کرتارپور راہداری نو روز سے بند، سکھ یاتری پریشان

03:57 PM, 19 May, 2025

نارووال: پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کے باوجود بھارت کی جانب سے کرتارپور راہداری نو روز سے بند ہے، جس کے باعث بھارتی سکھ یاتری دربار صاحب کرتارپور کی زیارت سے محروم ہیں۔

گوردوارہ دربار صاحب کے ہیڈ گرنتھی سردار گوبند سنگھ نے راہداری کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سکھ یاتریوں کے خیرمقدم کے لیے تیار ہے، لیکن بھارت سیاسی کشیدگی کو مذہبی معاملات پر مسلط کر رہا ہے۔

انہوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ مذہب کو سیاست سے الگ رکھا جائے اور سکھ یاتریوں کو دربار صاحب آنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ     "عالمی جنگوں کے دوران بھی مذہبی مقامات کی زیارت پر پابندی نہیں لگائی گئی، کرتارپور راہداری کی بندش ناقابل فہم ہے۔"

مقامی سکھوں اور دیگر متعلقہ حلقوں نے بھی بھارتی اقدام کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ راہداری کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ یاتری اپنی عبادات مکمل کر سکیں۔

یاد رہے کہ کرتارپور راہداری کا افتتاح نومبر 2019 میں کیا گیا تھا، جس کے تحت بھارتی سکھ یاتری بغیر ویزا کے پاکستان میں واقع گوردوارہ دربار صاحب آ سکتے ہیں۔ راہداری کو دونوں ممالک کے درمیان ایک مثبت اور تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔

مزیدخبریں