وطن عزیز کے اصل مسائل مہنگائی، لاقانونیت، ناانصافی، ظلم، اداروں کی تباہی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہر دوسرے چوتھے روز ایسا شوشا چھوڑا جاتا ہے عوام کی ساری توجہ اُس جانب ہو جاتی ہے، حالانکہ ایسے شوشوں یا تماشوں کی اب ضرورت ہی نہیں رہی، عوام کو ہر لحاظ سے خصوصاً غیرت کے لحاظ سے اتنا کمزور کر دیا گیا ہے اپنے ساتھ ہونے والی کسی بے حیائی، ظلم یا ناانصافی کا اُن پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا، چنانچہ ہمارے سیاسی و اصلی حکمران عوام یعنی ہجوم کی توجہ اُن کے اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے کوئی شوشا اب نہ بھی چھوڑیں کوئی فرق نہیں پڑتا، حکمرانوں کے کاروبار سیاست و حکومت چلتے اور چمکتے رہیں گے، عوام کو برداشت کرنے کا اب نشہ لگ گیا ہے، ایک پریشان حال شخص کسی دشت شناس کے پاس گیا، اُس نے اُس کا ہاتھ دیکھ کر کہا ”اگلے پانچ برس تک تمہارے حالات بہت خراب رہیں گے“، پریشان حال شخص نے پوچھا ”اُس کے بعد کیا ہو گا؟“۔ وہ بولا ”اُس کے بعد تمہیں ان خراب حالات کی عادت پڑ جائے گی“، سو ہمیں اب عادت پڑ گئی ہے، میں اکثر سوچتا ہوں جس کرپٹ اور کریمینل سسٹم کی ہمیں عادت پڑ گئی ہے اُس کے خلاف ہم سڑکوں پر نکلنے کی ہمت اس لیے نہیں کرتے ہم سب اُس کے بینیفشری ہیں، لیکن اگر یہ سسٹم کسی طرح ٹھیک ہو گیا اُس کے خلاف ہم ضرور اس مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئیں گے ہمارا پُرانا سسٹم ہمیں واپس کرو، اسی پُرانے سسٹم کے مطابق اب ایک نیا ڈرامہ ”کوکین زادی“ کی صورت میں پیش کر دیا گیا ہے، اس ڈرامے یا تماشے سے جس نے جو کچھ حاصل کرنا ہے جلد کر لے گا، اُس کے بعد یہ کہانی اُسی طرح دفن ہو جائے گی جیسے ایان علی کی ہوئی تھی، حتیٰ کہ وہ افسر بھی قتل ہو گیا جس نے اُسے گرفتار کیا تھا، جن کے کہنے پر کیا تھا وہ آج بھی دندناتے پھرتے ہیں، اُس کے اصل قاتلوں کا تو پتہ نہیں کچھ پتہ چلا یا نہیں یا اُنہیں کوئی سزا ہوئی یا نہیں؟ مگر ایان علی کا کہیں سے بھی کوئی بال بیکا نہیں کر سکا، اُس کا پتہ ہی نہیں اب وہ پاکستان میں ہے یا دُنیا کے کسی خوبصورت مُلک میں بیٹھ کے یا لیٹ کے پاکستان کے اُس سسٹم کو دعائیں دے رہی ہے جس نے اندھا دُھند اُسے ریلیف دیا، ”کوکین زادی“ پکڑی اب گئی ہے، یہ دھندہ وہ کتنے سال سے کر رہی تھی، ظاہر ہے اُسے اداروں خاص طور پر پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل تھی، پولیس کا کردار اب اتنا گھناو¿نا ہو گیا ہے میں دل سے یہ سمجھنے لگا ہوں مُلک سے اگر واقعی جرائم ختم کرنا ہیں محکمہ پولیس ختم کر دیا جائے اُس کے بعد جرائم خود بخود ختم ہو جائیں گےہ، پنجاب میں پھر بھی کچھ پولیس افسران تھوڑی بہت بچی کھچی غیرت وغیرہ دکھا کے جرائم کنٹرول کرنے کی ہلکی پھلکی کوشش کر لیتے ہیں، سندھ میں ساری توجہ ہی مال بنانے پر ہے، ایسی ایسی خوفناک کرپشن کہانیاں سُننے کو ملتی ہیں بی بی اور بھٹو کی قبروں پر جا کے باقاعدہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ پیچھے کیسی کرپٹ اور نااہل قیادت آپ چھوڑ گئے ہیں، سندھ کے بیشمار سول محکموں کی بدنظمی اور بدانتظامی کی حالت پچھلے دنوں گھڑے جانے والے اس واقعے سے لگائی جا سکتی ہے، امریکی نائب صدر نے پاکستان سے واپسی پر جہاز سے نیچے دیکھا اور سٹاف سے کہا ”اسرائیل نے ایران کی کتنی تباہی کر دی ہے“، سٹاف بولا ”سر ہم اس وقت ایران کے نہیں کراچی کے اُوپر سے گزر رہے ہیں“۔ میرا یہ شعر پورے پاکستان پر فٹ بیٹھتا ہے، پر کراچی خصوصی طور پر اس کی زد میں آتا ہے۔
پاک وطن میں جو کچھ ہے سب کچھ پیارے لُوٹ جا
رشوت لیتے پکڑا گیا ہے رشوت دے کے چُھوٹ جا
جلد یا بدیر چُھوٹ ”کوکین زادی“ نے بھی جانا ہے، سودا کسی ادارے سے طے نہ ہوا اپنی عدلیہ کا تو آپ کو پتہ ہی ہے، ہمارے کچھ ادارے یا اُن سے وابستہ کچھ شخصیات جرائم پیشہ افراد سے معاملات طے ہی اس لیے کرتے ہیں اُنہیں پتہ ہوتا ہے ہم نے معاملہ طے نہ کیا آگے چل کر تو ہو ہی جانا ہے، پندرہ سال بعد ایک بوڑھی عورت کو کسی عدالت سے ریلیف ملا اُس نے جج کو دعا دیتے ہوئے کہا ”پ±تر اللہ تینوں تھانیدار بنائے“، جج بڑا حیران ہوا اُس نے کہا ”مائی، جج تو تھانیدار سے بہت بڑا ہوتا ہے“، مائی بولی ”نئیں جج صاحب، تھانیدار بوہتا وڈا ہوندا اےہ، تسی جیڑا فیصلہ پندرہ سال بعد میرے حق وچ سُنایا اے، پندرہ سال پہلے مینوں تھانیدار نے کہیا سی ”مائی دس ہزار دے تیرا کام ایتھے ای مُکا دینے آں“۔ کام کوکین زادی کا بھی مُک ہی جانا ہے، بس اتنا ہے وہ سسٹم کے کچھ کرداروں کو مزید ننگا کر جائے گی، ایک تو سسٹم اُس کا حمایتی ہے دوسرے اُسے عورت ہونے کا ایج بھی حاصل ہے، پاکستان میں جو کام مرد بیچارے ایڑی چوٹی و دیگر اعضا کا پورا زور لگا کے نہیں کر سکتے کچھ عورتیں بغیر زور لگائے کر لیتی ہیں، ”کوکین زادی“ عام نہیں بڑی شاطر عورت ہے، اپنے بچاو¿ کے داو¿ و پیچ وہ خوب جانتی ہے، ایسے ہی نہیں اُس نے منہ پھاڑ کے کہہ دیا ”ہم تے ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے“۔ جس طرح کی سیاہ سی و زیادہ سیاہ سی سرپرستیاں اُسے میسر ہیں یہ ممکن ہی نہیں آگے چل کے کچھ لے دے کے اُس کے معاملات ٹھنڈے نہ پڑ جائیں، البتہ کچھ لے دے کی تفصیلات میں بیان نہیں کر سکتا، عدالت میں پیشی پر بنی گالہ کا جو ذکر اُس نے کیا وہ عوام کی ہمدردیاں لینے کی بڑی کامیاب کوشش تھی، پہلے لوگ اُس کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کر رہے تھے اب وہی لوگ یہ کہہ رہے ہیں ”وہ بے قصور ہے اور ادارے اُسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں“، ممکن ہے کچھ ناپسندیدہ لوگوں کے نام لینے پر اُسے واقعی مجبور کیا جا رہا ہو، اصل سوال یہ ہے جو کرتوتیں اُس کی ثابت شدہ ہیں اُن میں وہ کسی پکڑ میں آ سکے گی یا نہیں؟ اس دھندے میں وہ اکیلی نہیں، آدھا پاکستان اُس کا گاہک ہے، بڑے بڑے طاقتور لوگ اور اُن کے اولادیں اُن میں شامل ہیں، اُس کا قصور صرف یہ ہے وہ پکڑی گئی ہے، اُس سے زیادہ بڑے بڑے کھلاڑی موجود ہیں مگر وہ ”خدمت“ ہی اتنی کرتے ہیں اُن کے پکڑے جانے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، ”کوکین زادی“ کی طرح وہ صرف اُسی صورت میں عارضی گرفت میں آ سکتے ہیں کسی طاقتور کو دو نمبر مال سپلائی کر دیں، کسی کو حصہ پہنچانے سے انکار کر دیں، یا اپنے سیاسی سرپرستوں کے آگے سے جو سرپرست ہیں اُنہیں کسی بات پر ناراض کر دیں۔
کوکین زادی
09:10 AM, 19 May, 2026