چوپال میں آج نتھو اور پھتو کے درمیان بحث مباحثہ جاری تھا لیکن کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس بات پرسر کھپائی کررہے ہیں۔ ان دونوں کی بحث میں کوئی بھی الجھنا نہیں چاہتا تھا سب چپ سائیں کا انتظار کررہے تھے۔ اسی اثنا میں چپ سائیں کھنگورا مارتے ہوئے ، لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے اور سلام دعا کے بعد بیٹھ گئے۔ چپ سائیں کے آنے کی دیر تھی کہ چوپال میں سکوت طاری ہوگیا۔چاچا رفیق ہمت کرکے بولے سائیں جی آج نجانے نتھو اور پھتو میں کس بات پر بحث ہورہی تھی، دونوں کسی کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔۔۔۔ چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔ کیوں بھئی نتھو اور پھتو مسئلہ کیا ہے؟۔۔نتھو بولا سائیں جی۔۔۔ پھتو کہہ رہا تھاکہ تجارت اللہ سے بھی ہوتی ہے، میں بضد تھا کہ تجارت تو دنیاوی معاملہ ہے ، تم مجھ سے غلط بحث کررہے ہو۔۔۔۔چپ سائیں نے دونوں کو چپ کرایا اور تھوڑی دیر کے بعد بولے بچو آج میں تم لوگوں کو دنیا میں رہ کر اللہ سے تجارت کا مطلب سمجھاتا ہوں۔
چپ سائیں بولے نتھو پھتو وہ چوک میں شمس بھائی کی دال چاول کی دکان ہے، جانتے ہو وہ کتنی پرانی ہے؟۔نتھو اور پھتو نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ چپ سائیں بولے بچو وہ لگ بھگ پچیس تیس برس سے یہ کام کررہے ہیں۔ ان کے بچے خاصے پڑھے لکھے ہیں اور پوش علاقے میں ریسٹورنٹ کھولا ہوا ہے لیکن شمس بھائی اس دکان پر خود آتے ہیں اور بلاناغہ کام کرتے ہیں۔انہوں نے ایک ریڑھی پر تنہا یہ کام شروع کیا تھا اور آج ان کی دکان پر لگ بھگ ستر سے ورکرز ہیں اور ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟۔نتھو اور پھتوایک ساتھ بولے، مزیدار کھانا۔۔۔۔سائیں جی ہنسنے لگے اور کہا مورکھو۔۔۔۔! میں اب اصل بات یعنی ۔۔۔اللہ سے تجارت کی طرف آرہا ہوں۔
نتھو اور پھتو ہمہ تن گوش ہوئے۔۔۔۔ چپ سائیں گویا ہوئے۔۔ بچو!شمس بھائی نے پچیس تیس برس قبل جب یہ کام شروع کیا تو جب ریڑھی لے کر
آتے تو کام شروع کرنے سے قبل بیس پیالے دال چاول کے بالکل فری ضرورت مندوں میں بانٹتے۔۔۔ ان سے فری میں کھانے والے بیچارے مزدو ر اورمفلوک الحال ہوتے تھے جو پیٹ کی بھوک مٹاتے ، دعا کرتے اور چلے جاتے۔ شمس بھائی بیس پیالوں کے بعد کھاتہ کھولتے۔۔۔ رات کو جاتے ہوئے ان کے پاس اچھے خاصے پیسے ہوتے کہ وہ اچھی گزر بسر کرتے۔۔۔۔ دھیرے دھیرے وقت گزرتا گیا۔۔۔ شمس بھائی نے فری پیالوں کی تعداد بڑھانا شروع کر دی۔۔۔ لوگ قطار در قطار آتے رہے۔۔۔پھر کھاتہ کھل جاتا اور شمس بھائی کے برتن وقت سے قبل خالی ہونے لگے۔۔۔ آج ان کے بیٹوں نے پوش علاقے میں جو ریسٹورنٹ کھولا ہواہے۔۔۔ ان کابڑا بیٹا وہاںبھی رات کو جاتے ہوئے اپنے سارے ملازمین میں باقاعدگی سے کھانا بانٹتا ہے اور منیجر کو یہ تک حکم ہے کہ مخصوص اوقات میں فقرا کے برتن بھی خالی نہیں جانے چاہئیں۔۔۔شمس بھائی اور ان کے بیٹے اللہ سے تجارت کررہے ہیں۔
چپ سائیں نے کہاکہ اللہ سے تجارت ایک خوبصورت اور اہم تصور ہے جو اسلامی تعلیمات میں شامل ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کی تجارت اور عمل میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھے، اس کے بدلے میں اللہ کی نعمتیں اور رحمتیں حاصل کرے۔اللہ سے تجارت کرنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی نیک اعمال، عبادات، اور اپنی محنتوں کے ذریعے اللہ کے قریب جائے اور اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق گزارے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔صاـحبو!اس تجارت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان صدقہ، نماز، روزہ، اور دوسرے عبادات کے ذریعے اللہ کے ساتھ اپنی روحانی تعلق کو مضبوط کرتا ہے اور اس کے بدلے میں اللہ اسے دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا کرتا ہے۔
اللہ سے تجارت کا تصور اسلامی تعلیمات میں بہت گہرا اور وسیع ہے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اعمال، عبادات اور زندگی کے ہر پہلو کو اللہ کی رضا کے لیے ڈھالے۔ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف دنیاوی فائدے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ آخرت کی کامیابی اور اللہ کی خوشنودی ہونی چاہیے۔دوستو!اللہ سے تجارت کا ایک اہم طریقہ صدقہ دینا اور نیک عمل کرنا ہے۔اللہ سے تجارت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں دعا اور استغفار کرے۔حالات چاہے جیسے بھی ہوں، اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط رکھنا اور صبر سے کام لینا بہت اہم ہے۔اللہ نے اپنے بندوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو شخص اس کی رضا کے لیے عمل کرے گا، اللہ اسے دنیا و آخرت میں انعامات دے گا۔ اللہ سے یہ تجارت آخرت کی فلاح، جنت کی کامیابی اور دنیا میں سکون و برکت کا باعث بنتی ہے۔ ہر نیک عمل اور عبادت جو اللہ کے لیے کی جاتی ہے، وہ اس تجارت کا حصہ ہے، اور اللہ وعدہ کرتا ہے کہ اس کی رضا کے لیے کام کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں انعامات سے نوازا جائے گا۔
صاحبو! سچ یہ ہے کہ اگر آپ کسی غریب یا ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں، تو یہ اللہ سے تجارت ہے، اور اللہ اس کا بدلہ نہ صرف دنیا میں دیتا ہے بلکہ آخرت میں بھی انعام دیتا ہے۔صبر کرنا بھی اللہ سے تجارت کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کے مسائل، مشکلات اور مصائب پر صبر کرتا ہے اور اللہ کی رضا کے لیے تسلیم ہو جاتا ہے، تو اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔
اللہ سے تجارت کا اصل مقصد انسان کی روحانی ترقی اور اللہ کی رضا کی کوشش ہے۔ اس میں نیک اعمال، صدقہ، نماز، روزہ، دعا، صبر، اور ہر وہ عمل شامل ہے جو انسان اللہ کے نزدیک محبوب بننے کے لیے کرتا ہے۔
نتھو پھتو، شمس بھائی کی طرح معاشرے میں اور بھی بہت سی مثالیں ہیں ، اگر تم معمولات زندگی میں کامیاب لوگوں کو دیکھو تو سمجھ جائو کہ ان کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں بہت سے لوگوں کی دعائوں کا حصار ہے جو ان کی مشکلات کو ٹال دیتا ہے۔شمس بھائی جیسے لوگوں پر بھی مشکلیں امتحان کی صورت میں آتی ہیںلیکن اللہ سے کی ہوئی تجارت کی وجہ سے ٹل جاتی ہیں۔صاحبو اللہ ہمیں آسانیاں پیدا کرنے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے۔۔۔ باقی رہے نام صرف اللہ کا!
اللہ سے تجارت
09:37 AM, 19 Mar, 2025