اکانومسٹ میں ہماری سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے حوالے سے چھپنے والی رپورٹ کے مندرجات چونکا دینے والے ہیں۔ان حقائق یا خبروں میں بیشتر ہمارے ہاں پہلے سے ہی معروف ہیں۔ ہم لوگ ان سے واقف ہیں لیکن اکانومسٹ میں مندرجات جس مربوط اور منظم انداز میں پیش کئے گئے ہیں اس سے ایک مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔ عمران خان کا جو طرز حکمرانی سامنے آتا ہے وہ کسی طور بھی ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ملک کے نہ صرف شایان شان ہی نہیں بلکہ قطعاً قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے۔ اوون بینیٹ جونز اور بشریٰ تسکین کی طویل تحقیقاتی کاوشوں کے بعد جو ایک رپورٹ سامنے آئی ہے وہ لگتا ہے شک و شبہے سے بالاتر ہو گی کیونکہ انہوں نے خاصا وقت لگا کر، بہت سے متعلقہ افراد سے براہ راست گفتگو کر کے، حقائق جمع کر کے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مندرجات کے بارے میں پی ٹی آئی نے ابھی تک مستند انداز میں تردید نہیں کی ہے۔ اس کے خلاف باتیں تو کر رہے ہیں لیکن بیان کردہ حقائق کی تردید نہیں کر رہے ہیں۔ حسب سابق اور حسب عادت پی ٹی آئی والے بلند و بانگ انداز میں تنقید کر رہے ہیں لیکن بیان کردہ حقائق کے خلاف کسی قسم کا ٹھوس ثبوت یا تردید نہیں کر پا رہے ہیں۔ دوسری طرف بشرہ تسکین مسلسل انٹرویو دے رہی ہیں اپنی رپورٹ کا دفاع کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئر وکیل اظہر صدیق صاحب نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعلان کیا کہ پی ٹی آئی اس رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کرے گی لیکن وہ وضاحت نہیں کر سکے کہ وہ ایسا کہاں کریں گے۔ پاکستان میں یا برطانیہ میں یا کہیں اور۔ ایسے لگ رہا تھا کہ وہ ویسے ہی آئیں بائیں شائیں کر رہے تھے جیسے پی ٹی آئی والے کرتے رہتے ہیں۔ بشریٰ تسکین کے بقول ایک سال تک پھیلی ہوئی تحقیق کے بعد ان کے پاس ایک کتاب کے برابر مواد جمع ہو گیا ہے لیکن بڑی جدوجہد کے بعد اسے مختصر کر کے رپورٹ کی شکل دی گئی ہے۔ ان کی گفتگو سے ایسا لگتا ہے کہ شاید ایک اور رپورٹ شائع ہو گی جس میں اس سے بھی زیادہ چونکا دینے اور حیران کر دینے والے حقائق موجود ہوں گے۔ ہمارے ہاں کچھ لوگ ریحام خان کی کتاب کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کتاب میں بھی چونکا دینے والے حقائق بیان کئے گئے تھے، اس میں درج باتیں فرسٹ ہینڈ مشاہدات اور معلومات پر مبنی تھیں۔ پی ٹی آئی اس کتاب میں درج کردہ حقائق کی تردید نہیں کر سکی تھی۔ اس کے باوجود عمران خان کے چاہنے والوں پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اس لئے اکانومسٹ کی رپورٹ کی اشاعت بھی پی ٹی آئی سے محبت کرنے والے عمران خان کو چاہنے والوں کی سوچ اور اپروچ میں کوئی تبدیلی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ بات شاید کسی حد تک درست بھی ہو گی کیونکہ پی ٹی آئی عمران خان کا نام ہے اور عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے۔ اس کے فالوورز ہیں، اس کے چاہنے والے ہیں جو اسے مانتے ہیں، پہچانتے ہیں، پوجتے ہیں۔ ایک پیر کی طرح، اس لئے وہ تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مانتے ہی رہیں گے۔ بشریٰ بی بی کو اس لئے مانتے ہیں کیونکہ وہ عمران خان کی اہلیہ ہیں۔ عمران خان کی مینٹورہیں، ان کی روحانی پیشوا ہیں اس لئے ان کے بارے میں بھی عمومی خیالات ایسے ہی ہیں تو یہ بات تو طے ہو گئی کہ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے ووٹرز اور سپوٹرز کے خیالات تو تبدیل ہونے والے نہیں ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ کیوں شائع کی گئی؟ کن کے لئے شائع کی گئی؟ اس رپورٹ سے فائدہ اٹھانے والے کون ہوں گے؟۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اکانومسٹ کے مخاطبین اردو خواں طبقات نہیں ہیں۔ اکانومسٹ پاکستان کا جریدہ نہیں ہے، پاکستانیوں کے لئے نہیں ہے۔ اردو خواں قارئین کے ابلاغ کے لئے نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیوز ویک، ٹائمز اور ایسے ہی انگریزی جریدوں میں چھپنے والی خبریں و رپورٹیں ہمارے ہاں موضوع بحث بنتی رہی ہیں۔ ہمارے ہاں ان جریدوں میں چھپنے والی خبروں کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے تجزیہ نگار ان جرائد میں چھپنے والی خبروں اور تجزیوں کے حوالہ جات سے اپنے بیان کو موثر اور موقر بناتے رہتے ہیں، اس لئے اکانومسٹ کی رپورٹ نے ہمارے ہاں قومی سیاست میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ موافق اور مخالف تجزیہ نگار اس رپورٹ کے مندرجات کو مثبت اور منفی انداز میں پیش کررہے ہیں۔ میڈیا میں خوب لے دے ہو رہی ہے لیکن کسی نے بھی ابھی تک اس رپورٹ کی اشاعت کی حقیقی غرض و غائیت پر غور و فکر نہیں کیا ہے بلکہ اسے اپنے ہی تناظر میں، سیاسی مقاصد کے تناظر میں لیا ہے اور اس کی حمایت اور مخالفت میں مہم شروع ہو چکی ہے حالانکہ یہ رپورٹ پاکستان کے لوکل تناظر میں ہرگز ہرگز شائع نہیں کی گئی ہے۔دوسری بات کہ یہ رپورٹ کس نے چھپوائی ہے؟ بات واضح ہے کہ برطانوی میڈیا ہمارے میڈیا کی طرح نہیں ہے کہ اس میں جو چاہیں لے دے کر چھپوا لیں۔ یہ رپورٹ انہوں نے خود اپنے فیصلے کے مطابق چھاپی ہے۔ اس رپورٹ کی اشاعت سے انہوں نے پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف اپنے طے شدہ ایجنڈے کو بڑھاوا دینے کی کاوش کی ہے۔ انہوں نے اس رپورٹ کو شائع کر کے انگریزی خواں اپنے لوگوں کی ذہن سازی کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان پر اس طرح کے لوگ حکمران ہیں۔ ایٹمی پاکستان کو کس بھونڈے انداز میں سفلی انداز میں ، جادو ٹونے کے ذریعے بھی چلایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کی معتمد بہ تعداد عمران خان جیسے لیڈر کو پسند کرتی ہے جو ایک جادوگرنی قسم کی عورت کے حصار میں رہ کر فیصلے کرتا رہا ہے۔ ایٹمی پاکستان خطرناک ہو سکتا ہے۔ اقوام مغرب روزِ اول
سے ہی اسلامی پاکستان کے خلاف رہی ہیں۔ اسلام کا یہ ورژن یعنی ٹونے، ٹوٹکے اور تواہم پرستی کا شاہکار ان کے لئے ان کے عوام کے لئے آئیڈیل ہے کیونکہ اس طرح وہ اپنے عوام کے سامنے اسلام کے خلاف نفرت پیدا کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بھی اپنے عوام کی ذہن سازی ممکن ہے۔ اس آرٹیکل یا تحقیقاتی رپورٹ کے ذریعے مغربی اقوام کی اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کو تقویت ملتی نظر آرہی ہے۔ اس رپورٹ کے مخاطبین، مغرب کے لوگ ہیں، پاکستان کے نہیں۔ اس لئے ہم ویسے ہی کج بحثی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی گئی ہے جو یہاں پاکستان میں پہلے سے معلوم نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں ہمارے میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچی ہوئی ہیں۔ انہیں جمع کر کے شائع کرنا، پاکستانی عوام کے لئے نہیں اور نہ ہی یہاں کسی کی حمایت کرنا یا کسی کی مخالفت کرنا نظر نہیں آرہا ہے بلکہ اسے وسیع تر تناظر میں مغربی ممالک کے عوام کی ذہن سازی کے لئے شائع کیا گیا ہے اور یہ رپورٹ اقوام مغرب کی پاکستان دشمن پالیسیوں کو تقویت بھی دیتی ہے، اس لئے ہمیں بھی اسے لوکل نہیں بلکہ بین الاقوامی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔
اکانومسٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے حقیقی مقاصد
09:15 AM, 19 Nov, 2025