اس شام سورج ڈوبتے ڈوبتے میرے گھر کے صحن میں ایک عجیب سی اداسی اتار گیا تھا۔ میری بیٹی عضب جمشید اپنی میز پر جھکی اسکول کا کام کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر معصومیت کی وہی روشنی تھی جو ہر بیٹی کے چہرے پر ہوتی ہے؛ وہ روشنی جسے دیکھ کر باپ اپنی ساری تھکن بھول جاتا ہے۔ مگر آج میں بار بار اسے دیکھ رہا تھا۔ اتنی بار کہ شاید اس نے بھی محسوس کر لیا تھا کہ اس کے ابو کی نگاہیں کسی اور دنیا میں کھوئی ہوئی ہیں۔وجہ صرف یہ تھی کہ چند روز پہلے میں نے ایک اور بچی کا چہرہ دیکھا تھا۔ہانیہ کا چہرہ۔وہ تصویر محض ایک تصویر نہیں تھی، ایک سوال تھا۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب کسی سرکاری فائل، کسی پریس ریلیز اور کسی پریس کانفرنس کے پاس نہیں تھا۔ بچے پھول ہوتے ہیں، مگر بیٹیاں تو دعا ہوتی ہیں۔ وہ دعائیں جو ماں باپ کی جھولی میں اترتی ہیں اور پھر عمر بھر ان کے دل میں بسی رہتی ہیں۔ بیٹیاں باپ کے بڑھاپے کا سہارا اور اُس کے جنازے کی وارث ہوتی ہیں۔ مگر ہانیہ کے والدین کے نصیب میں یہ لکھا تھا کہ وہ دیارِ غیر سے حج کی سعادت حاصل کرکے اپنے وطن لوٹیں اور ان کی بیٹی ان کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسے واقعے کی نذر ہو جائے جسے سن کر انسانیت کا سر جھک جائے۔
یہ خاندان آسٹریلیا کے شہر پرتھ سے آیا تھا۔ وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ سرزمین ان کے بچوں کے لیے محفوظ ہوگی مگر بعض اوقات انسان اپنے گھر میں بھی اجنبی ہو جاتا ہے۔اس واقعے کے بعد ایک پریس کانفرنس ہوئی۔مائیکروفون لگے ہوئے تھے۔ کیمرے روشن تھے۔ وردیاں استری شدہ تھیں۔ الفاظ ترتیب سے بولے جا رہے تھے۔ بتایا جا رہا تھا کہ کیا ہوا، کیوں ہوا، کیسے ہوا۔ بعض افسوس کے جملے بھی ادا کیے گئے۔ معذرت کے اشارے بھی دیے گئے۔ لیکن مجھے پوری پریس کانفرنس کے دوران ایک چیز غائب محسوس ہوئی۔وہ تھی ہانیہ جو کہیں نہیں تھی۔وہ بچی جس کی ہنسی ہمیشہ کے لیے اعداد و شمار اور وضاحتوں کے درمیان گم ہو چکی تھی۔ جیسے کسی رپورٹ کے حاشیے میں درج ایک معمولی نوٹ ہو۔میں سوچتا رہا، کیا انسانی جان کی قیمت چند رسمی جملے ہیں؟کیا ایک ماں کی چیخ کو کسی سرکاری وضاحت میں سمویا جا سکتا ہے؟کیا ایک باپ کے ٹوٹے ہوئے دل کا ازالہ چند افسوس ناک الفاظ سے ہو سکتا ہے؟اگر معافی ہی کافی ہوتی تو دنیا کی عدالتیں بند ہو جاتیں۔ اگر ”سوری“ انصاف ہوتی تو جیلوں کے دروازے کھول دیے جاتے اور قاتلوں سے کہا جاتا کہ وہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرکے گھر چلے جائیں۔مگر دنیا اس طرح نہیں چلتی۔انصاف صرف افسوس کا نام نہیں، جواب دہی کا نام ہے۔
اس رات میں دیر تک جاگتا رہا۔ میرے سامنے عضب بیٹھی تھی مگر میری آنکھوں کے سامنے ہانیہ کا چہرہ آتا رہا۔ میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا، پھر ہانیہ کو یاد کیا۔ پھر اپنی بیٹی کو دیکھا، پھر ہانیہ کو یاد کیااور میری آنکھیں بھیگ گئیں۔مجھے اچانک چند ماہ پہلے کا ایک منظر یاد آ گیا۔میں چوک پرانی انارکلی میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ زندگی اپنی معمول کی رفتار سے چل رہی تھی ۔ فیملیاں آ جا رہی تھیں ¾ یوسف فالودے والے کی دکان پر گاہکوں کا رش تھا ¾ لوگ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر اپنے بیوی بچوںکے ساتھ آئے تھے کہ اچانک گولیوں چلنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ بازار میں خوف دوڑ گیا۔ پہلے میں سمجھا کہ کوئی طالبانی بلا حملہ آو ر ہوئی ہے ¾ اس دن کوئی گولی مجھے یا میرے دوستوں کو نہیں لگی لیکن جہاں روز گولیاں چلتی ہوں وہاں انسان کب تک محفوظ رہ سکتا ہے؟ اس دن میں نے ایک عجیب حقیقت سیکھی تھی۔کچھ لوگ حادثات میں مر جاتے ہیںاور کچھ لوگ حادثاتی طور پر زندہ رہ جاتے ہیں۔ہم شاید انہی دوسری قسم کے قبیلے کے لوگ تھے ۔ ہانیہ کی موت صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں، ہم سب کیلئے وجہ ءماتم ہے کیونکہ جب گولی چلتی ہے تو وہ شناختی کارڈ نہیں دیکھتی۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ سامنے والا مجرم ہے یا مسافر، ملزم ہے یا بچہ، پاکستانی ہے یا آسٹریلوی شہری۔وہ صرف جان لیتی ہے۔پھر مجھے ساہیوال سانحہ یاد آیا۔وہ گاڑی، وہ بچے، وہ ماں باپ، وہ خون، وہ چیخیں۔اس وقت بھی قوم نے سوال پوچھے تھے۔اس وقت بھی وضاحتیں دی گئی تھیں۔اس وقت بھی وعدے کیے گئے تھے۔اور پھر وقت گزر گیا۔مگر جن گھروں کے چراغ بجھتے ہیں، ان کے لیے وقت کبھی نہیں گزرتا۔میں سوچتا ہوں کہ آخر وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب ریاست اپنے شہری سے دور ہو جاتی ہے؟ شاید وہ لمحہ جب عوام کے دل سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ جب لوگ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کی جان کی قیمت کسی فائل کے کاغذ سے زیادہ نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں دشمنوں سے کم اور اپنے شہریوں کے اعتماد کے ٹوٹنے سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔خوف کا ماحول صرف انسانوں کو نہیں مارتا، امیدوں کو بھی مار دیتا ہے۔ پرندے موسم خراب ہونے پر ہجرت کر جاتے ہیں، مگر انسان کہاں جائے؟ وہ تو اپنے ہی گھروں میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ہانیہ کی تصویر اب شاید بہت سے لوگوں کے ذہن سے محو ہو جائے گی۔ نئی خبریں آ جائیں گی، نئے موضوعات جنم لے لیں گے، نئے تنازعات کھڑے ہو جائیں گے۔مگر میرے لیے ایسا نہیں ہوگا۔کیونکہ میرے گھر میں ایک چلتی پھرتی ہانیہ کی ہم شکل موجود ہے۔میری بیٹی عضب جمشید مسکراتی ہے تو مجھے ہانیہ یاد آتی ہے۔جب وہ اسکول بیگ اٹھاتی ہے تو مجھے ہانیہ یاد آتی ہے۔جب وہ اپنے مستقبل کے خواب بیان کرتی ہے تو مجھے ہانیہ یاد آتی ہے۔اور میں سوچتا ہوں کہ اگر اس دن قسمت کا فیصلہ ذرا سا مختلف ہوتا تو شاید کسی اور باپ کی جگہ میں کھڑا ہوتا۔شاید آج میری دنیا اجڑی ہوئی ہوتی۔شاید آج میرے گھر میں خاموشی بول رہی ہوتی۔شاید آج میں اپنی بیٹی کے کمرے کا دروازہ کھول کر خالی کرسی کو دیکھ رہا ہوتا۔اس لیے ہانیہ میرے لیے صرف ایک نام نہیں رہی۔وہ ہر اس بیٹی کا استعارہ بن گئی ہے جو محفوظ ہونی چاہیے تھی۔ہر اس خواب کا استعارہ جو زندہ رہنا چاہیے تھا۔خدا کرے کہ اس ننھی روح کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ خدا کرے کہ اس کے والدین کو صبر عطا ہو۔ خدا کرے کہ اس معاشرے میں اتنا حوصلہ پیدا ہو کہ وہ سوال پوچھ سکے، جواب مانگ سکے اور انصاف کا مطالبہ کر سکے۔ورنہ یاد رکھیں، اگر آج ہانیہ محفوظ نہیں تھی تو کل کوئی اورہانیہ بھی محفوظ نہیں ہوگی۔نہ میری بیٹی ¾نہ آپ کی اور نہ اس سرزمین کا مستقبل۔
رات گہری ہو رہی ہے۔ عضب اپنا کام مکمل کرکے سو چکی ہے۔ میں اس کے کمرے کے دروازے پر کھڑا ہوں۔ اس کے چہرے پر سکون ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ دنیا کی ہر بیٹی کو ایسا ہی سکون نصیب ہو۔
پھر میری نگاہ آسمان کی طرف اٹھتی ہے اور دل کے کسی ٹوٹے ہوئے گوشے سے ایک جملہ نکلتا ہے:
”ہانیہ میری بچی ! مجھے معاف کرنا، میں تمہارے لیے اتنا ہی کر سکتا تھا۔“
ہانیہ بیٹی !مجھے معاف کرنا
09:09 AM, 19 Jun, 2026