ٹریڈ سیاست میں نوجوان لیڈرشپ

09:39 AM, 19 Mar, 2025

لاہور چیمبر کے انتخابات برائے 2024ء کو تبدیلیوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو ٹریڈ سیاست میں سب سے بڑی تبدیلی نوجوانوں کا آگے آنا ہے ان انتخابات کے دوران تمام گروپس نے نوجوانوں کو سامنے لانے کا جو عزم کیا وہ بہت ہی قابل ستائش رہا اور اس نے بڑے مثبت اثرات چھوڑے اور لگتا ہے کہ بڑی لیڈرشپ نے بھی اس بات کا احساس کر لیا ہے کہ اب اپنے ہی گروپس کے اندر نوجوان ٹریڈرز کو بڑی جگہ دینا ہوگی اور ابھی سے تجربہ کار لیڈروں کے ساتھ وہ اپنے آنے والے کل کو جہاں محفوظ کر سکیں گے وہاں گروپ بڑے ویژن کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ موروثی سیاست اور موروثی خاندانی وراثتوں کی سیاست اب وقت گیا۔ نئی نسل کی سوچ، کام اور ان کے رویوں میں بڑی بات یہ دیکھنے کو ملی کہ وہ پرانے نظام سے بغاوت کرتے ہوئے آنے والے کل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مجھے دو بڑی خبریں سننے کو ملی۔ پہلی خبر یہ کہ یو بی جی کے چیئرمین ایس ایم تنویر نے ینگ یو بی جی کی بنیاد رکھ دی ہے اور ان کا یہ موقف کہ ہم کب تک رہیں گے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ میرے بعد کون؟ تو کیوں نہ ہم ابھی سے اپنے متبادل سامنے لے آئیںتاکہ ان کی سیاسی گرومنگ کی جائے۔ اب پورے پاکستان میں جتنے چیمبرز، ایسوسی ایشن اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر کے اندر جتنے بڑے ہیں ان کے بچے انہی کے کاروبار کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ وہی کل کے بڑے صنعت کار اور تاجر ہیں، کل ان کا ہے ۔ دوسری بڑی خبر اور تبدیلی پیاف میاں شفقت علی گروپ کے اندر بھی بڑی تبدیلی آئی  انہوں نے دو نوجوان لیڈروں مدثر مسعود اور راجہ وسیم حسن کو اختیارات سونپ کے بہت اچھا قدم اٹھایا اور دونوں نوجوان لیڈرآج کی ٹریڈ سیاست میں اپنی خوبصورت شناخت رکھتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان قیادت ہے جو بہت کچھ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتررہے ہیں اور دونوں کے ساتھ کی گئی گفتگو میں جس بات نے مجھے بہت متاثر کیا وہ یہ کہ یہ عہدوں کی جنگ نہیںبلکہ اب کام کرنے کا وقت ہے کیونکہ نوجوان کے مسائل نوجوان ہی حل کریں گے۔ ہمارے لئے ٹریڈ انتخابات چیلنج نہیں، ہمارا مقصد نوجوان تاجر کے دروازے پر جا کر اس سے نہ صرف دوستی کرنا بلکہ اس کو مثبت سیاست کی طرف لاتے ہوئے خوبصورت ٹریڈ ماحول دینا ہے۔ 
اگر تین چار سال پہلے ٹریڈ سیاست کے ماحول کو دیکھتے چلیں تو دو تین بڑے ٹریڈ گروپس کے اندر سے انہی کے بڑوں پر تنقید کے دروازے کھولے جا رہے تھے۔ خاص کر فائونڈر کے اندر سے موروثی سیاست، اختیارات کا نہ ملنا اور باریوں کی سیاست پر بہت لے دے ہو رہی تھی۔ پھر بدلتے حالات میں اب نوجوان خاموش نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاور کے فارمولے کو نوجوانوں پر لاگو کیا جائے لہٰذاسب سے پہلے علی حسام نے تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے اور فائونڈر کی موروثی سیاست کے خلاف آواز بلند کی اور پھر بہت کم عرصہ میں پائنیرز نے ٹریڈ سیاست پر ایسے قدم جمائے کہ اس نے اپنے وجود کے پہلے ہی انتخابات میں چھکا مار دیا۔ ابتداء میں لوگوں کا خیال تھا کہ علی حسام کوکم ازکم ٹریڈ کے دو انتخابات کے بعد جگہ مل سکے گی۔ یہ ایک مثال تھی اب پیاف گروپ نے اپنی ذمہ داری اور آنے والے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے نوجوانوں کو میدان میں اتارا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے انتخابات سے قبل کیا پیاف نوجوان قیادت کے ساتھ اپنی جگہ بنا پائے گی یا نہیں۔اور کیا وہ اپنی جماعت کے منشور اور ایسوسی ایٹ کلاس کے اندر کے ووٹر کو اعتماد میں لے پائے گی ابھی تھوڑا وقت لگے گا۔ 
وہ کیا خوب ناصر کاظمی نے کہا ہے کہ…
سو گئے لوگ اس حویلی کے
اک کھڑکی کھلی مگر کھلی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
کہتے ہیں کہ کامیابی کسی بھی انقلابی لیڈر میں ایسی کشش موجود ہوتی ہے جس کا مقابلہ کوئی بادشاہ بھی نہیں کر سکتا۔ انقلابی ہر وقت تحریک میں ہوتا ہے جبکہ شہنشاہ کو جہاں سمجھا جاتا ہے کہ وہ روایت کا امیر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اقتدار اور اختیار دونوں میں الجھا رہتا ہے وہ کبھی آگے کی نہیں سوچتا جبکہ انقلابی سر پر کفن باندھ کر اس سے بغاوت کر دیتا ہے۔ اس کی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ دے۔ میرے نزدیک موروثی سسٹم کو اب توڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ آج جب میں اپنے اردگرد نوجوان ٹریڈ لیڈران سے بات کرتا ہوں تو وہ بڑے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ آپ لاکھ علی حسام سے اختلاف کریں میرے بھی کچھ خدشات ہو سکتے ہیں مگر اس نے موروثی سیاست کے خاتمے کے لئے جو پہلا قدم اٹھایا وہ آنے والوں کے لئے اندھیروں میں روشنی کی پہلی کرن ہے میرے نزدیک فائونڈر میں ایک نہیں کئی نوجوان لیڈر ایسے ہیں جن کو آج پاور شیئر کریں وہ آج کے وقت کی مناسبت سے آنے والے کل کی لیڈرشپ میں بڑا رول ادا کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔ فائونڈر کے اندر ایک ہی تو اختلاف رہا ہے کہ یہاں پاور شیئرنگ کے فارمولے پر عملدرآمد نہیں ہوتا شاید یہی وجہ شکست بنی اور اگر فائونڈر کو آنے والے کل کو زندہ رکھنا ہے اوروہ سابقہ روایات کو توڑیں گے تو ایک بھرپور قوت بن کرابھرے گی۔ 
اور آخری بات… ملکی سیاست ہو یا ٹریڈ کا سیاسی ماحول۔ اس کا حسن جمہوریت کی نزاکتوں ہی میں نکھرا نکھرا لگتا ہے۔ ہمشہ وہی قیادتیں سرخرو ہوتی ہیں جو نوجوانوں کو تجربات میں ڈال کر اپنی ڈھال بناتی ہیں بہرحال ٹریڈ سیاست کے بڑے گھروں سے نوجوانوں کو آگے لانے کی بڑی خوشگوار ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ 

مزیدخبریں