ریاض میں عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کا اجلاس، ایران کے حملوں کی مذمت

09:58 AM, 19 Mar, 2026

ریاض: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں خطے کی سلامتی اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر مبینہ حملوں کے خلاف حکمت عملی پر بات کی گئی۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اجلاس میں کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے اور ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے فوجی کارروائی کرنے کا حق محفوظ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی جائے گی۔

پاکستان کی نمائندگی اجلاس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کی، جنہوں نے زور دیا کہ تمام ممالک پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔ اجلاس میں آذربائجان، بحرین، شام، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات، کویت، اردن اور مصر کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں، تیل کے منصوبوں، سفارتخانوں اور عوامی مقامات پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ اعلامیے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے، حملے فوری بند کرے، خطے میں امن قائم کرے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

مزیدخبریں