آئی پی پی گلگت بلتستان میں جیت رہی ہے 

09:06 AM, 19 May, 2026

پاکستان یقینا ایک سیاسی عمل کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا اور 1946ءکے انتخابات دراصل تقسیم ہند کا ریفرنڈم تھا جو مسلم لیگ نے آبرومندانہ انداز میں جیت لیا اور پاکستان معرض وجو د میں آ گیا۔ بدقسمتی سے 1947ءسے لے کر 1973ءتک پاکستان متفقہ آئین نہ بنا سکا اور شخصی دساتیر میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ ریاست پاکستان کی ضرورتوں کو پورا کر سکتے۔ بدقسمتی سے 1971ءمیں ہمارا مشرقی بازو ہم سے الگ ہو گیا۔ پاکستان بننے کے بعد قائد کے سپاہیوں اور اقبال کے شاہینوں نے اس نوزائیدہ آزاد ریاست کے شہریوں کے ساتھ وہ سلو ک کیا جو ایک فاتح سپاہ مفتوح کے ساتھ کرتی ہے۔ عروج و زوال کی منازل طے کرتا ہوا پاکستان دو لخت ہونے کے بعد آخر کار 1973ءمیں اپنا متفقہ آئین بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ 1973ءکے آئین سے پہلے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کا نظام آج کے (ECP) جیسا منظم اور آئینی نہیں تھا۔ اُس دور میں سیاسی جماعتیں زیادہ تر مختلف قوانین اور حکومتی اجازت ناموں کے تحت کام کرتی تھیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں سیاسی جماعتوں کیلئے کوئی مستقل آئینی طریقہ رجسٹریشن موجود نہیں تھا۔ 1956ءتک زیادہ تر سیاسی جماعتیں سوسائٹیز ایکٹ، پبلک آرڈر قوانین اور سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت سرگرم رہتی تھیں۔
1973ءکے آئین پاکستان کا آرٹیکل 17 ہر پاکستانی شہری کو انجمنیں، یونین سازی اور سیاسی جماعتیں بنانے کا حق دیتا ہے بشرطیکہ یہ سب کچھ قانون اور ملکی سالمیت کے خلاف نہ ہو۔ یہ شق پاکستان میں سیاسی جماعت بنانے اور سیاسی سرگرمیوں کی آئینی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً 167 کے قریب رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔ سیاسی جماعتیں عوامی منشور کے مطابق عمل میں آتی ہیں اور اُن کا مقصد پاکستان کے عام آدمی کو وہ ضرورتیں اور سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا جانا ہے جو پہلے سے سیاست میں موجود سیاسی جماعتیں عوام کو فراہم کرنے میں ناکام رہی ہوں۔ پاکستان شہری اپنی آزاد مرضی سے سیاسی جماعتوں کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر اُس کیلئے ووٹ دینے کے علاوہ بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ یہ عام آدمی ہی ہوتا ہے 
جو سیاسی جماعت کو مرکز سے نکال کر یونین کونسل اور وارڈ تک پہنچا دیتا ہے۔ سیاسی جماعت کی مرکزی، صوبائی، ضلعی اور تحصیل کی قیادتیں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں اور اپنی جماعت کا مقصد، نظریہ اور عوامی خواہشات کو سیاسی عمل میں تواتر اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتے رہنے سے عام آدمی کو احساس دلاتی رہتی ہیں کہ وہ دن دور نہیں کہ اقتدار میں آ کر عوامی دکھوں کا مداو ا کر دیا جائے گا۔ ہر سیاسی جماعت ورکروں کو یقین دلاتی ہے کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ نوجوانوں، خواتین، مزدوروں، وکلا، فنکاروں، کسانوں اور طلبہ کے ونگ الگ سے فعال کیے جاتے ہیں تاکہ ہر طبقے کی نمائندگی ہو سکے۔
استحکامِ پاکستان پارٹی نے عبد العلیم خان کی قیادت میں 2024ءکے انتخابات میں بہترین نتائج فراہم کیے جوکسی بھی نئی سیاسی جماعت کیلئے اُن حالات میں تو بالکل ممکن نہیں تھا۔ صوبہ گلگت بلتستان میں ہونے والے 7 جون کے انتخابات نے پھر سیاست کا میدان گرم کر دیا تھا۔ پاکستان کی روایتی سیاسی جماعتیں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی تو مدمقابل ہیں لیکن استحکام پاکستان پارٹی کا روز بروز بڑھتا ہوا گراف اُس کی مقبولیت اور استحکام پاکستان پارٹی کو عام آدمی کی جماعت بنا رہا ہے۔ ماضی کے عام انتخابات میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی مرکزمیں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے ادوار میں جی بی میں بھی حکومتیں بناتی رہی ہیں لیکن اس بار عوامی مزاج بدلا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی موجودہ سیاسی تقاضوں کا فہم رکھتے ہوئے صوبہ گلگت بلتستان میں اپنے سیاسی منشور، ریاست پر اعتماد اور عوامی خدمت کے بے لوث جذبے کے ساتھ جمہوریت کی راہ پر اپنی فتح کے نقوش گہرے کرتی چلی جا رہی ہے۔ پاکستان ایک ایسے دوراہے پر آ کر کھڑا ہوا ہے جہاں پاکستان کے عوام نے یہ طے کر لیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف جس شخص کی مخالفت کرے اُس کے محب وطن ہونے میں کوئی شک نہیں اور ایسا کرنے کیلئے کسی نے پاکستان کے عوام کو مجبور نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف کے اعمال، فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کے علاوہ پاک بھارت جنگ میں بھی کھل کر پاکستانیوں کے سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان کا نوجوان اپنے اداروں پر اعتماد کرتا ہے اور ہر اُس شخص کے ساتھ ہے جو پاکستان کو مضبوط، توانا اور خوشخال دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سابق گورنر، سابق وزیراعلیٰ، سابق سپیکر اور سابق قائد حزب اختلاف سمیت کئی اہم اراکین اسمبلی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان مخالف قوتوں کو منہ کے بل گرنا پڑا ہے اور انہیں عوامی نفرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سو ان حالات میں استحکام پاکستان پارٹی 7 جون کو لگنے والے اس انتخابی میدان میں اپنی مقبولیت اور قبولیت کے ساتھ ساتھ مکمل عوامی حمایت اور پاکستان بھر میں ایک نئی سوچ اورسیاست کے نئے معیارات کے ساتھ اس میدان میں اتر رہی ہے بلکہ تمام آزمودہ سیاسی جماعتوں پر سبقت لے جا چکی ہے۔ اس لیے امید واثق ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کیلئے گلگت بلتستان میں حکومت بنانا کوئی اپ سیٹ نہیں ہو گا بلکہ یہ عوامی خواہشات اور امنگوں کی عکاسی کرتی ہوئی عوام راج کی حکومت ہو گی جس کا انتظار صوبہ گلگت بلتستان کے عوام دہائیوں سے کر رہے تھے۔ پرانے صیاد نئے جال پھیلا رہے ہیں لیکن عوامی فیصلہ آ چکا، نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین کی بڑی تعداد کی آئی پی پی میں شمولیت اور جلسے جلوسوں میں عوامی شرکت نے عوامی مزاج اور قوت کا نیا رنگ دکھا دیا ہے۔ 11 مئی کو اپنے انتخابی ٹکٹ جمع کرانے کے آخری روز استحکام پاکستان پارٹی نے اپنے 15 امیدواروں کا اعلان کیا جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ابھرتی ہوئی جمہوری قوت کے طور پر استحکام پاکستان پارٹی کا ذکر ہر زبان پر ہے۔ علامہ ساجد نقوی کی زیر قیادت اسلامی تحریک پاکستان کے ساتھ بھی آئی پی پی کا بعض سیٹوں پر اتحاد ہو چکا جس کے بعد یہ کہنا سوائے سچ کے اور کچھ نہیں کہ دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی بساط سمٹتی نظر آ رہی ہے۔ صرف چند دنوں جی بی کے مختلف اضلاع سے متعدد تجارتی، سیاسی و سماجی شخصیات اور الیکٹیبلز استحکام پاکستان میں شامل ہو رہے ہیں۔ جس کے بعد اس صوبے میں سیاسی ہوا تبدیل ہو چکی ہے اور اب صاف دکھائی دے رہا ہے کہ 7 جو ن کے انتخابات کے بعد استحکام پاکستان پارٹی 24 ارکان کے منتخب ایوان میں بآسانی اپنی حکومت بنا لے گی اور صوبہ گلگت بلتستان میں ایک نئے عہد کا آغاز ہو گا جو عوامی ضرورتوں اور سہولتوں کے علاوہ دنیا بھر کے سیاحوں مرکز ہو گا۔ عبد العلیم خان کی بہترین حکمت عملی اور پاکستان کی مروجہ سیاست میں انتخابات لڑنے اور جیتنے کا وسیع تجربہ ان انتخابات میں سب کو دکھائی دے گا۔

مزیدخبریں