کہا جاتا ہے کہ خواب انسانی جذبات سے لیکراحساسات اور تجربات کا محرک ہوتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک خواب تھا روحانیت کا، سکون کا، اور ایک ایسے معاشرے کا جہاں انسان مادیت سے بلند ہو کر کسی اعلیٰ سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہو۔ مگر جب یہ خواب حقیقت کی زمین پر قدم رکھتا ہے، تو اکثر اس کا انجام ایک بھیانک تصادم کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی کہانی ہے اس فرانسیسی شہری Valentin Hénault کے ’’بھارتی خواب‘‘ کی، جو دیکھنے میں جتنا دلکش تھا، حقیقت میں اتنا ہی بھیانک، پیچیدہ اور سفاک ثابت ہوا۔ بھارت کو صدیوں سے روحانیت، سادھوؤں، گنگا کے مقدس پانی اور ترکِ دنیا کے فلسفے سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ مغربی دنیا کے بہت سے افراد اس تصور کے اسیر ہو کر یہاں آتے ہیں، مگر جیسے ہی وہ اس چمکتی سطح کے نیچے جھانکتے ہیں، ایک ایسی حقیقت سامنے آتی ہے جو نہ صرف چونکا دینے والی ہے بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی بھی ہے۔اور یہ حقیقت غربت کی ہے، استحصال کی ہے، اور ایک ایسے سماجی ڈھانچے کی ہے جو صدیوں پرانے جبر کو آج بھی پوری شدت کے ساتھ زندہ رکھے ہوئے ہے۔
جب ایک غیر ملکی آنکھ بھارت کو دیکھتی ہے تو اسے سب سے پہلے تضادات نظر آتے ہیں۔ ایک طرف شاندار عمارتیں، ترقی کے دعوے، اور عالمی طاقت بننے کی خواہش، اور دوسری طرف بچے جو مقدس دریاؤں میں سکے تلاش کرتے ہیں، بوڑھے افراد جو جانوروں کی طرح بوجھ اٹھاتے ہیں، اور عورتیں جو سماجی منظرنامے سے تقریباً غائب ہیں۔یہ تضاد محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی بھی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روحانیت واقعی اس معاشرے کا بنیادی ستون ہے، تو پھر انسان کی یہ تذلیل کیوں؟ کیوں ایک انسان دوسرے انسان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہے؟ کیوں عزت اور وقار چند مخصوص طبقات تک محدود ہیں؟یہاں روحانیت ایک ایسا پردہ بن چکی ہے جس کے پیچھے استحصال، ناانصافی اور طبقاتی جبر کو چھپایا جا رہا ہے۔ جیسا کہ Valentin Hénault نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور قلمبند کیا۔
بھارت کا سب سے بڑا المیہ اس کا ذات پات کا نظام ہے، جو نہ صرف ایک سماجی ڈھانچہ ہے بلکہ ایک ایسی زنجیر ہے جو کروڑوں انسانوں کو صدیوں سے جکڑے ہوئے ہے۔ دلت ہونا صرف ایک شناخت نہیں، بلکہ ایک سزا ہے،ایک ایسی سزا جو پیدائش کے ساتھ ہی سنائی جاتی ہے اور موت تک جاری رہتی ہے۔یہ نظام کسی بیرونی طاقت کی غلامی نہیں بلکہ ایک اندرونی نوآبادیاتی نظام ہے، جہاں ایک طبقہ دوسرے طبقے پر مکمل غلبہ رکھتا ہے۔یہاں ترقی کے نام پر بننے والی سڑکیں، پل اور عمارتیں دراصل صرف اشرافیہ کے لیے ہیں، جبکہ نچلے طبقات آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ واقعی ترقی ہے؟ یا صرف ایک طبقے کی خوشحالی کا دوسروں کی قیمت پر جشن؟جیسا کہ Valentin Hénault نے اپنی تحریروں میں اجاگر کیا؟
اگر اس نظام کا سب سے بھیانک چہرہ دیکھنا ہو تو دلت خواتین کی زندگیوں پر نظر ڈالنا کافی ہے۔ یہ خواتین نہ صرف ذات پات کے ظلم کا شکار ہیں بلکہ صنفی امتیاز کا بوجھ بھی اٹھا رہی ہیں۔زیادتی، تشدد، قتل، اور انصاف سے محرومی، یہ سب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ریاستی ادارے، خصوصاً پولیس، اکثر ان مظالم میں یا تو خاموش تماشائی ہوتے ہیں یا براہِ راست شریک نظر آتے ہیں۔جب قانون ہی ظالم کے ساتھ کھڑا ہو جائے، تو مظلوم کے لیے انصاف کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ یہی تلخ مشاہدہ Valentin Hénault نے بھی پیش کیا۔ لہٰذا اس تاریکی میں اگر کوئی روشنی نظر آتی ہے تو وہ مزاحمت کی صورت میں ہے۔ سیما گوتم جیسے کردار اس بات کی علامت ہیں کہ ظلم جتنا بھی مضبوط ہو، اس کے خلاف آواز ہمیشہ اٹھتی ہے۔مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا چند افراد کی جدوجہد ایک پورے نظام کو بدل سکتی ہے؟یا یہ آوازیں بھی وقت کے شور میں دب کر رہ جائیں گی؟
جب کوئی فرد اس نظام کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ریاست کا ردعمل فوری اور سخت ہوتا ہے۔ ایک پُرامن مارچ، جو بنیادی حقوق کے لیے تھا، اسے طاقت کے ذریعے کچل دیا جاتا ہے۔ایک غیر ملکی مبصر کو ’’سیاسی سرگرمیوں‘‘ کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، اور پھر اس پر ایسے الزامات عائد کیے جاتے ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی سے زیادہ خطرناک چیز اس نظام کے لیے کوئی نہیں۔کیونکہ سچ وہ آئینہ ہے جس میں اس کا اصل چہرہ نظر آتا ہے۔گورکھپور جیل صرف ایک قید خانہ نہیں بلکہ بھارتی معاشرے کا ایک چھوٹا سا عکس ہے۔یہاں بھی وہی ذات پات، وہی مذہبی تقسیم، اور وہی طاقت کا عدم توازن موجود ہے۔قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، تشدد، اور بنیادی حقوق کی پامالی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنے کمزور شہریوں کے ساتھ کس حد تک بے رحم ہو سکتی ہے۔یہاں قانون نہیں بلکہ طاقت کا راج ہے، اور انصاف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
مغربی دنیا میں بھارت کو اکثر ایک روحانی جنت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر یہ تصویر ادھوری ہے بلکہ گمراہ کن ہے اور ایک ایسا بیانیہ ہے جو حقیقت کو نظر انداز کر کے ایک رومانوی تصور کو فروغ دیتا ہے۔ Valentin Hénault کی داستان واضح کرتی ہے کہ اصل بھارت وہ ہے جہاں ایک انسان کی قدر اس کی ذات سے طے ہوتی ہے، جہاں انصاف خرید و فروخت کی چیز ہے، اور جہاں ترقی کا مطلب صرف چند لوگوں کی خوشحالی ہے۔یہ کہانی صرف ایک فرد کے تجربے کی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی عکاسی ہے۔یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم بھی ایسے خوابوں کے اسیر ہیں جو حقیقت سے دور ہیں؟
بھارتی نظام کی سب سے بڑی کمزوری اس کی ناپختگی نہیں بلکہ اس کی ضد ہے،وہ ضد جو اسے اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے سے روکتی ہے۔جب تک ایک معاشرہ اپنے مسائل کا سامنا کرنے کے بجائے انہیں چھپانے کی کوشش کرتا رہے گا، اس وقت تک وہ حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔یہ ساری گفتگو کسی ملک یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کے خلاف ہے جو انسانیت کی بنیادی اقدار سے انحراف کرتا ہے۔کیونکہ آخرکار، ترقی کا اصل معیار سڑکیں اور عمارتیں نہیں بلکہ انسان کی عزت، انصاف اور برابری ہے۔اور جب یہ سب ناپید ہو جائیں، تو کوئی بھی خواب چاہے وہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، آخرکار ایک ڈراؤنے خواب میں بدل جاتا ہے۔
گورکھپور جیل سے مفلوج نظام کی عکاسی تک
09:01 AM, 19 Mar, 2026