بھارت کی پاکستان کے خلاف دہشت گرد پراکسیز کے ذریعے گمراہ کن مہم بے نقاب

12:37 AM, 19 May, 2025

اسلام آباد:پاکستان کے خلاف بھارت کی ریاستی سطح پر منفی پروپیگنڈا مہم ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔ سال 2020 میں یورپی تحقیقی ادارے EU ڈس انفولیب کی رپورٹ نے بھارت کی جانب سے چلائی جانے والی ایک وسیع جعلی معلوماتی مہم کو بے نقاب کیا تھا، اور اب ایک مرتبہ پھر بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) نے اپنے زیر اثر میڈیا اور دہشت گردوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایک نئی ڈس انفارمیشن مہم شروع کر دی ہے۔

دہشت گرد کو تجزیہ نگار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش
بھارتی اخبار "دی سنڈے گارڈین"، جو حکمراں جماعت بی جے پی کا ترجمان تصور کیا جاتا ہے، ایک خطرناک اور مطلوب دہشت گرد احسان اللہ احسان کو بار بار اپنے صفحات میں جگہ دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ احسان اللہ احسان وہی مجرم ہے جو پشاور کے آرمی پبلک سکول حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، جس میں درجنوں معصوم بچوں کو شہید کیا گیا۔

اب اس دہشت گرد کو بھارت کی جانب سے چین اور افغانستان کے خلاف جھوٹے الزامات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے ایک نیا فالس فلیگ آپریشن شروع کیا جا سکے۔

"دی سنڈے گارڈین" کا پس منظر بھی متنازع
یہ جریدہ بی جے پی کے سابق رہنما ایم جے اکبر نے قائم کیا، جنہیں #MeToo تحریک کے دوران جنسی ہراسانی کے الزامات کے باعث وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اس پس منظر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ "دی سنڈے گارڈین" محض ایک سیاسی ہتھیار ہے، جو پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ تشکیل دینے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

بھارت کا منظم پروپیگنڈا نیٹ ورک
ذرائع کے مطابق، احسان اللہ احسان اس وقت افغان انٹیلی جنس (GDI) کی حفاظت میں ہے اور را کے پے رول پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور دہشت گردوں کو معلوماتی جنگ کا ہتھیار بنانا ہے۔ بھارت کی اس مہم میں درج ذیل طریقہ کار شامل ہے۔

مطلوب دہشت گردوں کو میڈیا پلیٹ فارم دینا،جھوٹے بیانیے گھڑنا،میڈیا کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا

دہشت گرد پراکسیز کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا،EU ڈس انفولیب رپورٹ: بھارت کی عالمی سطح پر بدنامی۔
EU ڈس انفولیب کی 2020 کی رپورٹ میں بھارت کے اس جعلی نیٹ ورک کا انکشاف کیا گیا تھا، جس میں 750 سے زائد جعلی میڈیا ادارے اور این جی اوز شامل تھیں، جو برسوں سے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہی تھیں۔ اب ایک بار پھر بھارت نے ایک دہشت گرد کو "تجزیہ نگار" بنا کر اپنی ڈس انفارمیشن مہم کو نئی شکل دی ہے۔

پاکستان کا واضح مؤقف
پاکستان کا ہمیشہ سے دوٹوک مؤقف رہا ہے کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتا ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، اور حالیہ دہشت گردی کی لہر، جس کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اس کے علاقائی سہولت کاروں کا ہاتھ ہے، کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا جا رہا ہے۔

عالمی برادری سے نوٹس لینے کی اپیل
ایک مطلوب دہشت گرد کو میڈیا میں جگہ دینا نہ صرف صحافتی اقدار کے خلاف ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی اس ریاستی سطح پر چلنے والی اطلاعاتی جنگ، اور دہشت گردوں کو میڈیا ہتھیار بنانے کی روش کا فوری نوٹس لے۔

مزیدخبریں