاقوامی فورس کے سامنے لانا ہے پاکستان سمیت مسلم ممالک اس کا حصہ بنتے ہیں یا نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ میں امن کے نام پر خوب چرچا کیا گیا کھیل اب تک ہر پہلو سے ناکام نظر آتا ہے۔ اس میں نہ کوئی آزاد فلسطینی ریاست سامنے آسکی ہے جس کا خطے میں کھیلی جانے والی گریٹ گیم کے ایک اہم منصوبے کی شروعات میں ذکر کیا گیا تھا اور نہ ہی فلسطین کے اندر اب تک شیطان صفت نیتن یاہو کے مظالم رُک سکے ہیں۔ اس خوا ب کی حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت بھی غزہ میں معصوم بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کا بڑی بے دردی سے خون بہایا جارہا ہے۔
واشنگٹن نے اب کی بار کوئی اور نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اہم ترین فورم سلامتی کونسل کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ جی بالکل وہی سلامتی کونسل جہاں امریکہ نے درجنوں بار اقوام عالم کے ضمیر کے برخلاف اپنی بغل بچے اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کے دفاع میں نہ صرف اپنا گھنائونا کردار ادا کیا بلکہ ان مظالم کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش بھی کی۔ یوں سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد منظور، 13 ووٹ حق میں آئے اور روس اور چین نے صورت حال کا عمیق اندازہ کرتے ہوئے غیر حاضری کو بہتر جانا۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز امریکا کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور کر لی، جس میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی توثیق کی گئی ہے اور فلسطینی علاقے میں ایک انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس تعینات کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔کسی ملک نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔تاہم حماس نے اس قرار داد کو فوری طور پر مسترد کر دیاہے ۔ حماس کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینیوں کے حقوق اور مطالبات کو پورا نہیں کرتی اور غزہ پر ایک بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ہے جسے فلسطینی عوام اور تمام مزاحمتی دھڑے مسترد کرتے ہیںقرارداد میں فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت سے متعلق شقوں کو شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد عرب اور مسلم ممالک کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ سٹیبلائزیشن فورس کے منظم ہوتے ہی اسرائیلی افواج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا کی شق بھی دستاویز کا حصہ ہے۔منظور شدہ قرارداد کے تحت غزہ میں ایک انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس تعینات کی جائے گی جسے امن و امان کی بحالی، سرحدی نگرانی اور علاقے کی تدریجی غیر مسلح کاری کے اختیارات دیئے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک عبوری انتظامی ڈھانچے ’بورڈ آف پیس ‘کے قیام کی بھی اجازت دی گئی ہے، جسے 2027 کے آخر تک غزہ کی عارضی انتظامیہ چلانے کا اختیار ہوگا۔ قرارداد کے عملی نفاذ، فورس کی تشکیل، اس کے مینڈیٹ، اور غزہ کی مستقبل کی حکمرانی کے بارے میں اب بھی بہت سارے سوالات ہیں جن کے جوابات درکار ہیں، جبکہ بعض عرب ممالک نے فورس میں حصہ لینے کی مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔
پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ کے غزہ میں جنگ کے خاتمے کیلیے اقدامات کو قابل تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے سے غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہوا ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ انہوں نے غزہ منصوبے کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا بنیادی مقصد غزہ میں معصوم فلسطینیوں کے قتل عام کی روک تھام اور غزہ سے اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا ہے۔پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ اس منصوبے سے غزہ میں امن کی اُمید سامنے آئی ہے، مذاکرات میں پاکستان نے عرب ممالک کے پروپوزل کی حمایت کی۔انہوں نے واضح کیا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کا قیام ہمارا مقصد ہے، فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس ہونا چاہیے۔امریکی مندوب نے سلامتی کونسل میں پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، یواے ای، ترکیے اور انڈونیشیا سے تشکر کا اظہار کیا۔
یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ امن کے نام پر فلسطینیوں کے ساتھ مزید ظلم و ستم کے اس منصوبے کو بھانپتے ہوئے کچھ رو ز قبل اُردن ، ترکی اور یو اے ای نے غزہ میں بین الاقوامی فورس میں شمولیت سے معذر ت کر لی ہے ۔ واضح ہے کہ اگر حماس اس منصوبے کو تسلیم نہیں کر رہا جس کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ فلسطینیوں کا اصل نمائندہ ہے تو پھر بین الاقوامی امن فورس کو ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں سب سے پہلے غزہ میں نمٹنا ہوگا وہ حماس ہی ہے یوں بین الاقوامی فورس نیتن یاہو کی فرنٹ لائن فورس بن جائے گی جو اسرائیل کے مظالم میں تو چپ سادھ رکھے گی اور اس کے اشارے پر فلسطینیوں کے خلاف ہی کارروائی کرتی نظر آئے گی یوں ٹرمپ کا وہ منصوبہ بتدریج کامیابی کی طرف بڑھے گا جس کے مطابق وہ غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے وہاں اپنے منصوبے کے تحت نئی تعمیرات اور خوشحالی کی دھوکے پر مبنی ایک نئی نوید سنا رہا ہے ۔اسلام آباد کو اس معاملہ میں ہوشمندی سے کام لینا ہو گا۔ کہیں وہ ٹرمپ کو خوش کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اپنے اثرو رسوخ اور وقار کے بلند کرنے کی چکر میں اس گہری سازش کا شکار نہ ہو جائے۔ اُردن کے شاہ عبداللہ دوم کا دورہ پاکستان اگر اسی تناظر میں دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تبدیلیوں کو سامنے آنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
ابراہیمی معاہدہ ،مشتری ہوشیار باش
09:16 AM, 19 Nov, 2025