شیخ حسینہ کو سزائے موت

09:15 AM, 19 Nov, 2025

تین رُکنی ٹربیونل نے بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجداور سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان کمال کوانسانیت کے خلاف جرائم کامرتکب قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنادی ہے سنائی گئی سزا میں سابق آئی جی عبداللہ المامون کا کلیدی کردار ہے جو صحتِ جرم قبول کرنے کے بعد سلطانی گواہ بن گئے ۔ یہ ہر لحاظ سے ایک اہم فیصلہ ہے جس کے نہ صرف بنگلہ دیش کی اندرونی سیاست پر گہرے اثرات ہوں گے بلکہ یہ فیصلہ خطے میں بھارتی مفادات کے لیے بھی کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ بنگلہ دیش کی سیاست میں شیخ حسینہ خاندان کا کردار بھارت کے لیے اہم اور ناگزیر ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کے پاس بنگلہ دیش میں ابھی ایسا اور کوئی متبادل نہیں ہے جبکہ حالیہ فیصلے سے شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی کے ساتھ سیاسی کردار کا امکان مزید کم ہوگیا ہے فیصلے پر اقوامِ متحدہ کی ترجمان روینا شامدانی نے تبصرے میں کہا ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا متاثرین کے لیے اہم لمحہ ہے لیکن موت کی سزا نہیں دی جانی چاہیے تھی انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملزم کی غیر حاضری میں یہ مقدمہ منصفانہ ٹرائل کے معیارات کے مطابق نہیں انھوں نے موت کی سزا کے نفاذ پر افسوس ظاہر کیاہے یہاں ایک اور پہلو کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ گزشتہ برس طلبا کے احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈائون کے دوران چودہ سوافراد کے مارے جانے کی اقوامِ متحدہ نے ہی تصدیق کی تھی اسی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں کسی رہنما کے خلاف بظاہر سب سے سخت فیصلہ ہے مگر مقتولین کے ایسے ورثا کو انصاف دلانے کے لیے ناگزیر تھا جن کے عزیزو اقارب حکومت کے سفاکانہ کریک ڈائون کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
شیخ حسینہ واجد اور اُن کی حکومت میں وزیرِ داخلہ کے فرائض ادا کرنے والے اسد الزمان کمال اِس وقت بھارتی شہر اگرتلہ میں مقیم ہیں جنھیں بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی سیاسی مہمان تصور کرتی ہے جوحالیہ فیصلے کے بعد اب سیاسی نہیں رہے بلکہ مجرم ثابت ہوچکے ہیں اور عالمی چارٹر کی رو سے مجرمان کاتحفظ ،اعانت اور میزبانی ممنوع ہے اسی چارٹر کی رو سے دنیا کے درجنوں ممالک میںمجرمان کی حوالگی کا معاہدہ ہے اِس حوالے سے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بھی معاہدے موجود ہیں جن پر ماضی میں عمل درآمد بھی ہوتا رہا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک مزید حوالگی کے حوالے سے موجود معاہدے کی پاسداری کریں گے ؟بظاہر ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ سیاسی ،دفاعی اور تجارتی مفاد کے لیے بھارت شیخ حسینہ خاندان کو نہایت اہم تصور کرتا ہے مگر عدالتی فیصلے کے بعد جوصورتحال پیدا ہوئی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ حوالگی اورملک بدری جیسے بنگلہ دیشی مطالبات کابھارت کیسے سامنا کرتا ہے بظاہر عدالتی فیصلے سے بھارت کے لیے صورتحال کچھ مشکل اور پیچیدہ ہوئی ہے فیصلے کے تناظر میں ایک بار پھر بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ شیخ حسینہ اور اسدالزمان کمال کو ملک بدرکرے جس کے جواب میں بھارت کا محض تعمیری رابطہ رکھنے کا وعدہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کامطالبہ پوراکرنے کا کوئی اِرادہ نہیں رکھتا جس کی وجہ سے مستقبل میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید غیر ہموار ہوسکتے ہیں۔
اقتدارکے دوران تیسری دنیاکے سیاستدان اکثر حماقتیں کر جاتے ہیں جس کا احساس انھیں اقتدار سے محرومی کے بعداُس وقت ہوتاہے جب اپنے ہی فیصلوں سے سزا ملتی ہے شیخ حسینہ نے ڈھاکہ عدالت کے فیصلے کی مذمت اور اُسے متعصبانہ اور سیاسی بنیادوں پر سنایا جانے والا فیصلہ قرار دیا ہے اپنے بیان میں مزیدکہا کہ یہ سزا عبوری حکومت کے اندر موجود انتہا پسندانہ عناصر کی قاتلانہ نیت کوظاہر کرتی ہے۔ بظاہرایسی سزاجو کسی کی عدم موجودگی میں سنائے جانے پر اخلاقی اور قانونی نکتہ نظر سے سوالات اُٹھائے جا سکتے ہیں مگریہاں ٹربیونل کے اغراض ومقاصد کا جاننا قارئین کے لیے خاصا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ شیخ حسینہ نے پاکستان سے نفرت میں یہ ٹربیونل بنایا تاکہ البدر کے وہ لوگ جو زندگی کے ایام گزار رہے ہیں انھیں بڑھاپے میں بھی بغیر ثبوت اور شہادتوں کے پھانسی دی جا سکے جوکہ ہر حوالے سے انصاف سے متصادم طریقہ کارہے اِس طریقہ کارمیں مکتی باہنی کے انسانیت کے خلاف جرائم کوتو نظرانداز کیاجاتارہا مگرالبدراور الشمس کے رضاکاروں پربے بنیاد مقدمات بناکر عدالتی قتل کیے گئے سزائیں سنانے کے لیے گواہی اور ثبوت کایہ معیار تھاکہ کسی نے عوامی لیگ کی مخالفت کی یاکسی کے خلاف عوامی لیگ کے حمایتی اخبارمیں کوئی خبر شائع ہوئی توٹربیونل نے اُسے ہی معتبر گواہی اور ثبوت تسلیم کرلیا 1971کے واقعات کو بنیاد بناکر 2022سے لیکر 2024کے دوبرسوں میں ایسے درجنوں مقدمات بنائے گئے جن کوبنیادبناکر علما اور سیاسی رہنمائوں کو پھانسی دیدی گئی اِس طرح دراصل ملک کو پاکستان نواز عناصر سے پاک کرنے کے ساتھ شیخ حسینہ اپنے سیاسی مخالفین کو خوفزدہ کرنا چاہتی تھیں یہ پاکستان اور بنگلہ دیش معاہدے کی صریحاََ خلاف ورزی تھی لیکن بھارت سے محبت میں مدہوش شیخ حسینہ نے ظلم کی ہرحد پارکردی مگر ایسا کرتے ہوئے مکافاتِ عمل بھول گئیں اورآج اپنے ہی بنائے ٹربیونل کے زریعے جرائم کی مرتکب قرارپاچکی ہیںکچھ اسی طرح ہی بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمنٰ بھی اپنی ہی بنائی مکتی باہنی کے میجر فاروق کے ہاتھوں اگست 1975 میںانجام کوپہنچے جس میں وہ اپنی اہلیہ ،بچوں اور بہو سمیت قتل ہوئے اور صرف دوبیٹیاں ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے بچ سکیں اگر بیٹی اپنے باپ کا انجام یاد رکھتی تو اقتدار کے دوران انصاف کی دھجیاں نہ بکھیرتی کیسا عجب اتفاق ہے کہ سیاسی مخالفین کاخاتمہ کرنے کے لیے جو ٹربیونل بنایااسی نے آج درست شواہد کی بناپر جب خلاف فیصلہ دیاہے تو وہ متعصبانہ اور سیاسی کہنے لگی ہیں۔
بنگلہ دیش کی موجودہ عبوری انتظامیہ کوجمہوری نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ ملک کانظم ونسق چلانے کا عارضی بندوبست ہے جبکہ اب بھی ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مظاہرے ہوتے ہیں اِس کے باوجود اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ ملک کے اندرموجود خرابیاں دور کرنے کا عمل جاری ہے جس سے انصاف اور جمہوریت کی حقیقی منزل حاصل ہونے کی امید ہے ۔ آج کا بنگلہ دیش بھارت کامطیع و فرمانبردار بننے سے زیادہ اپنی بہترعالمی شناخت اور سب سے بناکر رکھنے میں دلچسپی رکھتاہے وہ ملکی سیاسی نقشے کو درست رکھنے کے ساتھ خطے میں فعال اور جاندار کردار کا آرزومند ہے وہ بھارت کومشرقی ریاستوں تک آسان رسائی کے لیے راہداری دینے کے عوض اپنے مفاد کا بھی تحفظ چاہتا ہے اُسے بھارت کی آبی جارحیت کا بھی ادراک ہے اسی لیے موجودہ عبوری انتظامیہ کا چین اور پاکستان کی طرف جھکائو ہے اِن مقاصد کے لیے شیخ حسینہ کاسیاسی انجام بہت اہم ہے کیونکہ بنگلہ دیش کے اندرسیاسی اور خطے میں مثبت تبدیلیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مزیدخبریں