وطن عزیز اس وقت حقیقی معنوں میں اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ سانحہ تھری الیون یعنی گیارہ مارچ کو جعفر ایکسپریس پر ہونیوالے حملہ نے ملک وقوم کو درپیش سنگین خطرات کی نشاندہی کر دی ہے۔ترجمان پاک فوج نے بالکل درست کہاکہ اس واقعہ نے رولز آف دی گیم تبدیل کر دیئے ہیں۔ قبل ازیں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں مولانا حامد الحق حقانی کی شہادت اور گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران نامور علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ حالات کی سنگینی اور دشمن کے اندرونی طور پر حملہ آورہونے کی عکاسی کر رہی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت نے قیام پاکستان کو آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ اس کی سلامتی کیخلاف مسلسل سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ ہندو رہنماچاہتے تھے کہ ہندوستان تقسیم نہ ہو وہ اسے’’ بھارت ماتا‘‘کہتے تھے‘ ان کی خواہش تھی کہ انگریز کے اس خطہ سے چلے جانے کے بعد وہ اس پورے خطہ پر حکمران بن جائیں اور مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ لیں۔ قیام پاکستان سے دس برس قبل 1937ء کے انتخابات کے بعد ہندوستان کے بعض صوبوں میں کانگریس کی حکمرانی مسلمانوں کیلئے ڈرائونا خواب ثابت ہو چکی تھی۔ مسلمانان برصغیر نے اپنے اسلامی تشخص کی حفاظت کیلئے الگ اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کیا، اگست 1947ء کو پاکستان بن گیا تو اسے اس کا پورا حصہ بھی نہ دیا گیا۔ قائداعظم کے بصیرت افروز ذہن نے یہ بھانپ لیا تھا کہ ملکی دفاع مضبوط کیے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ایسا پاکستان لینے سے انکار کر دیا تھا کہ جس میں فوج نہ ہو۔ برطانوی حکمران تقسیم ہند کے وقت فوج کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے تھے مگر قائداعظم کے آہنی عزم کے سامنے کانگریس کی سازش اور انگریز کی خواہش دم توڑ گئی۔ پاکستان کے حصے میں آنے والی فوج اور فوجی ساز و سامان اگرچہ بہت کم تھا لیکن پاک فوج کا عزم و حوصلہ بلند تھا۔ فوج کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قائداعظم نے پاکستان میں کاکول ملٹری اکیڈمی قائم کرائی جس میں 26جنوری 1948ء کو پہلے کورس کا آغاز ہوا۔ قائداعظم نے 23 جنوری 1948ء کو کراچی میں بحریہ کے جہاز دلاور کے افتتاح کے موقع پر خطاب میں فرمایا کہ ’’آپ اپنی تعداد کم ہونے پر نہ جایئے اس کمی کو آپ کو اپنی ہمت و استقلال اور بے لوث فرض شناسی سے پورا کرنا پڑے گا کیونکہ اصل چیز زندگی نہیں ہے بلکہ ہمت‘ صبر و تحمل اور عزم صمیم ہیں جو زندگی کو بنا دیتے ہیں۔ پاکستان کے دفاع کو مضبوط سے مضبوط بنانے میں آپ میں سے ہر ایک کو اپنی جگہ انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اس لیے آپ کا یہ نعرہ ہونا چاہئے ’’ ایمان‘ تنظیم اور ایثار‘‘۔ 14 جون 1948ء کو کوئٹہ میں سٹاف کالج کے افسران سے خطاب میں آپ نے فرمایا ’’پاکستان کی دیگر ملازمتوں کے مقابلے میں دفاعی افواج کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور اسی نسبت سے آپ کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں ۔ میں نے جو کچھ دیکھا ہے اور معلوم کیا ہے اس کی بنا پر بلاشبہ کہہ سکتا ہوں کہ ہماری افواج کے حوصلے بلند ہیں‘ ان کی ہمتیں بلند ہیں اور سب سے زیادہ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہر افسر اور سپاہی سچے پاکستانی کی طرح کام کر رہا ہے۔‘‘ قیام پاکستان کے وقت بے سروسامانی کے باوجود پاک فوج نے تدبر‘ ہمت اور مجاہدانہ جذبے سے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ پاکستان کیلئے ہجرت کرنے والے قافلوں کو بھی بحفاظت پاکستان پہنچایا اور انہیں یہاں آباد کیا۔ جس قافلے کے ساتھ پاک فوج کے جوان ہوتے کسی کو ان پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ لاکھوں بے بس مردوں‘ عورتوں اور بچوں کی جانیں بچائیں۔ بیماروں اور زخمیوں کو سنبھالا اورماں باپ سے بچھڑے ہوئے بچوں کو آپس میں ملایا۔اُس وقت لاکھوں مہاجرین پاک فوج کے جوانوں کو یہ کہہ کر خراج تحسین پیش کرتے نظر آئے ’’پھر بلوچ رجمنٹ کے جوان پہنچ گئے جو ہمیں پاکستان لے آئے‘‘ اور ’’پنجاب رجمنٹ کے بہادر مجاہدوں کو دیکھ کر ہمارے حوصلے بلند ہو گئے‘‘۔ پاک فوج کی خدمات کا اعتراف دشمنوں نے بھی کیا۔
قیام پاکستان کے وقت ہندو رہنما برملا کہتے تھے کہ پاکستان چھ ماہ سے زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گا اور یہ خود بھارت سے آملے گا۔ جب ان کی خواہشوں پر اوس پڑی اور پاکستان ترقی کی منازل طے کرنے لگا تو وہ مختلف طریقوں سے پاکستان کیخلاف زہر اگلنے لگے ۔پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے سازشوں کا جال بُننے لگے ‘ماضی میں ملکی سلامتی کیخلاف کی جانیوالی کئی بھارتی سازشیں بے نقاب بھی ہو چکی ہیں۔کلبھوشن یادیو کی پاک سرزمین سے گرفتاری اور اس کے انکشافات صیغۂ راز نہیں ہیں۔ پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور دشمن جانتا ہے کہ پاکستان کو عسکری میدان میں زیر کرنا ممکن نہیں رہا لہٰذا اب وہ ففتھ جنریشن وار کا سہارا لے رہا ہے جس کا سوشل میڈیا ایک اہم ہتھیار ہے۔ اب وہ ہماری بہادر افواج کیخلاف زہریلا پراپیگنڈہ کر رہا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں موجود بعض ناسمجھ لوگ دشمن کی زبان بول کر بے بنیاد پراپیگنڈہ کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کی یادداشت کیلئے عرض ہے کہ یہ پاک فوج ہی جس کے دم سے ملک کا وجود ابھی تک قائم ودائم ہے ۔ اگر یہ فوج نہ ہوتی تو یقین کریں ہمارا حال بھی عراق، شام اور لیبیا جیسا ہونا تھا۔ پاکستان کی افواج کا شمار دنیا کی بہادر اور بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ پاک فوج نے ہر کڑے وقت میںملک وقوم کی مدد کی ہے۔ ہمارے جری جوان شہادت کا عزم لیے سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ’’ایمان ،تقویٰ ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘ جس فوج کا ماٹو ہے اسے دنیا کی کوئی قوت شکست نہیں دے سکتی اور یہ ماٹو رکھنے والی دنیا کی واحد فوج ہے ۔آپ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں اور محب وطن حلقوں کو دیکھ لیں وہ ہمیشہ پاک فوج کے ساتھ کھڑی نظر آئیں گی کیونکہ انہیں یقین ہے کہ پاک فوج ملک وقوم کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ دشمن ہماری بہادر افواج سے خوفزدہ ہے ‘آپ جانے یا انجانے میں دشمن کے بیانیہ کو پروموٹ نہ کریں بلکہ پاک فوج کے دست وبازو بنیں اور ملکی سلامتی کیخلاف ہر سازش کو ناکام بنا دیں۔
جہاد فی سبیل اللہ ،پاک فوج کا ماٹو
09:35 AM, 19 Mar, 2025