پاکستانی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی، قانونی حد پامال؛ آئی ایم ایف نے ٹیکس اور توانائی شعبے میں کڑی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا

04:17 PM, 19 May, 2026

اسلام آباد : عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ مسلسل طے شدہ حد سے تجاوز کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں قرضوں کی قانونی حد 60 فیصد مقرر تھی، لیکن اس وقت یہ شرح جی ڈی پی کے 72.8 فیصد کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے، جو ملکی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ڈھانچے کے باعث اگلے مالی سال بھی معیشت پر دباؤ برقرار رہے گا اور یہ شرح 67 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ حکومت نے طویل مدتی پلاننگ کے تحت سال 2034 تک قرضوں کو 55.7 فیصد پر لانے کا ہدف طے کیا ہے، تاہم آئی ایم ایف نے اس ہدف کے حصول کو سخت ترین معاشی فیصلوں سے مشروط کر دیا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے لیے معاشی بحالی کا فارمولا دیتے ہوئے کہا گیا ہے قرضوں کے اس جال سے نکلنے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا، سرکاری سطح پر جاری غیر ضروری اخراجات میں بھاری کمی لانا ہوگی اور توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کی اس حالیہ رپورٹ کی روشنی میں حکومت آنے والے بجٹ میں ٹیکس چوری کے خاتمے اور بجلی و گیس کے شعبے میں سبسڈیز کو مزید محدود کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ عالمی ادارے کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

مزیدخبریں