نیشنل ایکشن پلان اور ہماری قومی سلامتی

09:35 AM, 19 Mar, 2025

سوویت یونین کی افواج کشی کے خلاف افغان مجاہدین کے جدوجہد آزادی کے لئے کئے جانے والے جہاد افغانستان کو نہ صرف عالم اسلام بلکہ اقوام مغرب نے بھی سپورٹ کیا تھا۔ پوپ جان پال نے اشتراکیت کو شیطان قرار دیا اور عیسائی اقوام کو اس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کی مدد کرنے کی تلقین کی۔ اسی دور (1979-89)میں عرب ممالک سے نوجوانوں کی کثیر تعداد یہاں جہاد میں حصہ لینے کیلئے آئی۔ فلسطینی شیخ محمد عبداللہ یوسف عزام بھی تشریف لائے اور انہوں نے عرب جوانوں کو منظم کیا، ان کی فکری و نظری تربیت کا بندوبست کیا اور پھر انہیں عملی جہاد میں شریک کیا۔ اسی دور میں القاعدہ تنظیم قائم کی گئی اور اسامہ بن لادن یہاں آیا۔ شیخ عبداللہ یوسف عزام اسے یہاں لے کر آئے اور پھر جو ہوا وہ ایک تاریخ ہے۔ جب دسمبر 79ء میں اشتراکی افواج کے افغانستان پر براہ راست حملہ آور ہونے کے بعد آزادی کی تحریک پھوٹ پڑی تو جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کے دروازے کھول دیئے۔ افغانی جوق در جوق یہاں مہاجر بن کر آنے لگے۔ روسیوں کے خلاف لڑنے والوں کے لئے پاکستان ایک محفوظ پناہ گاہ بن گئی۔ عبداللہ عزام انہی جہادی گروپوں کے سربراہان کو سعودی عرب لے کر گئے۔ ان کے درمیان اتحاد قائم کرایا، انہیں کعبتہ اللہ کے اندر لے جا کر اللہ کے حضور کھڑے کرکے ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملا کر اکٹھے رہنے کا معاہدہ کرایا لیکن یہ لوگ جدہ سے ابھی کراچی/ لاہور ہی پہنچے تھے کہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی شروع کر دی گئی۔ عبداللہ عزام کہا کرتے تھے کہ یہ افغانی خون و گوشت پوست کے بیوپاری ہیں۔ افغان مجاہدین کی جدوجہد آزادی کامیاب ہوئی۔ اشتراکی افواج فوجی شکست کا داغ لئے یہاں سے رخصت ہو گئیں۔ مجاہدین آپس میں لڑنے لگے، خانہ جنگی شروع ہو گئی، ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگے حتیٰ کہ طالبان ابھرے اور پھر پورے افغانستان پر دیکھتے ہی دیکھتے چھا گئے۔ 2001ء میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ان پر حملہ آور ہوا۔ 20سال تک مارا ماری کرنے کے بعد 2021ء میں وہ بھی فوجی شکست کا داغ لئے یہاں سے رخصت ہوگیا۔ طالبان نے اپنا وطن آزاد کرالیا۔ مجاہدین ہوں یا طالبان، افغانوں نے غیرملکی حملہ آوروں سے اپنے وطن کو آزاد کرایا۔ افغان جہاد کے دوران انجینئر گلبدین حکمت یار نے اپنی مجاہدانہ صفات کے باعث عالمگیر شہرت پائی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سینٹرل ایشیا کے مسلمان، ہم افغانوں سے زیادہ بہادر تھے۔ انہوں نے ہم سے زیادہ اشتراکی غلبے کے خلاف جدوجہد کی لیکن انہیں کوئی پاکستان میسر نہیں تھا، ان کے پاس محفوظ پناہ گاہ نہیں تھی جس کے باعث ان کی جدوجہد ناکام ہوئی اور وہ اشتراکی سلطنت میں ضم ہو گئے۔ پاکستان نے مجاہدین کی مدد کی وہ کامیاب ہوئے پاکستان نے طالبان کا ساتھ دیا جس کا اقرار امریکیوں نے بھی کیا۔ امریکی ہمیں الزام دیتے رہے کہ ہم امریکیوں سے ڈالر بھی لیتے ہیں اور طالبان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ طالبان شوریٰ اسی دور میں مشہور ہوئی، اسے کوئٹہ شوریٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دوحا مذاکرات کس نے ممکن بنائے؟ اگست 2021ء میں امریکی انخلاء اور کابل پر طالبان کے قبضے پر جشن فتح کیا ہم نے نہیں منایا تھا؟ ہمیں امید واثق تھی کہ امریکی شکست اور طالبان فتح کے بعد ہماری شمالی مغربی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ہماری امیدیں بر نہ آ سکیں۔ پاکستان لہو لہو ہے، دہشت گردی کا شکار ہے جس کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان ہو یا مجید بریگیڈ، داعش ہو یا خراسانی گروپ، سب پاکستان پر حملہ آور ہیں اور ان سب 20دہشت گرد گروپوں کی افغانستان میں موجودگی ثابت شدہ حقیقت ہے۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ طالبان حکومت بے بس ہے، انہیں کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ثابت ہو گیا ہے کہ ان سب دہشت گرد گروہوں کو طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ طالبان حکومت اس وقت ناصرف پاکستان بلکہ ایران، روس کے لئے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف طالبان حکومت نظر آ رہی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی اس وقت مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کیخلاف یہاں افغانستان میں مورچہ لگا کر پاکستان کیخلاف پراکسی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ ہماری مسلح افواج اس جنگ میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں لیکن ہم لہو لہو ہو رہے ہیں۔ ہمارا دشمن بھارت، ہمارے مسلمان بھائی طالبان حکومت کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف مورچہ زن ہو چکا ہے۔ اندرون ملک پھیلے افغان اور اس جنگ میں ففتھ کالمسٹ کے طور پر منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ افغان باشندوں کے لئے سرزمین پاکستان، مواقع کی جنت بنی ہوئی ہے۔ وہ یہاں کماتے ہیں، کھاتے ہیں، خوشحال زندگیاں گزارتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ہمیں گھورتے بھی ہیں۔ ہمارے دشمنوں کے سہولت کاروں کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ اس پر مستزاد، ایک سیاسی جماعت اور اس کی قیادت بھی ملکی اور قومی مفادات کے خلاف افواج پاکستان اور حکومت کیخلاف زہر اگل رہی ہے۔ پاکستان نازک حالات سے گزر رہا ہے اور ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے اس سے پہلے بھی ہم کئی ایسی مشکلات، لمحات کا شکار ہوئے تھے لیکن ہم نے کامیابی حاصل کی۔ اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ نیشنل ایکشن پلان ٹو کے ذریعے ہم اپنے دشمنوں کا قلع قمع کر دیں گے۔ ان شاء اللہ ۔

مزیدخبریں