"عدالتی حکم کی بے حرمتی برداشت نہیں کی جائے گی" : جسٹس اعجاز کا کاز لسٹ منسوخ کرنے پر شدید اعتراض

03:15 PM, 19 Mar, 2025

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے عمران خان سے ملاقات کے کیسز میں کاز لسٹ منسوخ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "کاز لسٹ منسوخ کرنے کے بجائے آپ میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اُڑا دیتے۔" ان ریمارکس کا اظہار اس وقت ہوا جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کے کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اسلام آباد ہائیکورٹ، سلطان محمود، پیش ہوئے۔ جسٹس اعجاز نے کیس کو دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "کیا آپ اس میں ملوث ہیں؟ اور کاز لسٹ کس کے کہنے پر منسوخ کی گئی؟" ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک جج کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے عدالتی ادارے کی عزت کا سوال ہے۔

جسٹس اعجاز نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے یہ کرنا تھا تو میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اُڑا دیتے، کم از کم ہم بنیادی سوالات پر کھڑے ہونے سے بچتے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ "اگر انصاف کا نظام اس طرح چلتا رہا تو عوام کا انصاف پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔"

اس دوران وکیل مشال یوسفزئی نے کہا اگر ہمارے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں کیا سلوک کیا جا رہا ہوگا؟" جس پر عدالت نے کہا، "ہمیں اپنے ادارے کی فکر ہو گئی ہے، گائیڈڈ میزائل آپ کی طرف جا رہا تھا، وہ اب ہماری طرف آ رہا ہے۔" اس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

مزیدخبریں