سرنڈر مودی چار روزہ جنگ کیا ہارا اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا، 10 مئی سے اب تک اول فول بکے جا رہا ہے، بھارتی سیاستدان اور عالمی دفاعی ماہرین اس پر تنقید کے کوڑے برسا رہے ہیں۔ بھارتی اپوزیشن نے مودی پر رافیل طیاروں اور امریکا سے اسلحہ کی خریداری میں 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کمیشن وصول کرنے اور امبانی سے کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک اپوزیشن لیڈر نے تو اسے پاگل قرار دیتے ہوئے پاگل خانے میں داخل کرنے کی تجویز دی جہاں اس کا علاج ہو سکے، پاکستان سے شکست کھانے کے بعد ارد گرد کے پڑوسی آنکھیں بلکہ ہاتھ دکھانے لگے ہیں۔ چین نے بھارتی سرحدی صوبہ اروناچل پردیش پر ملکیت کا دعویٰ کر دیا، چینی وزارت خارجہ نے اس کا نام زنگان رکھ دیا۔ اس کے دیگر مقامات کے چینی ناموں کا اعلان کیا۔ خبر مودی کے سر پر بجلی بن کر گری، اسی اثنا میں بتایا گیا کہ چین بھارت بنگلہ دیش کی اہم سرحدی پٹی لال نیر ہاٹ پر پاکستان کی مدد سے اسی سال اکتوبر میں ایئر بیس کی تعمیر شروع کرنے جا رہا ہے۔ مودی کے اوسان خطا ہو گئے۔ خبر آئی چین نے پاکستان کو ڈی ایف 17 میزائل دے دئیے۔ ان میزائلوں کو براہموس کا باپ کہا جاتا ہے۔ جے 36 طیارے بھی دے گا۔ پے در پے خبریں سن کر مودی پر سکتہ طاری ہو گیا۔ اس نے چینی اور امریکی ایکس اکائونٹ بند کر دئیے لیکن جب اپنا گودی میڈیا بھی یہی خبریں دینے لگا تو یہ اکائونٹ کھول دئیے گئے۔ بھارتی شاعر وارن آنند نے انتخابی جیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’جیت نے اندھا کر دیا تھا تجھے، تجھ کو اک ہار کی ضرورت تھی‘‘ ایک روشن دماغ کے مطابق ٹرمپ نے مودی کے پاگل پن کے علاج کے لیے تیر بہدف نسخہ لکھ بھیجا ہے ملاحظہ فرمائیے ’’دو گولی (پاکستانی بندوق کی) صبح دو گولی شام۔ پرہیز، پاکستان سے پنگا لینے سے گریز، طبیعت میں بے چینی محسوس ہو تو تباہ شدہ رافیل کو دیکھ لیا کرو‘ زیادہ گھبراہٹ کی صورت میں گورو آریا کو گھر بلا کر ’’بکواس لیکچر‘‘ سن لیا کرو، بگھوان دیا کرے گا‘‘۔ غرور کا سر نیچا، بڑا زعم تھا کہ بھارت کے پاس چار روسی ساختہ ایس 400 اینٹی ایئر کرافٹ میزائل سسٹم موجود ہیں۔ ہر سسٹم ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کا ہے اسے بتایا گیا یہ سسٹم ایک منٹ میں 36 میزائل فائر کرتا ہے۔ 36 فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے ہیں جنہیں گزشتہ 36 سال میں گرایا نہیں جا سکا۔ اسرائیلی ساختہ ڈرون ہیں جو جاسوسی کے علاوہ میزائل فائر بھی کرتے ہیں۔ 116 ایٹم بم ہیں یہ اسلحہ اور گولہ بارود پاکستان کو ہلنے نہیں دے گا۔ اس نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا ہمارے شاہین الرٹ تھے پلٹ کر جھپٹے جھپٹ کر پلٹے کہ لہو گرم رکھنے کا یہی بہانہ تھا۔ منٹوں میں تین طیارے ٹھاہ، رافیل لوہے کے ڈھیر میں تبدیل، مگ 29 اور ایس یو تھرٹی تباہ کر دئیے۔ شاہینوں نے پانچ نہیں 6 طیارے گرائے اور غازی بن کر لوٹے، قوم کا فخر، اللہ کی امانت دہلی میں پرواز کرتے رہے بھارت کے بزدل اور نکمے پائلٹوں کو جوابی حملے کی جرأت نہ ہوئی۔ صدی کی خطرناک ترین رات کے بعد 10 مئی کی روشن اور فتح کی نوید سناتی صبح، آرمی چیف جنرل حافظ سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور نیول چیف ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام جی ایچ کیو کے وار روم میں کئی راتوں سے جاگتی آنکھوں کے ساتھ بھارت کی جانب سے فائر کیے گئے چار میزائلوں کو تباہ ہوتے دیکھ رہے تھے۔ قریبی مساجد سے فجر کی اذان گونجی، اللہ اکبر، ’’اللہ سب سے بڑا ہے‘‘ نماز ادا کی گئی۔ آرمی چیف نے آدھے گھنٹے تک دعا کی۔ قادر مطلق سے ملک کی سلامتی اور دشمنوں پر فتح کی دعا مانگی۔ جنرل عاصم منیر اور دیگر چیفس کے چہروں پر اطمینان تھا۔ آنکھوں میں عجیب روشنی، وزیر اعظم شہباز شریف رات ڈھائی بجے لاہوری لہجے میں دشمن کو ’’تن دیو‘‘ (برباد کر دو) کی اجازت دے چکے تھے۔ آرمی چیف نے قرآنی آیت تلاوت کی آپریشن کا نام آیت کے حوالہ سے ’’بنیان مرصوص‘‘ رکھا اور حملے کا حکم دے دیا۔ درجن بھر جوانوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور بھارتی فوجی اڈوں اسلحہ ڈپوئوں اور ایس 400 سسٹم پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ بھارت کے 16 ایئر بیس، اسلحہ ڈپو اور ایک ایس 400 سسٹم تباہ کر دیا۔ اسرائیلی ساختہ 91 ڈرونز اوندھے منہ گرے بھارت کے پاس صرف 24 ڈرونز بچے ہیں۔ بچوں نے کھیل ہی کھیل میں بھارتی ویب سائٹ ہیک کر لیں۔ سائبر اہلیت سے ریلوے نظام گرڈ سٹیشن تباہ کر دئیے۔ ممبئی اندھیرے میں ڈوب گیا۔ پاکستان نے دنیا پر دھاک بٹھا دی۔ اپنا لوہا منوا لیا۔ ڈھائی گھنٹے میں منظر نامہ بدل گیا۔ سرنڈر مودی کو پاگل ہونا تھا ہو گیا۔ صدر ٹرمپ سیز فائر نہ کراتے تو مودی کا بھارت چیخوں سے بھر جاتا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے فتح کا اعلان کیا۔ آرمی چیف نے پوری قوم کو مبارکباد دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے برملا کہا کہ ہمارے بہادر جوانوں اور شاہینوں نے 1971ء کی جنگ کا بدلہ لے لیا۔ جشن کا حق تو بناتا ہے۔ جمعہ کو ملک بھر میں 24 کروڑ عوام اس قادر مطلق ذات کے حضور سجدہ ریز ہو گئے جس نے ہاتھیوں کے لشکر کو ابابیلوں کی کنکریوں سے کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح تباہ کر دیا تھا۔ 10 مئی کو بھی یہی معجزہ رونما ہوا۔ بھارت پر اداسی کے گہرے بادل چھائے رہے۔ پانچ روز بعد پاگل مودی کو خیال آیا اور اس نے دس روزہ ترنگا یاترا کا اعلان کر دیا۔ یہ جشن نہیں سوگ کا اعلان تھا۔ سیز فائر مستقل نہ ہوا تو کیا ہو گا؟ مودی زخمی سانپ دوبارہ حملہ کرے گا یا پھر اسے اپنی تباہی کے آثار مٹانے اور مزید رائفل ڈرونز اور ایک اور وکرانت بنانے میں وقت لگے گا۔ روس، امریکا، فرانس اور اسرائیل نے اسلحہ 5 سال بعد 2030ء میں دینے کا کہا ہے۔ ہم اللہ کے فضل و کرم سے تیار ہیں۔ رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔
جنگ کے دوران خان تنہائیوں میں گم ہو کر رہ گئے۔ پی ٹی آئی کے مفرور مسخروں اور مقامی یوتھیوں نے قوم میں مایوسی پھیلانے کی کوشش کی یوں لگا جیسے پی ٹی آئی کانگریس اور بی جے پی کے بعد بھارت کی تیسری بڑی پارٹی ہے۔ لیکن جنگ میں فتح کے بعد اس کے چند لیڈروں نے فوج کی تعریف کی تاہم جنرل عاصم منیر کا نام حلق میں پھنس کر رہ گیا۔ ادھر خان نے بیرسٹر گوہر کے توسط سے سیاسی سیز فائر کی درخواست کی ہے اور حکومت سے پھر مذاکرات کی ہدایت کی ہے۔ کیا حاصل ہو گا؟ صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش، بنی گالہ آئیں گے نہ رہائی عمل میں آئے گی کسی نے ’’انہوں‘‘ سے سیاسی سیز فائر کے بارے میں پوچھا تھا وہ ہنس کر چپ ہو رہے۔
سرنڈر مودی کی دھمکیاں، ہم تیار، سیاسی سیز فائر
09:10 AM, 19 May, 2025