"امریکی بحری جہاز ایکشن کے لیے تیار تھے، ہم ایران پر حملے سے صرف 60 منٹ دور تھے"؛ صدر ٹرمپ کا  دعویٰ

09:31 PM, 19 May, 2026

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ روز امریکا ایران پر ایک ہولناک حملے کے بالکل دہانے پر کھڑا تھا اور واشنگٹن اس فوجی ایکشن سے محض ایک گھنٹہ دور تھا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے خود ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ صادر کر دیا تھا، یہاں تک کہ امریکی بحری جہازوں کو گولہ بارود سے لوڈ کر کے بالکل اسٹارٹ پوزیشن پر لا کھڑا کیا گیا تھا، تاہم آخری لمحات میں سفارتی سطح پر یہ اپیل کی گئی کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اس لیے اسے تھوڑا وقت دیا جائے، جس کے بعد حملہ روکا گیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور امریکا سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دنیا کے کئی بڑے رہنماؤں نے مجھ سے رابطے کیے ہیں، جس کے بعد ایران کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔

امریکی صدر نے تہران کو شدید ترین الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پچھلے 47 سال سے مشرقِ وسطیٰ کو ہراساں کر رہا ہے اور وہ پورے خطے کو تباہ کرنا چاہتا ہے، لیکن امریکا ایسا کبھی نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ ایران کا ایٹمی طاقت بننے کا خواب پوری دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

مستقبل کی فوجی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اب امید پیدا ہوئی ہے کہ مزید فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا؛ اگر ضرورت پڑی تو ایران پر دوبارہ ایک اور انتہائی طاقتور حملہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنے بیان کے آخری حصے میں صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ایران کے ساتھ ان مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے لاطینی امریکی ملک کیوبا کو ایک ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس وقت اپنی بقا کے لیے امریکا سے مدد کی اپیلیں کر رہا ہے۔

مزیدخبریں