اسرائیل۔حزب اللہ تنازع میں اہم پیش رفت، جنگ بندی کا اعلان

11:08 PM, 19 Jun, 2026

بیروت/واشنگٹن: لبنان میں کئی روز سے جاری شدید جھڑپوں کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگی سرگرمیاں روکنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق جمعہ کے روز سے فائر بندی نافذ العمل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔

امریکی ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدہ صورتحال کے بعد مختلف سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریقوں نے لڑائی بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب لبنان میں اسرائیلی حملوں سے جانی نقصان میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی علاقوں میں ہونے والی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد شہری زخمی ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ سے متعلق متعدد مراکز، فوجی تنصیبات اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق کارروائیوں میں حزب اللہ کے متعدد ارکان مارے گئے، جبکہ حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی دستوں پر راکٹ اور مارٹر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر اسرائیل نے اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ فوجی حکام کے مطابق ایک بکتر بند گاڑی پر مشتبہ ڈرون یا میزائل حملہ ہوا جس کے نتیجے میں یہ جانی نقصان پیش آیا۔

دریں اثنا، سوئٹزرلینڈ میں متوقع امریکا۔ایران مذاکرات بھی مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مذاکراتی ماحول کو متاثر کیا، جبکہ ایران نے واضح کیا کہ مکمل جنگ بندی کے بغیر سفارتی عمل کو آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔

ایران کے ترجمانِ خارجہ اسماعیل بقائی نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی اور افواج پر حملوں کا بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حزب اللہ کو اپنی کارروائیوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی، جبکہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں ضرورت کے مطابق اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود خطے کی صورتحال بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ پائیدار امن کے لیے تمام فریقوں کو سفارتی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

مزیدخبریں