ایرانی تیل اور من گھڑت بیانیے کی حقیقت

09:09 AM, 19 May, 2026

پاکستان کی سفارتی کامیابیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وطن عزیز نے بڑے محاذ پر اہم کامیابیاں اپنے نام کی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے حال ہی میں دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کی سفارتی کاوشیں ابھی ناکام نہیں ہوئیں، سفارتی سطح پر پاکستان اب بھی سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ ایسے حالات میں جب دنیا یہ دیکھ چکی ہے کہ پاکستان اب بھی میدان میں موجود ہے اور اہم رتبے پر فائز رہتے ہوئے سفارتی علم بلند کیے ہوئے ہیں، سازشیں اور پراپیگنڈا بڑھ جانا فطری عمل ہے۔ اندرون اور بیرون ملک سازشوں کا سلسلہ جاری ہے اور یوں واضح ہو رہا ہے کہ یہ ٹولہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں سے خائف ہے اور معاملات کو غلط تاثر دے کر گمراہی پھیلانے کے مشن پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ یہ تاثر دینا کہ پاکستان جان بوجھ کر بڑے پیمانے پر ایرانی تیل سمگلنگ کی اجازت دے کر ایران کی معاونت کر رہا ہے، زمینی حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ایرانی ایندھن کی محدود نقل و حرکت دراصل ان دور افتادہ علاقوں کی بنیادی ضروریات اور بقا سے جڑی ہوئی ہے جہاں باقاعدہ آئل سپلائی نیٹ ورک تاریخی طور پر موجود نہیں رہے۔ 1952 سے ایک باقاعدہ انتظامی طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت ایران سے ملحقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز مقامی درآمد کنندگان کو محدود مقدار میں ایرانی ایندھن لانے کے اجازت نامے جاری کرتے ہیں تاکہ سرحدی علاقوں کی مقامی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ یہ نظام اس لیے متعارف کرایا گیا کیونکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بلوچستان کے متعدد دور دراز علاقوں میں اپنی سپلائی لائنز قائم نہیں کر سکیں۔ اس طریقہ کار کے تحت ایرانی ڈیزل صرف سرحدی علاقوں کی مقامی کھپت کیلئے مختص ہوتا ہے اور اسے پاکستان کے مرکزی کمرشل آئل نیٹ ورک میں شامل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کی مقدار باقاعدہ پیمائش، نگرانی اور انتظامی کنٹرول کے تحت رکھی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ جرائم پیشہ اور سمگلنگ نیٹ ورکس نے اس مقامی سہولت کاری کے نظام کا ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ اکتوبر 2023 تک غیر قانونی ڈیزل سمگلنگ تقریباً 20.5 ملین لیٹر یومیہ تک پہنچ چکی تھی، جو مقامی ضروریات سے کہیں زیادہ تھی۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز، فرنٹیئر کور، کسٹمز اور صوبائی حکام نے 15 اکتوبر 2023 سے سمگلنگ، غیر قانونی تجارت اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف مربوط کریک ڈاو¿ن شروع کیا۔ مسلسل کارروائیوں اور نگرانی کے نتیجے میں سمگلنگ کا حجم کم ہو کر 2024 میں 6.5 ملین لیٹر یومیہ رہ گیا جبکہ 2025 میں مزید کم ہو کر تقریباً 0.72 ملین لیٹر یومیہ تک آ گیا۔ یہ اعداد و شمار اور انسدادِ سمگلنگ اقدامات کی تفصیلات ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے 6 جنوری 2026 کو ایک عوامی بریفنگ کے دوران واضح طور پر پیش کیں، جس کے بعد پاکستان کا مو¿قف، ڈیٹا اور حکومتی اقدامات مکمل طور پر عوامی ریکارڈ کا حصہ بن گئے۔ انسدادِ سمگلنگ مہم کے نتیجے میں پیٹرولیم ریونیو میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار اور پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم سمگلنگ کے خلاف کارروائیوں سے پی او ایل ریونیو میں 82 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست غیر قانونی تجارت کا خاتمہ کر رہی ہے، نہ کہ اس کی سرپرستی۔ بعض بین الاقوامی اخبارات میں یہ دعویٰ کہ پاکستان دانستہ طور پر ایرانی تیل سمگلنگ کی اجازت دے کر ایران کی مالی معاونت کر رہا ہے، پاکستان کے سرحدی علاقوں کی تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی حقیقتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے۔ اجازت یافتہ محدود ایندھن صرف مقامی آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے مخصوص ہے، نہ کہ پابندیوں سے بچنے یا غیر قانونی بین الاقوامی تجارت کیلئے پاکستان سرحدی نظم و نسق کو مزید مضبوط بنانے، جرائم پیشہ سمگلنگ نیٹ ورکس کے خاتمے اور ایندھن کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دور افتادہ سرحدی علاقوں کی آبادی روزمرہ زندگی اور معاشی بقا کیلئے ضروری توانائی سے محروم نہ ہو۔ پاکستان کا یہ مو¿قف بہت واضح دلیل ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر قانونی فعل کی حمایت نہیں کرتا۔ پاکستان کبھی سمگلنگ جیسے ناسور کو پروموٹ نہیں کرتا بلکہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کیا جا چکا ہے۔ پاکستان سمگلنگ جیسے منظم نیٹ ورک کا ماضی میں بھی تدارک کرتا آیا ہے مگر بیان کردہ تفصیلات یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ایرانی تیل کی حقیقت کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ملک کے اندر بھی موجود کچھ عناصر ہوش کے ناخن لیں اور ایران تیل کے معاملے میں بغیر تصدیق کے کچھ بھی لکھنے یا بیان کرنے سے گریز کریں۔ پہلے معلومات لیں اور اس کے بعد اپنی رائے قائم کریں۔

مزیدخبریں