جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ 6 اور 7 مئی کی رات بھارت نے معصوم شہریوں پر حملہ کر کے پاکستان کے خلاف جو حالیہ جارحیت کی وہ مودی سرکار کا کوئی اچانک فیصلہ تھا۔ میرے خیال میں ایسے سادہ دل لوگ بھارت کی تاریخ اور چانکیہ سوچ سے بالکل واقف نہیں ہیں۔ انہیں میرا مشورہ ہے کہ وہ پچھلے چند برس میں پاکستان میں ہونے والی سیاسی و معاشی انارکی اور دہشت گردی کے واقعات کو بھارت کے موجودہ جارحانہ رویے کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں تو انہیں یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آ جائے گی کہ پاکستان کے خلاف بھارت کا یہ حملہ اچانک نہیں بلکہ اس کا برسوں پرانا سوچا سمجھا مرحلہ وار جنگی منصوبہ تھا۔ اس جنگ کا پہلا مرحلہ وہ تھا جسے اس سے پیشتر بھارت مشرقی پاکستان میں بڑی کامیابی سے آزما چکا ہے۔ جو لوگ مشرقی پاکستان کے بنگلادیش بننے میں بھارت کے مکروہ کردار اور چال بازیوں سے پوری طرح واقف ہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کس طرح بھارت نے اپنے روایتی مکر اور سازشوں سے کام لے کر مشرقی پاکستان کے نام نہاد مقبول لیڈر شیخ مجیب الرحمن کی مدد سے اپنے منصوبے کے پہلے مرحلے میں مشرقی پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں افواجِ پاکستان کے خلاف غلط فہمیوں اور نفرتوں کو پروان چڑھایا اور پھر دوسرے مرحلے میںاپنی بنائی ہوئی مکتی باہنی کے ساتھ مل کر پاکستان کو دو لخت کر دیا۔ یہ وہ ناپاک اور کھلی حقیقت ہے جس میں اپنے شرمناک کردار کا بھارت آج بھی ناصرف بڑی ڈھٹائی سے اعتراف کرتا ہے بلکہ اس پر اتراتا بھی ہے۔ اس دل خراش حادثے کو گزرے پچاس برس سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے مگر بھارت ابھی تک پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے اسی قسم کی سازشوں اور مکاریوں میں الجھا ہوا ہے۔ بھارت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اپنی کثیر فوج اور جدید اسلحہ کے باوجود جنگ کے میدان میں وطن پر قربان ہونے کے جذبے سے سرشار پاکستانی سپاہیوں کے جوش اور جنون کا ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے جب اور جہاں بھی پاکستان کو کھلے میدان میں للکارا اسے ہر بار منہ کی کھانا پڑی ہے۔ 65ء میں ہمارے پُرکھوں نے بھارت کے خلاف اپنے دفاع کی جو جنگ لڑی اور اس میں افواجِ پاکستان کے شہیدوں اور غازیوں نے جس طرح جرأت و بہادری کی بے مثال داستانیں رقم کیں وہ ہماری شاندار تاریخ کا حصہ ہیں جنہیں لوگ آج بھی بڑے فخر اور عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔ بھارت کی خوش قسمتی اور ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان کے خلاف اپنی سازشیں رچانے کے لیے اسے اس بار بھی پاکستان سے چند مہرے مل گئے جو اپنے ذاتی یا بھارتی مفادات کے لیے پاکستان کے دفاع کو کمزور کرنے کے لیے افواج پاکستان کے خلاف مسلسل گمراہ کن پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ جس کا انتہائی شرمناک اور خوفناک مظاہرہ قوم نے 9 مئی کو اس روز دیکھا جب باقاعدہ ایک سازش کے ذریعے کچھ لوگوں کو احتجاج کے نام پرگمراہ کر کے حساس دفاعی اداروں پر حملہ کیا گیا جسے ان دفاعی اداروں کے ذمہ داران نے بڑے تحمل اور سمجھداری سے ناکام بنا دیا۔ اس سازش کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ دفاعی اداروں کی حفاظت پر مامور سکیورٹی فورسز اور ان مظاہرین کے براہ راست ٹکرائو سے ہونے والے خون خرابے سے عوامی سطح پر فوج کے خلاف شدید نفرت پیدا کی جائے تاکہ اس کے بعد مشرقی پاکستان کی طرز پر اس بار بھی بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کسی جارحیت یا جنگ کی صورت میں فوج کو عوام کی حمایت حاصل نہ ہو۔ اس دوران بھارت اپنے چند ایجنٹوں کے ذریعے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشت گردی اور افراتفری کی مسلسل پرورش کر کے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرتا رہا۔ لیکن دشمن کی ہر چال پر گہری نظر رکھنے والی ہماری فوج ہر محاذ پر دشمن کی ان سازشوں کو بُری طرح ناکام بناتی رہی۔ پہلگام ڈرامہ رچا کر ’’آپریشن سندور‘‘ کے نام سے پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے بھارت شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنی سازشوں اور چال بازیوں سے افواج پاکستان کو عوام کی حمایت سے محروم کر چکا ہے۔ مگر اس کے جواب میں پاکستانی عوام نے افواج پاکستان کے ساتھ مل کر جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور جنگ کے میدان میں ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے
ذریعے ہمارے فوجی جوانوں نے بھارت کو جو دندان شکن جواب دیا اس نے ناصرف بھارت کو دم دبا کر میدان سے بھاگنے پر مجبور کر دیا بلکہ افواج پاکستان کے بہادر جوانوں کی دلیری اور مہارت نے دنیا بھر کو ورطہ حیرت میں بھی ڈال دیا۔ صد شکر کہ بھارت کے خلاف افواج پاکستان کی بے مثال کارکردگی نے اُن پاکستانیوں کی بند آنکھیں بھی پھر سے کھول دی ہیں جو اس سے پیشتر دشمن کے جھوٹے بیانیوں کا شکار ہو کر افواج پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں پر اُترے ہوئے تھے۔ پاکستان کے دفاع اور سلامتی کی خاطر کراچی سے پشاور اور لاہور سے کوئٹہ تک ساری قوم ہر قسم کے علاقائی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ تاریخ شاہد ہے کہ نازک وقت میں قوم کا اتحاد کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے جس کا ثبوت ہمیں بھارت کے خلاف حالیہ جنگ میں بھی مل گیا ہے۔ عوام کی بھرپور حمایت سے افواج پاکستان نے جنگ کے میدان میں بھارت کو ایسی عبرت ناک شکست دی ہے جسے اس کی آئندہ نسلیں بھی مدتوں یاد رکھیںگی۔ اس جنگ نے جہاں پوری قوم کو سبز ہلالی پرچم تلے جمع کیا وہاں اُن چند مفاد پرست آستین کے سانپوں کو بھی بُری طرح بے نقاب کیا ہے جو ملک سے باہر بیٹھ کر دشمن کے خلاف قوم کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہونے کی بجائے سوشل میڈیا پر اپنی پوری طاقت سے قوم کا مورال گرانے میں مصروف رہے۔ ان بھگوڑوں نے اس نازک صورتحال میں بھی فوج مخالف بیانیہ اپنائے رکھا۔ یقینا یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے کیونکہ حالت جنگ میں اپنی افواج یا حکومت پر تنقید دشمن کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ ملک کی سلامتی سے زیادہ کوئی شخصیت کوئی جماعت یا کوئی نظریہ مقدم نہیں ہے اور ایسے تمام عناصر جو اپنی جہالت یا کسی سازش کے تحت ملک کی سلامتی کے ساتھ کھیلیں وہ کسی رعایت اور معافی کے مستحق نہیں ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے درمیان موجود ایسے آستین کے سانپوں کا چُن چُن کر فوری خاتمہ کیا جائے۔ اس لیے کہ ان سانپوں کو آپ جتنا بھی دودھ پلا لیں انہیں جب موقع ملے گا وہ اپنی فطرت سے مجبور کر ڈسنے سے باز نہیں آئیں گے۔ بقول میاں محمد بخش ؒ
سپاں دے پُت متر نہیں بَن دے
بھاویں چُلیاں دودھ پیائیے
آستین کے سانپ!
09:13 AM, 19 May, 2025